fbpx

کشمور سے گھوٹکی تک قومی شاہراہ پر موت کارقص

باغی ٹی وی :کشمور سے گھوٹکی تک قومی شاہراہ پر موت کارقص،اب ڈرائیور اغواء ہونے لگے،ڈاکوتاوان کیلئے ویڈیوز وائرل کرنے لگے،
عوامی حلقوں کاکہناہے جب تک پولیس میں ڈاکوؤں کے سہولت کارموجود ہیں اس وقت تک کوئی اپریشن کامیاب نہیں ہوسکتا ،چاہے گورنمنٹ جتنا بھی زور لگالے. بدامنی اورڈاکو راج برقرار رہےگا۔ پولیس کی کالی بھیڑوں کی وجہ سے جرائم کی شرح بڑھتی جارہی ہے
تفصیل کے مطابق سندھ پولیس نے عوم کوکچے کے ڈاکوؤں کے رحم وکرم پرچھوڑ دیا ہے جو کہ سندھ پولیس کی بہت بڑی ناکامی ہے۔ ایک جانب شاہراہوں سے گزرنے والوں کو اغوا کرکے تاوان لیا جارہا ہے تو دوسری طرف قومی شاہراہ کشمور سے گھوٹکی تک ’’علاقہ غیر‘‘ میں تبدیل ہو چکی ہے۔ انٹرسٹی کوچوں، بسوں کو لوٹا جارہا ہے۔ ٹریلر اور مال بردار گاڑیوں، آئل ٹینکرز کے ڈرائیوروں کو اغوا کیا جارہا ہے۔ آئل ٹینکرز کے بعد مال بردار گاڑی کے ڈرائیور کے قتل اور دوسرے واقعہ میں اغوا ہونے والے ڈرائیور کی بازیابی کے لئے احتجاج کیاجارہاہے۔ ادھر اطلاعات ہیں کہ سندھ میں ڈاکو راج کے خلاف جدید آلات سے آپریشن کی تیاریاں کی جارہی ہیں اور اس حوالے سے جدید ہتھیار، ڈرون اور دیگر آلات بھی خریدے جارہے ہیں۔عوامی حلقوں کاکہناہے جب تک پولیس میں ڈاکوؤں کے سہولت کارموجود ہیں اس وقت تک کوئی اپریشن کامیاب نہیں ہوسکتا ،چاہے گورنمنٹ جتنا بھی زور لگالے. بدامنی اورڈاکو راج برقرار رہےگا۔ پولیس کی کالی بھیڑوں کی وجہ سے جرائم کی شرح بڑھتی جارہی ہے۔ اسی لئے سندھ میں کچے کے علاقے کے ڈاکوؤں نے قتل و غارت اور لوٹ مار بڑھادی ہے۔ قومی شاہراہ پر راتوں کو ناکے لگاکر لوگوں کو لوٹا جا رہا ہے۔ اغوا کرکے تاوان کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
قومی شاہراہ پر مورو سے کشمور اور کندھ کوٹ گھوٹکی تک ان ڈاکوئوں کا راج ہے۔ ان کا ٹارگٹ زیادہ تر انٹرسٹی کوچیں، بس اور آئل ٹینکر کے علاوہ مال بردار گاڑیاں ہیں۔ گزشتہ دنوں سکھر کے قریب انٹرسٹی کوچ کو لوٹا گیا۔ جس پر متاثرہ مسافروں نے قومی شاہراہ پر دھرنا دیا تھا۔ کوچوں بسوں میں لوٹ مار کا سلسلہ بڑھنے کے باوجود موٹر وے پولیس اور مقامی پولیس واقعات کی پردہ پوشی کر رہی ہے۔
رواں ماہ 5 دسمبر کو کشمور کے مقام پر کراچی سے پشاور جانے والے آئل ٹینکر کو روکا گیا اور ڈرائیور عمران آفریدی کو اغوا کرلیا گیا تھا۔ اس کی تشدد کرتے ہوئے وڈیو اس کے اہل خانہ کو بھیج کر 2 کروڑ تاوان مانگا گیا تھا۔ جس کے بعد آئل ٹینکرز اونر ایسوسی ایشن نے ملک بھر میں تیل کی سپلائی بند کرنے کی دھمکی دی تھی۔ جبکہ رہنمائوں نے ڈرائیوروں کے ساتھ مل کر بلاول ہاؤس کراچی پر دھرنا دیا تھا کہ ڈرائیور کو بازیاب کرایا جائے اور دیگر کو تحفظ دیا جائے۔ بالآخر 22 دسمبر کو گھوٹکی پولیس نے عمران آفریدی کے رشتے داروں کو بلوایا اور عمران آفریدی کو ان کے حوالے کردیا۔ ڈرائیور کو کس طرح بازیاب کرایا گیا۔ اس حوالے سے نہیں بتایا گیا۔ جبکہ اگلے روز مال بردار ٹریلر کو کندھ کوٹ کے مقام پر روکنے کی کوشش کی گئی اور نہ رکنے پر ڈرائیور کو فائرنگ کرکے زخمی کردیا گیا۔ جو نواب شاہ کے اسپتال میں لے جانے کے دوران چل بسا۔ اس کا تعلق صادق آباد سے تھا۔ ابھی اس پر مال بردار گاڑیوں والے احتجاج کر رہے تھے کہ تین روز قبل پشاور سے کراچی آنے والے مال بردار ٹرالر کے ڈرائیور نعمان خان کو اغوا کرکے ڈاکو ہمراہ لے گئے۔
اس واقعہ کے بعد کراچی میں گڈز کیریئر ایسوسی ایشن نے شدید ردعمل دیا اور سندھ حکومت اور پولیس سے مطالبہ کیا کہ نعمان کو بازیاب کرایا جائے اور مال بردار گاڑیوں کو تحفظ فراہم کیا جائے۔ ورنہ ملک بھر میں مال کی ترسیل روک دی جائے گی۔
کراچی گڈز کیریئر ایسوسی ایشن کے سینیئر وائس صدر ملک شبیر خان کا کہنا ہے کہ ’’آج جمعہ کو پولیس اور سندھ حکومت کو دی گئی ڈیڈ لائن ختم ہوجائے گی اور آئندہ کا لائحہ عمل دیا جائے۔ ڈاکوئوں نے کشمور سے سکھر گھوٹکی تک ایک بار پھر قومی شاہراہ کوعلاقہ غیربنا بنادیا ہے۔ اگر ٹھوس اقدامات نہ کیے گئے تو مال بردار گاڑیوں کا نیٹ ورک چلانا مشکل ہوجائے گا۔گذشتہ رات بھی کشمور کے قریب بخشاپور کے قریب قومی شاہراہ ڈاکو گن پوائنٹ پرٹرکوں اور بسوں کوروک لوٹتے رہے ،اس دوران پولیس سے مڈبھیڑ اور فائرنگ کے تبادلہ میں ایک ڈکیت30 لاکھ سرقیمت والا بدنام زمانہ ڈاکوؤں کا سربراہ شریف بنگوار ساتھی سمیت ہلاک ہوگیاجبکہ دیگر ڈاکو فائرنگ کرتے ہوئے کچے کی طرف فرار ہو گئے ہیں ڈاکوؤں کی فائرنگ سے ٹرک ڈرائیور شدید زخمی ہو گیا جسے ہسپتال منتقل کر دیا گیا .