کھال مافیا.حفیظ اللہ سعید

کھال مافیا

حفیظ اللہ سعید

عید قربان پہ جانوروں کے لین دین اور ٹرانسپورٹ کے بعد ایک بہت بڑا کاروبار کھالوں کی خریدو فروخت ہے۔چمڑے کی صنعت ایک بڑی مقدار میں چمڑا حاصل کرتی ہے عید قربان کے موقع پہ۔اس چمڑے سے بننے والا ایک جوتا پرس یا خالص چمڑے کی کوئی چیز برانڈز کے نام پہ ہزاروں روپے میں بکتی ہے۔جبکہ ملک پاکستان میں دیکھنے کو یہ ملتا ہے کہ کھالوں کا ریٹ انتہائی کم ہو جاتا ہے عید پہ۔امسال بھی دنبے کی کھال 20 روپے بکرے کی 50 اور بڑے جانور کی 450 تک بکنے کی خبریں مل رہی ہیں
یہ بھی مافیا کا کام ہے جیسے سبزی منڈی کی مافیا عید و رمضان میں سبزی فروٹ کے ریٹ آسمان پہ لے جاتی ہے ویسے ہی کھال مافیا بڑی عید پہ کھال کا ریٹ گوڑیوں کے بھاؤ پہ لے آتی ہے
ہم من حیث القوم مفاد پرست و مطلبی ہیں کہ اس کی ایک اور مثال دی جا سکتی ہے
دھوبی مافیا عید کے دنوں میں کپڑے استری کرنے کا ریٹ ڈبل سے بھی زیادہ کر دیتا ہے ڈھٹائی بھی ملاحظہ کریں کہ یہ مافیا عیدی کے نام پہ یہ کرتا ہے
ہر طرف مافیاز و ابن الوقت لوگوں کا قبضہ ہے ہر شعبہ زندگی پہ جس کا جہاں جیسے اور جتنا داؤ لگتا ہے وہ اتنا ہی عوام کو لوٹنا اپنا پیدائشی حق سمجھتا ہے

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.