fbpx

کنٹونمنٹ والوں پر قانون لاگو نہیں ہوتا ؟ کھمبوں پر سیاسی جماعتوں کے جھنڈے کیوں؟ پاکستان کا پرچم لگائیں ،سپریم کورٹ

کنٹونمنٹ والوں پر قانون لاگو نہیں ہوتا ؟ کھمبوں پر سیاسی جماعتوں کے جھنڈے کیوں؟ پاکستان کا پرچم لگائیں ،سپریم کورٹ

سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں رفاہی پلاٹس اورپارکوں پرقبضہ سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی،

ایڈمنسٹریٹرکراچی مرتضیٰ وہاب عدالت میں پیش ہوئے،چیف جسٹس گلزار احمد نے ایڈمنسٹریٹر کراچی سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ کراچی میں 4 جھیلیں ہوا کرتی تھیں ،جھیلوں کاپانی کہاں گیا؟ ایڈوکیٹ جنرل نے عدالت میں جواب دیا کہ پانی کا لیول کم ہونے سے جھیلیں ختم ہوئیں، جس پر چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ پھرزمین تومحفوظ ہونی چاہیے تھی ،جھیل پارک کا کیا بنا وہ تو ختم ہوگئی شائد ، دو تین جھیلیں تھیں وہاں کیا بنادیا گیا ہے ؟ کراچی میں تین جھیلیں تھیں ، پارک میں 2 تھیں کہاں ہیں کے ایم سی والے جن کی ذمہ داری تھی ،آپ نے کراچی کی 4 جھیلیں بند کردیں؟ یہ نیچرل جھیلیں تھیں ختم کردی گئیں ،ہم یہاں کھیلتے اور مچھلی پکڑا کرتے تھے کیا یہ جھیلیں بھرگئی ہیں ؟ ایڈوکیٹ جنرل سندھ نے عدالت میں کہا کہ یہ جھیلیں بھر کے زمینیں الاٹ کردی گئی ہیں ان جھیلوں سے پہلے ہی پانی ختم ہوگیا تھا ،ایک شہری نے عدالت میں کہا کہ جھیل پارک سے متصل پارک پر غیر قانونی دکانیں بن گئی ہیں، چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اتنا خوبصورت علاقہ تھا کتنے تمیز کے لوگ رہتے تھے سارے علاقے کا کیا حال کردیا ہے ؟ مرتضیٰ وہاب نے عدالت میں کہا کہ ہمیں کہیں عدالتی حکم اورکہیں کے پی ٹی روک دیتا ہے ، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ پارکس کے انتظام کے حوالے سے تو قانون سازی کریں یہ سارا انتظام ایک تھا رٹی کے پاس ہونا چاہیے ، ایڈمنسٹریٹر کراچی نے کہا کہ اب تو سارا کمرشل ہوگیا ہے ،چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ میونسپل کمشنر ادھر آجائیں ، میونسپل کمشنر نے کہا کہ میں نے تو ابھی 3 دن پہلے چارج لیا ہے ،

چیف جسٹس گلزار احمد نے مرتضیٰ وہاب سے کہا کہ آپ کیسے غیر قانونی تعمیرات ختم کریں گے ؟ مرتضیٰ وہاب نے عدالت میں کہا کہ ماہرین کی مدد سے مارکنگ کرکے کارروائی کریں گے ،چیف جسٹس نے کہا کہ ہم نے اپنے بچوں کیلئے کیا چھوڑا ہے ؟ کوئی تفریح نہیں ہے، مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ کراچی میں 2003 میں کمرشلائزیشن کی گئی ، 26 سڑکوں کو کمرشلائز کیا گیا ،چیف جسٹس گلزار احمد نے مرتضیٰ وہاب سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ اس کوانڈو نہیں کرسکتے ؟ کچھ تو کریں ، مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ دو دفعہ شہری حکومت نے کمرشلائزیشن کی گئی عدالتوں نے فیصلہ برقرار رکھا ، چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ شارع فیصل پر بھی سارے بنگلے تھے ختم ہوگئے ، مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ کمرشلائزیشن کے بعد ٹاورز بنتے چلے گئے ،چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ بڑے شہروں میں کثیر المنزلہ عمارتیں ہوتی ہیں مگر پراپر پلاننگ تو ہو ،سوک سینٹر کے پاس مشرق سینٹر کا حال دیکھیں ، ہٹائیں تجاوزات ،سوک سینٹر سے چھیپا کو ہٹائیں وہ گرین بیلٹ پر بیٹھے ہیں شارع فیصل پر لائٹ کون جلاتا ہے ؟ عموماً اندھیرا رہتا ہے ، مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ کے ایم سی کی حدود میں لائٹس آن رہتی ہیں کنٹونمنٹ علاقوں میں بند رہتی ہیں ، چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ میں نے نوٹ کیا ہے ، کنٹونمنٹ والوں کا کیا مسئلہ ہے ؟ کیا کنٹونمنٹ والوں پر قانون لاگو نہیں ہوتا ؟ کھمبوں پر سیاسی جماعتوں کی جھنڈے لگے ہوتے ہیں پرچم لگانا ہے تو پاکستان کا پرچم لگائیں ،

@MumtaazAwan

کراچی کو مسائل کا گڑھ بنا دیا گیا،سرکاری زمین پر قبضہ قبول نہیں،کلیئر کرائیں، چیف جسٹس

سپریم کورٹ کا کراچی کا دوبارہ ڈیزائن بنانے کا حکم،کہا آگاہی مہم چلائی جائے

وزیراعظم کو بتا دیں چھ ماہ میں یہ کام نہ ہوا تو توہین عدالت لگے گا، چیف جسٹس

تجاوزات ہٹانے جائینگے تو لوگ گن اور توپیں لے کر کھڑے ہوں گے،آرمی کو ساتھ لیجانا پڑے گا، چیف جسٹس

سرکلر ریلوے، سپریم کورٹ نے بڑا حکم دے دیا،کہا جو بھی غیر قانونی ہے اسے گرا دیں

ہم نے کہا تھا کیسے کام نہیں ہوا؟ چیف جسٹس برہم، وزیراعلیٰ کو فوری طلب کر لیا

آپ کی ناک کے نیچے بحریہ بن گیا کسی نے کیا بگاڑا اس کا؟ چیف جسٹس کا استفسار

آپ کو جیل بھیج دیں گے آپکو پتہ ہی نہیں ہے شہر کے مسائل کیا ہیں،چیف جسٹس برہم

کس کی حکومت ہے ؟ کہاں ہے قانون ؟ کیا یہ ہوتا ہے پارلیمانی نظام حکومت ؟ چیف جسٹس برس پڑے

شہر قائد سے تجاوزات کے خاتمے کیلئے سپریم کورٹ کا بڑا حکم

کراچی میں سپریم کورٹ کے حکم پرآپریشن کا آغاز،تاجروں کا احتجاج

سو برس بعد بھی قبضہ قانونی نہیں ہو گا،سپریم کورٹ کا بڑا حکم

ہزاروں اراضی کے تنازعات،زمینوں پر قبضے،ہم کون سی صدی میں رہ رہے ہیں ؟ چیف جسٹس

نسلہ ٹاور گرانے سے متعلق نظر ثانی اپیلوں پر سپریم کورٹ کا فیصلہ آ گیا

پاک فوج کے پاس مشینری موجود، جائیں ان سے مدد لیں،نسلہ ٹاور گرائیں، سپریم کورٹ

عہدہ چھوڑ دیں، آپ کے کرنے کا کام نہیں،نسلہ ٹاور نہ گرانے پر سپریم کورٹ برہم