fbpx

قازقستان: حالات کشیدہ، مظاہرین کیساتھ جھڑپ، 16 سکیورٹی اہلکار ہلاک:روسی دستے مدد کو پہنچ گئے

الماتی:قازقستان میں کابینہ کی برطرفی کے باوجود پر تشدد مظاہروں کا سلسلہ نہ رک سکا۔ حالات کشیدہ ہیں، مظاہرین کے ساتھ جھڑپ میں 16 سیکیورٹی اہلکار ہلاک اور ساڑھے تین سو سے زائد زخمی ہوگئے۔

قازقستان میں سیاسی انتشار اور دنگے فساد جاری ہیں، کابینہ کی برطرفی کے باوجود عوامی غصہ کم نہ ہوسکا، مظاہرین نے سرکاری دفاتر اور پولیس کی گاڑیوں کو آگ لگا دی۔ کئی علاقوں میں مظاہرین اور سیکیورٹی اہلکاروں کے درمیان جھڑیں بھی ہوئیں۔

روسی میڈیا کے مطابق مظاہرین کے ہاتھوں درجنوں سیکیورٹی اہلکار اور مظاہرین ہلاک ہوچکے ہیں زخمیوں کے تعداد سینکڑوں میں ہے۔

قازق پولیس چیف کا کہنا ہے کہ انتہا پسند مظاہروں کی صفوں میں شامل ہوچکے ہیں، صورتحال پر قابو پانے کے لیے فوج پولیس کی مدد کے لیے پہنچ چکی ہے۔

مظاہروں پر قابو پانے کے لیے صدر قاسم جمارت توکایوف نے ملک بھر ایمرجنسی نافذ کردی، حالات معمول پر آنے تک ملک میں غیر ملکیوں کے داخلے پربھی پابندی لگا دی گئی۔

دوسری طرف روس کے زیرقیادت فوجی اتحاد نے پہلا فوجی دستہ قازقستان بجھوا دیا،روس کے زیرقیادت فوجی اتحاد کے بیان میں کہا گیا ہے کہ قازقستان میں جاری بدامنی پرقابوپانے میں مدد دینے کے لئے فوجیوں کا پہلا دستہ بھیج دیا گیا ہے۔

بیان کے مطابق قازقستان میں صورتحال معمول پرآنے تک قازقستان میں رہیں گے۔ قازقستان کی حکومت نے ملک میں جاری بدامنی روکنے کے لئے مدد کی درخواست کی تھی۔

دوسری جانب قازقستان کی پولیس نے گزشتہ رات پارلیمنٹ کی عمارت پردھاوا بولنے والے درجنوں مظاہرین کوہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔قازقستان کی وزارت صحت کے مطابق ہنگاموں میں اب تک 1000سے زائد افراد زخمی ہوچکے ہیں۔ زخمیوں میں سے 62 کی حالت تشویشناک ہے۔

قازقستان میں پٹرولیم منصوعات کی قیمتوں میں اضافے کیخلاف ملک گیراحتجاج کیا جارہا ہے۔مظاہروں پرقابو پانے کے لئے ملک میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔

Facebook Notice for EU! You need to login to view and post FB Comments!