fbpx

کشتی الٹنے کا واقعہ، پاک فوج کے دستوں اور ایس ایس جی کے غوطہ خوروں کاسرچ آپریشن جاری

پاک فوج کے دستوں نے ایس ایس جی کے غوطہ خوروں کے ساتھ مل کر رحیم یار خان کی تحصیل صادق آباد کے قریب دریائے سندھ میں 100 افراد سے بھری کشتی الٹنے کے بعد لاپتہ ہونے والے باقی افراد کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن جاری رکھا ہوا ہے۔

چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کی خصوصی ہدایات پر پاک فوج نے فوری ردعمل کرتے ہوئے ایس ایس جی کمانڈوز کے غوطہ خوروں، آرمی میڈیکل ٹیم، آرمی فیلڈ انجینئرز، دیگر امدادی دستوں اور حصہ لینے کے لیے مطلوبہ سامان کے ساتھ ریسکیو ٹیم کو روانہ کیا۔

سرچ آپریشن میں سول انتظامیہ کی جانب سے موصول ہونے والی اطلاع کے مطابق کشتی پر تقریباً 94 افراد سوار تھے جن میں سے 45 افراد کو بچا لیا گیا۔ پاک فوج کی جانب سے جاری سرچ آپریشن کے دوران دریا سے اب تک 27 افراد کی لاشیں نکالی جا چکی ہیں جب کہ 22 لاپتہ افراد کی تلاش کا کام تاحال جاری ہے۔

قبل ازیں دریائے سندھ میں کشتی ڈوبنے کے المناک سانحے میں جاں بحق 26 افراد کو سندھ میں مچھکے کے قریب آبائی گاؤں حسین بخش سولنگی میں سپرد خاک کر دیا گیا-

باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق نماز جنازہ میں قبیلے کے سربراہ سردار عباس خان سولنگی نے شرکت کی انہوں نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ کم از کم 26 افراد کی نماز جنازہ آبائی قبرستان میں ادا کی گئی ہے، جن افراد کی نماز جنازہ ادا کی گئی ان میں 2 بچے اور ایک خاتون بھی شامل تھی۔

سردار عباس خان سولنگی نے سندھ اور پنجاب کی حکومتوں سے معاوضے کا مطالبہ کیا، انہوں نے دونوں صوبائی حکومتوں کو علاقے میں پلوں کی تعمیر میں ناکامی کا ذمہ دار قراردیا جس کی وجہ سے لوگ پار کرنے کے لیے لکڑی کی خستہ حال کشتیوں کا استعمال کرنے پر مجبور ہیں۔

کشتی ڈوبنے کے واقعے کے ایک دن گزر جانے کے باوجود 27 افراد لاپتا ہیں رحیم یار خان کے ڈپٹی کمشنر کے مطابق منگلا سے پاک فوج کے 18 غوطہ خوروں کی ایک ٹیم بھی امدادی کارروائی میں حصہ لینے کے لیے رحیم یار خان پہنچ گئی ہے۔

واضح رہے کہ یہ حادثہ پیر کے روز پیش آیا تھا شادی کی تقریب میں شرکت کےبعد لوگ 2 کشتیوں میں سوار ہو کر اپنے گاؤں ماچکے واپس آرہے تھے کہ ایک کشتی اوور لوڈ ہو گئی تھی الٹنے والی کشتی میں 40 سے 45 مسافروں کی گنجائش تھی جب کہ حادثے کے وقت اس میں 95 مسافر سوار تھے-

جس کے باعث ایک تختہ ٹوٹنے کے بعد کشتی الٹ گئی ڈوبنے والوں میں ایک ہی خاندان کے 8 افراد بھی شامل تھے جب کہ ڈوبنے والے تمام لوگوں کا تعلق سولنگی قبیلے سے تھا 45 افراد کو ابتدائی کوششوں میں بچا لیا گیا تھا، ریسکیو اہلکاروں نے 22 افراد کی لاشیں نکال لی ہیں جب کہ 27 افراد آخری خبریں آنے تک لاپتا تھے۔

ریسکیو 1122 کے ترجمان کے مطابق علاقے میں حالیہ بارشوں کے باعث جائے حادثہ تک پہنچنے کا راستہ کافی خراب تھا اور گاڑیوں کو وہاں تک لے جانے کے لیے ٹریکٹر کا استعمال کرنا پڑا جس کے باعث امدادی کارروائیوں میں تاخیر ہوئی۔