fbpx

خان صاحب کتنے مافیےمارو گےہرگھر سے مافیا نکلےگا:ایم جی گاڑی کا بیوپاری :موت کی خریداری

لاہور:خان صاحب کتنے مافیےمارو گےہرگھر سے مافیا نکلےگا:ایم جی گاڑی کی خریداری موت مل گئی مگرگاڑی نہیں،اطلاعات کے مطابق اس وقت سوشل میڈیا پرایک ایسی ویڈیو وائرل ہورہی ہے کہ جس کو سننے کے بعد ہرآنکھ اشکبار ہوجاتی ہے

یہ ویڈیو ایک بے بس بیٹے کی ہے ، یہ ویڈیو ایک بے گناہ مقتول کے بیٹے کی دکھ بھری کہانی ہے،

یہ ویڈیو غوث گوندل کی ہے کہ جو چیخ چیخ کر کہہ رہےہیں کہ دنیا والوں آپ کس امید سے جی رہےہیں یہاں قوم سے وعدے کیے جاتے ہیں کہ پاکستان سے مافیاز کا خاتمہ کیا جائے گا لیکن کسی نے سچ کیا ہے ک”خان صاحب تم کتنے مافیے ماروگے ہرگھرسے مافیا نکلے گا”اورپھرواقعی ہی ایسے ہوا

غوث گوندل بتاتے ہیں کہ پاکستان میں کچھ ایسے مافیاز بھی ہیں جوبڑے مقتدراداروں سے اپنا تعلق ظاہرکرکے لوگوں کویرغمال کرتے ہیں ، لوگوں کی عزتیں اچھالتے ہیں ، لوگوں کا مال لوٹتے ہیں ،

غوث گوندل کہتے ہیں کہ ایک مافیا جاوید آفریدی بھی ہے جوایم جی موٹرز کا پاکستان میں سپلائیر ہے ، کنٹریکٹر ہے ، یہ مافیا جواپنے ساتھ پاکستان کے بڑے مقتدرادارے کی ہمدردیاں ظاہرکرکے لوگوں کوخوفزدہ کرکے ان کی جان لیتا ہے

غوث گوندل کہتے ہیں کہ میرے والد محترم نے ایم جی گاڑی خریدنے کےلیے جاوید آفریدی کے مینجرکوایڈوانس رقم جمع کروائی اورپھرکئی ماہ تک انتظار کرتے رہے

آج انہوں نےمیرے والد محترم کو فون کیا کہ آپ باقی پے منٹ کرکے گاڑی لےجائیں ، جب میرے والد محترم نے باقی پے منٹ کردی اورپھرگاڑی کا مطالبہ کیا تو پھر جاوید آفریدی کےمینجر نے کہا کہ کوئی گاڑی شاڑی نہیں ہے

اس دوران اس جاوید آفریدی کے شوروم کے مینجر کی طرف سے سخت دھمکیوں کے بعد میرے والد صاحب شوروم سے واپس میری گاڑی میں آگئے اور واپس جانے لگے تو جاوید آفریدی کے کارخاص شوروم کے مینجر نے 15 ، 20 کے لگ بھگ مسلح لوگ بھیج کرمیرے والد کو گھر واپس لوٹنے نہ دیا

غوث گوندل کہتے ہیں کہ اد دوران میرے والد صاحب نے کہاکہ آپ نے پیسے بھی لے لئیے اور گاڑی بھی نہیں دے لیکن پھر جانے بھی نہیں دے رہے ایسا کیوں کررہے ہو

غوث گوندل کہتے ہیںکہ ان مسلح افراد نے میرے والد محترم کو وہاں زبردستی روکے رکھااس دوران خوف اورپریشانی سے میرے والد محترم کی طبعیت خراب ہونا شروع ہوگئی اور اس قدر زیادہ طبعیت خراب ہوگئی کہ ان کی سانس رکنے لگی

غوث گوندل کہتے ہیں‌ کہ میرے والد محترم اورمیرے ڈرائیور نے منتیں کیں کہ طبعیت خراب ہورہی ہےہمیں جانیں دیں لیکن جاوید آفریدی کے مسلح گارڈ ز نے ہمیں جانے نہ دیا اوراس دوران میرے والد محترم اللہ کوپیارے ہوگئے

غوث گوندل کہتے ہیں کہ دنیا بتائے کہ میں اپنے والد کا خون کہاں سے تلاش کروں ، کوئی ہے جواس موقع پران ظالم مافیاز سے پوچھے کہ تم کون ہوتے ہیں انتا زیادہ ظلم کرنے والے ، وہ کہتے ہیں کہ اس دوران 15 پرکال بھی کی لیکن مافیا اتنا طاقتور ہےکہ کوئی بھی میرے والد کی مدد کو نہ پہنچ سکا

غوث گوندل نے اہل پاکستان سے درخواست کی ہےکہ میرے والد محترم توان ظالموں کے ظلم سے دنیا چھوڑ گئے مگرکیا باقی والد بھی ایسی ہی بے بسی سے دنیا سے جائیں گے ، وہ کہتے ہیں میں ایسے نہیں ہونےدوں گا ، میں کسی کے باپ کواس قدران مافیاز کے ہاتھوں رسوا نہیں ہونے دوں گا

غوث گوندل کہتے ہیں کہ یہ وقت ہےکہ ہر نوجوان اپنے والد کی عزت کے لیے اپنے والد کی وقار کےلیے میدان میں اترے اوران مافیاز کوبے نقاب کرنےتک چین سے نہ بیٹھے ، وہ کہتے ہیں کہ یہ امتحان ہے حق اورسچ ،انصاف اورعدل کا ،