خلیج عمان میں تیل بردار جہازوں‌ پر حملوں‌ میں ایران ملوث ہے. امریکی سیکرٹری خارجہ مائیک پومپیو

امریکا کے ایک اہم دفاعی عہدیدار نے کہا ہے کہ خلیج عمان میں دو تیل بردار جہازوں پر حملوں میں ایران کے ملوث ہونے کا غالب امکان ہے. دونوں جہازوں‌ کو آبنائے ہرمز کے قریب تخریبی حملہ کا نشانہ بنایا گیا ہے. امریکی سیکرٹری خارجہ مائیک پومپیو نے بھی ان حملوں‌م میں‌ ایران کے ملوث ہونے کا کہا ہے.

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق امریکی دفاعی عہدیدار کا بین الاقوامی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ایران ہی ان دونوں‌ تیل بردار جہازوں پر حملوں‌ کا موجب ہو سکتا ہے. امریکی عہدیدار نے ایران کے اس دعوے کو بھی مسترد کیا ہے جس میں اس نے کہا تھا کہ اس نے خلیج عمان میں ان دونوں جہازوں کے عملہ کو حملے کے بعد بچالیا ہے۔ امریکی عہدیدار کا گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھاکہ ایران کا یہ دعویٰ‌ ننگا جھوٹ ہے جس کی کوئی حقیقت نہیں‌ ہے۔

واضح رہے کہ دو ٹینکروں مارشل آئس لینڈ کے پرچم بردار فرنٹ آلٹیر اور پاناما کے پرچم بردار کوکوکا کورجیئس پر جمعرات کو خلیج عمان میں آبنائے ہُرمز کے نزدیک بین الاقوامی پانیوں میں دہشت گردانہ حملے کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ اس حملے کے بعد ان دونوں جہازوں سے عملہ کو باحفاظت نکال لیا گیا۔ بتایا گیا ہے کہ فرنٹ آلٹیر پر آتش گیر تیل ( نفتھا) اور کوکوکا کورجیئس پر میتھانول لدا ہوا تھا۔ ان میں سے ایک جہاز ایک آبی بم ( تارپیڈو) سے ٹکرایا تھا جس کے بعد اس کے ایک حصے کو آگ لگ گئی تھی جبکہ دوسرے جہاز کے مینجر کا کہنا ہے کہ مشتبہ تخریبی حملے کےبعد اس میں لدے مواد کو کوئی نقصان نہیں پہنچا اور وہ محفوظ رہا ہے۔

گذشتہ ماہ بھی اسی علاقے میں امارت فجیرہ کے نزدیک خلیج عمان میں چار تیل بردار بحری جہازوں پر بارودی سرنگوں سے حملہ کیا گیا تھا جن میں سے دو بحری جہاز سعودی عرب کے تھے جبکہ ایک ناروے اور ایک متحدہ عرب امارات کا تھا۔ ان حملوں‌ کے بعد سعودی عرب نے سخت ایکشن لیتے ہوئے مسلم ممالک کی قیادت سے رابطے کئے اور سعودی عرب میں مسلم ملکوں‌ کے سربراہان کی بڑی کانفرنس بلائی گئی تھی جس میں آئندہ کیلئے مشترکہ لائحہ عمل پر غور کیا گیا. اس کانفرنس میں وزیر اعظم پاکستان عمران خان سمیت دیگر ملکوں‌کی قیادت نے شرکت کی تھی اور حوثی باغیوں‌ کے حملوں کی شدید مذمت کی گئی تھی.

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.