خبر رساں ادارے رائیٹرز کی بیوروچیف پاکستان کی ہوئی اسلام آباد میں موت

خبر رساں ادارے رائیٹرز کی بیوروچیف پاکستان کی ہوئی اسلام آباد میں موت

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق خبر رساں ادارے رائیٹرز کی پاکستان میں افغانستان اور پاکستان کی بیورو چیف ماریہ گولونینا کی موت ہو گئی ہے

رائیٹرز کے مطابق ماریہ کی گزشتہ روز موت ہوئی ہے ،34 سالہ ماریہ بے ہوشی کی حالت میں اپنے دفتر میں تھیں ، انہیں ہسپتال منتقل کیا گیا لیکن طبی عملہ انہیں بچا نہ سکا اور وہ جان کی بازی ہار گئیں

خبر رساں ادارے کے مطابق ماریہ نے رائیٹرز کے ساتھ ایک دہائی سے زیادہ عرصہ وابستہ رہی ہیں،وہ ہمیشہ آگے بڑھ کر کام کرتی تھیں،انکے کام کی تمام صحافی تعریف کرتے تھے ،انہوں نے لیبیا میں انقلاب کی گونج، افغانستان میں جنگ کے دوران بھی کوریج کی،

ماریہ ایک روسی تارکین وطن کی بیٹی تھی جس کی جاپان میں پرورش ہوئی، ماریہ 2001 میں رائیٹرز میں شامل ہوئیں اور لندن ، سنگا پور میں تعینات رہیں، 2002 سے 2005 تک روس میں رہیں، انہوں نے پوتن کی صدارت کے ابتدائی سالوں ، ماسکو تھیٹر کا محاصرہ اور علاقے میں چیچن باغیوں کے بم حملوں پر رپورٹنگ کی ہے.

وہ سن 2005 میں وسطی ایشیا میں بیورو چیف بن گئیں ، حزب اختلاف کے مظاہروں ، کرغزستان کے انقلابات اور تاجکستان میں عدم استحکام کے بارے میں بھی رپورٹنگ کی.

بعد ازاں ماریہ نے 2009 میں صدارتی انتخابات کے دوران افغانستان آئیں، اسکے بعد انہیں عراق بھجوا دیا گیا،پھر 2010 میں انہیں لندن کے ایڈیٹنگ ڈیسک میں بھجوایا گیا جہاں کے ایڈیٹرز ابھی تک ماریہ کو یاد کرتے ہیں.

ماریہ نے 2011 میں لیبیا جنگ کی رپورٹنگ کی،خبر رساں ادارے روئٹرز کے نمائندے مائیکل جارجی جنہوں نے پہلی بار ان سے ایک اسائنمنٹ میں ملاقات کی تھی ، وہ انھیں ، پیاری اور پاگل” کے طور پر یاد کرتے ہیں۔ اور کہتے ہیں کہ جب نیٹو کے بم گر رہے تھے پھر بھی ماریہ کمپیوٹر میں خبر فائل کرنے میں مصروف تھی وہ ہم سے بھی ایک قدم آگے رہتی تھی

بعد ازاں ماریہ برطانیہ کی چیف نامہ نگار بن گئیں ،انہوں نے لندن میں فلیٹ خریدا اور حیرت کی بات یہ کہ ان کے پاس فرنیچر نہیں تھا، انہیں ایک ساتھی نے افغان اسٹول تحفہ میں دیا تھا، لندن کے بعد انہیں پاکستان بھجوا دیا گیا اور وہ انکی آخری ذمہ داری ثابت ہوئی.

رائیٹرز کی بیروچیف کی موت پر رائیٹرز کے چیف ایڈیٹر کا کہنا ہے کہ ہمیں ماریہ کی موت پر افسوس ہے وہ ہمارے بہترین نمائندوں میں سے ایک تھیں،

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.