خالصتانی ہوں،حکومت مودی کے دباؤ کا شکارہے، گوپال سنگھ چاولہ کی باغی ٹی وی سے گفتگو

حکومت پاکستان نے بھارت کے اعتراض کے بعد پربندھک کمیٹی سے پاکستانی سکھ گوپال سنگھ چاولہ کو علیحدہ کر دیا،

حکومت پاکستان نے بھارت کے اعتراض کے بعد پربندھک کمیٹی سے پاکستانی سکھ گوپال سنگھ چاولہ کو علیحدہ کر دیا، گوپال سنگھ چاولہ نے باغی ٹی وی سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت مودی کے دباؤ میں ہے، پاکستان کے لئے ایسی ہزاروں کمیٹیاں قربان کرتے ہیں.

 

سکھوں‌ کی پاکستان اور خالصتان کے حق میں نعروں‌ والی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل، بھارتیوں‌ کو آگ لگ گئی

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق حکومت پاکستان نے پاکستانی سکھ گوپال سنگھ چاولہ کو پربندھک کمیٹی سے علیحدہ کیا ہے، اس ضمن میں معلوم ہوا ہے کہ بھارت نے گوپال سنگھ چاولہ پر اعتراض کرتے ہوئے کہا تھا کہ گوپال کا تعلق خالصتان تحریک سے ہے اس لئے گوپال کو پربندھک کمیٹی سے ہٹایا جائے.

بھارتی ہٹ دھرمی، ایک بار پھرپاکستان آنیوالے سکھ یاتریوں کوروک دیا گیا

بھارت سرکار نے پربندھک کمیٹی کے جن اراکین کو کمیٹی سے نکالنے کا مطالبہ کیا اس میں بشن سنگھ، نرمندر سنگھ، نارو سنگھ اور کلجیت سنگھ بھی شامل ہیں، بھارت نے الزام عائد کیا کہ ان پانچ سکھ افراد کو خالصتان تحریک سے تعلق ہے.

سکھ یاتریوں کی بھارت میں ہی مودی کے خلاف نعرے بازی

گوپال سنگھ چاولہ کو اس وقت پر بندھک کمیٹی سے ہٹایا گیا جب بھارتی وفد پاکستان کے ساتھ مذاکرات کے لئے آ رہا تھا، بھارتی وفد کی آمد سے دو روز قبل اس کا نوٹفکیشن جاری کیا گیا.

سکھ رہنما گوپال سنگھ چاولہ نے باغی ٹی وی سے ٹیلی فون پر خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی حکومت بھارت کے دباو میں ہے، مودی نے بذات خود پاکستان کی حکومت کو کہا ہے کہ چاولہ کو ہٹایا جائے،

گوپال سنگھ چاولہ کا مزید کہنا تھا کہ بنیادی طور پر کرتار پور راہداری کے لئے پاکستان نے یہ فیصلہ لیا ہے، میں اس فیصلے کا احترام کرتا ہوں، گوپال نے اعتراف کیا کہ میں خالصتانی لیڈر ہوں اور ایسی ہزاروں پربندھک کمیٹیاں قربان کرنے کے لئے تیار ہوں.

واضح رہے کہ قیام پاکستان کے بعد پاکستان میں مقیم سکھوں کی زمین، تعلیمی، مذہبی اور دیگر اداروں کی دیکھ بھال ٹرسٹ بورڈ کی ذمہ داری ہوتی ہے ،اسی بورڈ کے ماتحت پاکستان سکھ گرودوارہ پربندھک کمیٹی کام کرتی ہے جس کا کام سکھ برادری کی فلاح و بہبود ہے.

1 تبصرہ
  1. طلال خان کہتے ہیں

    جناب حق کا ساتھ دینے والوں کی دنیا ہی اور ہے اور حق اور حق والے دباؤ میں نہیں آ سکتے بلکہ دباؤ میں رکھتے ہیں ہمیشہ باطل کو

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.