fbpx

خلش تحریر: محمد حماد

خلشوہ ایک عام دن تھا
مگر نہیں وہ عام دن نہ تھا کیوں کہ بعض اوقات عام دن بالکل بھی عام نہیں رہتے وہ زندگی کی چھوٹی چھوٹی خواہشوں کی تکمیل سے خاص ہو جاتے ہیں۔ انعم کے لیے بھی وہ بہت خاص دن تھا کیوں کہ اس کے ابّو نے اس کے لیے دوبئی سے تحائف بھیجے تھے اگرچہ ان تحائف میں کچھ خاص نہ تھا مگر لفظ تحفہ ہی بذات خود ایک خاص لفظ اور احساس کا نام ہے اور پھر وہ خاص کیوں نہ ہوتے ؟ جو ابّو نے ان کے لیے بہت پیار سے بھیجے تھے جو اس کے لیے پیار اور خلوص کے مجسم شکل تھے۔ انعم نے ڈبّے کھول کر دیکھے تو اس میں ایک گھڑی ، چوکلیٹ کا ڈبّہ اور خوب صورت عبایا تھا۔نعم نے عبایا کھول کر دیکھا تو اسے پسندیدگی کی سند اس کی خوشی اور آنکھوں کی چمک نے عطاکی۔ سیاہ رنگ کا خوبصورت عبایا جس پر جھل مل کرتی خوبصورت موتیاں ٹکی تھیں اور اس کے ساتھ عربی طرز پر ڈئزائن کردہ خوب صورت اسکارف۔ انعم نے عبایا کی خوشی میں اپنی پسندیدہ فلیور کے چوکلیٹ بھی نظر انداز کردئیے۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
امّی یہ عبایا کتنا خوب صورت ہے ناں؟ کتنے کا ہوگا؟ مجھ پر اچھا لگے گا ناں ؟ اس قسم کے سوالات سے جب امی کے کان پک گئے تو اس نے ڈانٹ کر کہا ؛
نادیدی ! کوئی نئی چیز کھبی نہیں دیکھی کیا جو یوں شور مچا رہی ہوں ۔ جاؤ دفع ہوجاؤ۔۔۔۔پتہ نہیں کس پر گئی ہے آخر اس کا بچپنا کب ختم ہوگا یہ بڑبڑاتے ہوئے وہ کچن میں چلی گئی اور انعم پیر پٹخ کر کمرے میں۔
٭٭٭٭٭٭٭
وہ کالج جانے کے لیے تیار تھی۔ نیا عبایا اور عریبک اسکارف میں وہ ایسی خوش ہو رہی تھی جیسے بچپن میں من پسند کھلونا ملنے پر خوش ہوتی۔ کلائی پر نازک گھڑی پہن کر وہ سوچ رہی تھی کہ کالج میں دوستوں کے ساتھ ڈسکس کرنے کے لیے اچھا موضوع ہاتھ لگا ہے۔ یہ سوچ کر وہ اپنے آپ مسکرا دی۔ آخر اس نے قدِ آدم آئینے میں اپنا ناقدانہ جائزہ لیا اور کمرے سے باہر نکلی۔
٭٭٭٭٭٭٭٭
وہ کندھے پر بستہ لٹکائے رجسٹر ہاتھ میں پکڑے بے چینی سے صحن میں ادھرسے اُدھرٹہل رہی تھی۔ انتظار کرتے کرتے تھک گئی کہ کب اسد بھائی اٹھ جائے اور اسے یہ نیا upGet دکھایا جائے اور ساتھ میں وہ کالج بھی ڈراپ کرےمگر نہیں وہ گدھے گھوڑے بیچ کر خواب خرگوش کے مزے لے رہا تھا۔ انعم بیچاری امّی سے بھی پوچھ پوچھ کر تھک گئی۔
” بھائی اٹھا کے نہیں ؟”
"آخر یہ کب اٹھے گا؟”
مگر ہنوز سو رہا ہے کہ رپلائی سے تنگ آکر اس نے اکیلے کالج جانے کا فیصلہ کیا ۔ وہ پہلے ہی لیٹ ہوئی تھی اور اب مزید دیر ہورہی تھی ۔سو اسد کا مزید انتظار کرنا بیکار تھا۔
٭٭٭٭٭٭٭
پورے بیس منٹ بعدوہ ہانپتے کانپتےِارم کے گھر پہنچ گئی۔ مگر یہ کیا ؟ "یار میں آج نہیں جاسکتی بخار ہے مجھے ہو سکتا ہے کل بھی نہ جا سکوں پلیز میرا اپلی کیشن دے دینا”
ارم نے سُتے ہوئے چہرے اور نقاہت سے کہا ۔
"تواس کا مطلب ہے آج مجھے پھر اکیلے جانا پڑے گا ” انعم نے قدرے مایوسی سے کہا،
اس کے بعد ارم نے روئے سخن انعم کی گھڑی اور عبایا کی طرف پھیر دیا۔جس پر گھنٹہ بھر بحث متوقع تھی مگر انعم کوکالج کے لیے دیر ہو رہی تھی لہٰذا دونوں کا بحث طول نہ پکڑ سکا۔ جونہی انعم کی نظر گھڑی پر پڑی: "اوہ خدایا ! آج پھر میڈم سے ڈانٹ پڑے گی "کہہ کر دروازے کی طرف بھاگی۔ ٭٭٭٭٭٭٭
انعم کے گھر سے نکلنے کے بعد اسد اٹھا ۔ فریش ہو کر ناشتہ کرنے لگا۔ ادھر اُدھر نظر دوڑا کر انعم کو تلاش کیا مگر نا پا کر امی سےکہا:
"امّی انعم سے کہیں میں اسے کالج چھوڑ آتا ہوں جلدی کرے۔
"وہ تو چلی گئی مگر تم جاؤ تمھیں دیر ہو رہی ہے”
امی نے ناشتے کے برتن اٹھاتے ہوئے کہا ۔
٭٭٭٭٭٭٭
اسد جیسے ہی گھر سےنکلا راستے میں دانیال ملا۔ دانیال اسد کے بچپن کا ساتھی اور پڑوسی ہونے کے ساتھ یو نیورسٹی فیلو بھی تھا۔ دونوں رنگین مزاجی میں ایک سے بڑھ کر ایک تھے یہی وجہ تھی کہ دونوں کی خوب بنتی تھی۔ کالج روڈ پرپر چلتے چلتے انھیں ایک لڑکی نظر آئی۔ دانیال نے باچھیں کھول کر لڑکی کوایکسرے نظروں سے دیکھنا شروع کیا ۔وہ اس قسم کے حرکات کے لیے مشہور بلکہ بدنام تھا۔ اور یہ سچ ہے کہ خربوزے کو دیکھ کر خربوزہ رنگ پکڑتا ہے۔ دانیال کی صحبت کا یہ رنگ تیزی سے اسد پر بھی چڑنے لگا تھا۔ دونوں لڑکی کے پیچھے گز بھر کا فاصلہ رکھ کر چل رہے تھے کہ دانیال نے فقرے کسنا شروع کیے:
"اااااےےےے سن تو! بھاگ کیوں رہی ہوں؟آرام سے ! ہم کھا تو نہیں جائیں گے”
اور پھر بیہودگی سے قہقہہ لگایا ۔
انعم نے خوف کے مارے اور بھی تیز تیز چلنا شروع کیا۔ جیسے جیسے وہ دوڑنے کے انداز میں قدم اٹھاتی دونوں بھی تھوڑا فاصلہ رکھ کر چلنے لگے۔ بدقسمتی سے سڑک پر سکول کے بچّوں کے علاہ کوئی نہیں تھا جس سے انعم مدد مانگتی۔ اس کے کانوں میں دونوں کے شوخ اور بے باک فقرے اور سیٹیوں کی آوازیں آ رہی تھیں اس وقت اسے اپنا آپ بہت بے بس محسوس ہوا مگر وہ کچھ بھی کرنے سے قاصر تھی۔
"کیوں ہم بیچاروں پر بجلی گرا رہی ہوں۔ زرا سن تو سہی۔۔۔۔”
دونوں کچھ اور قریب ہوئے تھے کہ اسد نے ایک چُبھتا ہوا فقرہ کَسا۔
انعم کو آواز کچھ مانوس معلوم ہوئی تو پیچھے مُڑ کر دیکھا ۔ اس کے پیچھے دانیال تھا اور ساتھ میں اسد ، اس کا بھائی!
اس کا دل دھک سے رہ گیا ۔ وہ محاورۃً نہیں حقیقتاً پتھر کی ہوگئی اور صرف اتنا کہہ پائی؛
بھائی آآآآآپ۔۔۔ اس کے پاس کہنے کو کچھ بچا ہی نہ تھا نہ گالی ، نہ بحث ، نہ ڈانٹ کچھ بھی نہیں۔ وہ صرف پھٹی پھٹی آنکھوں سے اسد کو دیکھنے لگی۔
آ آ نعم م م تم ۔۔۔۔۔۔ وہ میں سمجھا۔
اسد کی زبان لڑکھڑانے لگی ، اس کے الفاظ اس کا ساتھ نہیں دے رہے تھے۔ جبکہ دانیال تو بیچ سے اس وقت کسک گیا جب انعم نے پیچھے مُڑ کر دیکھا ، جب اسد کے چلتے قدم رک گئے ، اور جب انعم نے ” بھائی آپ” کے الفاظ کہے۔
” وہ تمھارا گاؤن تو گرے کلر کا تھا یہ وہ میں سمجھا کہ۔۔۔”اسد کچھ بے ربط وضاحتیں دینے لگا مگر انعم کے کانوں میں سائیں سائیں ہو رہا تھا اسے کچھ سنائی دے رہا تھا نہ کچھ دکھائی ۔اسد کے جملے اس کے کانوں میں صدائے بازگشت کی طرح سنائی دے رہے تھے ۔ بے آواز آنسوں اس کے آنکھوں سے بہہ کر نقاب میں جذب ہو رہے تھے۔ اسے خود سے گن آنے لگی ۔ اسے ماحول سے کراہت محسوس ہونے لگی۔ وہ اس ماحول اور ان نا زیبا جملوں سے فرار چاہتی تھی جو اس کی دماغ پر ہتھوڑے کی طرح برس رہے تھے۔ وہ بے جان قدموں سے کالج جانے کی بجائے گھر کی طرف واپس موڑ گئی۔چلتے ہوئے اسے دل میں بہت چھبن محسوس ہو رہی تھی مگر یہ چبھن وقتی نہیں بلکہ عمر بھر کے لیے تھی کیوں کہ اس کا مان ، یقین ، اعتبار ، فخر اور نہ جانے کیا کیا سراب بن گیا تھا۔ اور اب شاید زندگی بھر اسے اس کسک اور چبھن کے ساتھ جینا تھا کیوں کہ گھر کے محافظ ہی لٹیرے نکلے تھے۔
؎ وہ ڈاکا ڈالنے آئے تھے مرے گھر اک رات
میں معاف کرتی اگر چہرے اجنبی ہوتے
٭٭٭٭٭٭٭