خادم رضوی کا مشن جاری رکھیں گے، مذہبی جماعت کے سربراہ کا اعلان

0
61

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق علامہ خادم رضوی کے نماز جنازہ سے قبل دینی جماعت کے سربراہ نے خادم رضوی کا مشن جاری رکھنے کا اعلان کر دیا

سربراہ پاکستان سنی تحریک محمد ثروت اعجاز قادری نے کہا ہے کہ عشق رسول میں جینا اور مرنا اور ناموس رسالت کا تحفظ کرنااہل حق کا شیوہ رہا ہے،علامہ خادم حسین کے انتقال پر ہر عاشق رسول کی آنکھ اشکبار اور دل افسردہ ہیں،اللہ تعالیٰ علامہ خادم حسین رضوی کے درجات بلند اور جنت الفردوس میں آقا کریم ﷺ کا پڑوس نصیب فرمائے،تحفظ ختم نبوت ﷺ کی تحریک کو کسی طور بھی کمزور ہونے نہیں دینگے،عاشقان رسول گستاخ رسول کے سامنی ٹھوس چٹان اور سیسہ پلائی دیوار ثابت ہونگے،حکومت فرانس کے سفیر کو ملک سے نکالنے کیلئے مثبت کردار ادا کرئے،

ثروت اعجاز قادری کا کہنا تھا کہ عاشقان رسول کے دل رنجیدہ ہیں خادم حسین رضوی کا خلاء جو خلاء پیدا ہوا ہے مشکل سے پر ُہ و گا، علامہ خادم حسین رضوی کی دینی وادبی اور اہلسنت کیلئے کی جانیوالی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائیگا، ختم نبوت ﷺ کے تحفظ کیلئے کسی بھی قسم کی قربانی سے دریغ نہیں کرینگے،حکومت عوام کے جذبات کی ترجمانی کرتے ہوئے فرانس کے سفیر کو فی الفور ملک بدر اور فرانسیسی مصنوعات کا بائیکاٹ کرئے،

انہوں نے کہا کہ پاکستان اسلام کا قلعہ ہے اور اس قلعے میں عاشقان رسول بستے ہیں،ریاست مدینہ طرز حکمرانی میں گستاخ رسول کی سزا موت ہے،ملک کا آئین قرآن وسنت کے تابع ہے،ملک میں قرآن وسنت کے قوانین کی حکمرانی ہوتی تو فرانس قونصلیٹ بند اور سفیر ملک بدر ہوچکا ہوتا،

انہوں نے کہا کہ علامہ خادم حسین رضوی کی خدمات کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں اور دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کے گھر والوں اور تمام عشقان رسول کو صبر جمیل عطا کرئے اور اس پر اجر کریم عطا فرمائے۔آمین

علامہ خادم رضوی کے جسد خاکی کے ہمراہ ہزاروں کارکنان ہیں،سخت سیکورٹی میں جسد خاکی کو مینار پاکستان لے جایا جا رہا ہے،مینار پاکستان گراؤنڈ میں لاکھوں افراد موجود ہیں، بادشاہی مسجد بھی شرکاء سے بھر گئی ہے، سڑکوں‌پر بھی شہری موجود ہیں

لاہور میں سکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی، شہر کے داخلی و خارجی راستوں پر چیکنگ کا عمل مزید سخت کر دیا گیا ہے، ڈی آئی جی آپریشنز کے مطابق ایک ہزار سے زائد پولیس افسران و اہلکار تعینات ہیں، 03 ایس پیز، 14 ڈی ایس پیز، 31 ایس ایچ اوز، 116 اَپر سب آرڈینیٹس فرائض سر انجام دے رہے ہیں

علامہ خادم رضوی 2017میں ملک کے سیاسی منظرپرنمودار ہوئے ، جب انہوں نے راولپنڈی میں فیض آباد دھرنے سے شہرت حاصل کی، ا س دوران اپنے اندازِ خطابت اور سیاست کے باعث سیاسی ایوانوں میں ہلچل مچائے رکھی۔ انہوں نے 2017 میں تحریک لبیک پاکستان کی بنیاد رکھی۔الیکشن 2018 میں ان کی جماعت حیران کن طور پر ملک کی چوتھی بڑی جماعت بن کر سامنے آئی ۔

نومبر 2017 میں اسلام آباد کے طویل دھرنے اور اپنے منفرد انداز خطابت کے باعث انہوں نے شہرت کی بلندیوں کو چھوا۔ تحریک لبیک نے چند روز قبل فرانس میں گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کیخلاف اسلام آباد میں فیض آباد انٹرچینج پر دھرنا دیا تھا جس کی قیادت علامہ رضوی نے کی تھی تاہم حکومتی ٹیم سے کامیاب مذاکرات کے بعد دھرنا ختم کردیا تھا ۔ دھرنے میں انہوں نے کارکنوں سے خطاب میں کہا تھا کہ میری طبیعت 5 روز سے ناساز ہے لیکن اسکے باوجود دھرنے میں شرکت کے لیے آیا ہوں۔

فیض آباد، تحریک لبیک کا احتجاج جاری، پولیس کا رات گئے آپریشن ناکام

تحریک لبیک احتجاج، اسلام آباد میں کون کونسے راستے بند ہیں؟ ڈی سی نے بتا دیا

تحریک لبیک کا دھرنا، کارکنان گرفتار،کیا خادم حسین رضوی کو گرفتار کر لیا گیا؟

تحریک لبیک دھرنا،راستے بند ہونے پر ٹریفک کا متبادل روٹ جاری

شاہد خاقان عباسی نے تحریک لبیک کے دھرنے کو "میلہ” قرار دے دیا

فیض آباد دھرنا،وزیراعظم کا نوٹس،اہم شخصیت کو طلب کر لیا

مذاکرات ہی نہیں ہوئے تو کامیابی کیسی؟ تحریک لبیک کا دھرنا جاری رکھنے کا اعلان

علامہ خادم رضوی کی وفات، فیض آباد معاہدہ پر عمل ہو پائے گا؟

علامہ خادم حسین رضوی لاہور میں محکمہ اوقاف کے زیر اہتمام پیر مکی مسجد میں امامت کے فرائض سرانجام دیتے رہے ۔ ممتاز قادری کی سزا پر عملدرآمد کے بعد انہوں نے کھل کر حکومت وقت پر تنقید کی جس کی وجہ سے انہیں محکمہ اوقاف نے ان کے عہدے سے ہٹا دیا تھا۔ علامہ رضوی روحانی طور پر سلسلہ نقشبندیہ میں خواجہ محمد عبد الواحد المعروف حاجی پیر صاحب کالا دیو، جہلم سے مرید تھے ۔ مرحوم دو عشروں سے جامعہ نظامیہ رضویہ میں تدریس کر رہے تھے

Leave a reply