fbpx

خالصتان ریفرنڈم کا دوسرا مرحلہ، بھارت کی سکھوں کو دھمکیاں

خالصتان ریفرنڈم کا دوسرا مرحلہ، بھارت کی سکھوں کو دھمکیاں

بھارت میں سکھ برادری کے علیحدہ وطن کے قیام کے لئے لندن میں دو الگ الگ مقامات پر ریفرنڈم کے دوسرے مرحلے کا انعقاد ہوا

دوسرے مرحلے میں دونوں مقامات پر تقریبا دس ہزار سے زائد برطانوی سکھو‌ں نے حصہ لیا اور خالصتان کے حق میں ووٹ دیا، اس دوران ساؤتھ آل اور گریوز اینڈ کے گوردواروں میں ووٹ ڈالنے کے لیے صبح سے ہی ووٹروں کی قطاریں دیکھنے میں آئیں

دوسری جانب بھارتی حکام خالصتان ریفرنڈم سے خوفزدہ ہیں اور بھارتی حکام سکھوں کو ریفرنڈم میں حصہ لینے سے روکنے کے لیے این آر آئی کارڈ اور ویزے منسوخ کرنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں

سکھ رہنماؤں کا کہنا ہے کہ بھارتی دباؤ کے باوجود برطانوی حکومت نے ریفرنڈم کی اجازت دی جس پر ان کے شکر گزار ہیں سکھ رہنما پرم جیت سنگھ کا کہنا تھا کہ ریفرنڈم کی نگرانی غیر جانبدار کمیشن کر رہا ہے جبکہ سکھ رہنما پتوت سنگھ نے الزام عائد کیا کہ بھارتی حکومت نے ریفرنڈم سے روکنے کیلئے مجھ پر جعلی مقدمات بنوائے۔ پھر سردار اوتار سنگھ کا کہنا ہے کہ بھارت نے پنجاب پر قبضہ کر رکھا ہے اب سکھ اب اپنا آزاد وطن خالصتان بنا کر دم لیں گے

ریفرنڈم کے مزید مراحل 14 اور 21 نومبر کو دیگر برطانوی شہروں میں ہوں گے بعد ازاں امریکہ‘ کینیڈا‘ آسٹریلیا اور بھارتی پنجاب کے علاقے میں بھی رائے شماری کا انعقاد کیا جائے گا۔خالصتان ریفرنڈم کے نتائج کو اقوام متحدہ اور دیگر عالمی اداروں کے ساتھ شیئر کیا جائے گا۔ تاکہ سکھ وطن کی حمایت حاصل کی جا سکے۔ سیاسی ماہرین نے کہا ہے کہ لندن میں سکھ ریفرنڈم کے انعقاد کو مودی کی قیادت میں بھارت کی شکست سمجھا جا رہا ہے۔ کیونکہ وہ تمام سیاسی حربے آزمانے کے باوجود اسے روکنے میں ناکام رہا ہے۔

اس سے قبل کینیڈا میں خالصتان کے حامی سکھ گروپ، سکھ فار جسٹس نے بھارت میں سکھوں کے علیحدہ وطن سے متعلق مقدمے کے پہلے مرحلے میں کامیابی حاصل کر لی تھی جب کہ پہلے مرحلے میں ہونے والے ریفرنڈم میں 30 ہزار سےزائد سکھوں نے ووٹ ڈالے تھے

امریکہ میں قائم سکھوں کی ایک تنظیم سکھس فار جسٹس نے خالصتان کے قیام کے لیے پنجاب کی بھارت سے علیحدگی کی حمایت کی ہے ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تنظیم نے بھارت کا ایک نیا نقشہ بھی جاری کیا ہے جس میں نہ صرف پنجاب بلکہ ہریانہ، ہماچل پردیش اور راجستھان اور اتر پردیش کے کئی اضلاع کو خالصتان کا حصہ دکھایا گیا ہے امریکہ میں قائم یہ تنظیم 1984میں سکھوں کے قتل عام میں ملوث بھارتی حکومت اور سیاستدانوں کے خلاف ایک طویل قانونی جنگ لڑ رہی ہے اور اس نے ریاست پنجاب کی بھارت سے علیحدگی کے لیے مہم بھی شروع کر رکھی ہے خالصتان تحریک بھارت کے نام نہاد سیکولر چہرے پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے اور خالصتان کے نام سے سکھوں کے لیے ایک علیحدہ وطن نوشتہ دیوار ہے

سکھ یاتریوں کی بھارت میں ہی مودی کے خلاف نعرے بازی

بھارتی ہٹ دھرمی، ایک بار پھرپاکستان آنیوالے سکھ یاتریوں کوروک دیا گیا

خالصتانی ہوں،حکومت مودی کے دباؤ کا شکارہے، گوپال سنگھ چاولہ کی باغی ٹی وی سے گفتگو

سکھ برادی کا خالصتان بارے ریفرنڈم 2020، وینا ملک نے بڑا اعلان کر دیا