fbpx

خان صاحب، اجازت ہو تو گھبرا لیں،پانی سر سے گزرنے والا ہے، مبشر لقمان پھٹ پڑے

خان صاحب، اجازت ہو تو گھبرا لیں،پانی سر سے گزرنے والا ہے، مبشر لقمان پھٹ پڑے
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ اس وقت ہر شخص ایک دوسرے یہ سوال کر رہا ہے کہ کیا پی ڈی ایم کی کشتی ڈوب چکی ہے؟کیا اپوزیشن بکھر چکی ہے۔؟کیا عمران خان اس بحران سے زیادہ طاقتور ہو کر نکلیں گے۔؟کیا عمران خان اور حکومت پی ڈی ایم کو شکست دے چکے ہیں۔۔؟اگر میں کہوں نہیں تو بہت سے لوگ کہیں گے کہ یہ کیا بات کر رہا ہے۔۔؟پیپلز پارٹی نے استعفے دینے سے انکار کر دیا ہے، لانگ مارچ کی دور دور تک کوئی خیر خبر نہیں، اکتیس جنوری گزرے کئی دن ہو چکے ہیں اور پی ڈی ایم استعفے، لانگ مارچ اور دھرنے کی بات کرنے کی بجائے سینٹ الیکشن کی تیاری کر رہی ہے۔پی ڈی ایم نے تو طاقت ور حلقوں کو بے نقاب کرنا تھا ان کا سیاست سے کردار ختم کرنا تھا۔ اب مولانا کہتے ہیں ہماری فوج سے کوئی لڑائی نہیں، مریم خاموش ہیں، نواز شریف نے کرداروں کے نام لینے کی بجائے گونگلوں سے مٹی جھاڑنا شروع کر دی ہے۔

مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ تو ابھی بھی پی ڈی ایم ناکام نہیں ہوئی تو اور کیا ہوا ہے۔اس بات کو سمجھنے کے لیئے ضروری ہے کہ ہم اس بات کا مشاہدہ کریں کہپی ڈی ایم کی تحریک سے پہلے عمران خان کہاں کھڑے تھے، آج کہاں کھڑے ہیں اور کل کہاں کھڑے ہوں گے؟میری نظر میں پی ڈی ایم اپنا کام کر چکی ہے۔ آج تک کسی بھی تحریک سے نہ حکومت گری ہیں اور گرتی ہیں بلکے اس کا مقصد حکومت کو کمزور کرنا، اس کی ساکھ کو نقصان پہنچانا اور اس کے عزم کو متزلز کرنا ہے۔؟کل تک لوگ پوچھتے تھے کہ کہاں ہے اپوزیشن، عمران خان کی حکومت کو کسی سے کوئی خطرہ نہیں، اپوزیشن زمیں بوس ہو چکی ہے اس کے لیڈران مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں شریفوں کی سیاست کا خاتمہ ہو چکا ہے اب ن لیگ کئی حصوں میں تقسیم ہو جائے گی، پیپلز پارٹی کا سندھ سے خاتمہ کر کے سندھ حکومت چھین لی جائے گی۔نیب احتساب کرے گی، ملک کی لوٹی دولت واپس لائی جائے گی، ملک خوشحال ہو گام پاکستان کے پاسپورٹ کی دنیا پھر میں عزت ہو گی، امریکی صدر ہمارے احترام میں سجدہ ریز ہو جائے گا۔اور عمران خان نہ صرف یہ پانچ سال بلکہ اگلے پانچ سال بھی پورے کریں گے۔لیکن آج عمران خان کہاں کھڑے ہیں۔۔

مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ سینٹ الیکشن میں اس وقت حکمران جماعت کو یہ شک ہے کہ ان کے لوگ شائد ووٹ نہ ڈالیں اور کئی سیٹیں اپوزیشن لے اڑے۔ ترجمانوں کی فوج ظفر موج ہونے کے باوجود عمران خان کو ہر روز اپنے دفاع کے لیئے آنا پڑتا ہے۔ مارچ میں سیںٹ الیکشن کے بعد حکومت کا گھر بھیجنے کا منصوبہ بنایا جا رہا ہے، سندھ میں تحریک انصاف اپنی ہی جیتی سیٹ ضمنی الیکشن میں ہار چکی ہے۔ ہر طرف مہنگائی کا رونا ہے، لوگ شک میں پڑ چکے ہیں کہ کیا عمران خان میں قوم کو اس بحران سے نکالنے کی قابلیت ہے۔؟یہ تاثر عام ہو چکا ہے کہ طاقتور حلقے عمران خان کو اس طرح آنکھیں بند کر کے سپورٹ نہیں کر رہے جیسے پہلے کر رہے تھے، ورنہ سندھ کی سیٹ تحریک انصاف نہ ہارتی۔اس وقت اپوزیشن یہ کوشش کر رہی ہے کہ عمران خان پر گند اچالنے کا سلسلہ جاری رکھا جائے مگر انہیں سیاسی شہید نہ بننے دیا جائے ورنہ یہ اپوزیشن کے لیئے ڈراونا خواب بن جائیں گے۔؟شریفوں کے بغیر ن لیگ کے وجود کا مفروضہ دم توڑ چکا ہے۔پیپلز پارٹی سندھ تو کیا پنجاب اور وفاق میں بھی حصہ مانگنے جا رہی ہے۔

مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ تحریک انصاف کے وفاق میں اتحادی اب سودے بازی کر رہے ہیں اور صرف بہانے کئ انتظار میں ہیں۔بات یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ تحیک انصاف کا کوئی بندہ اس قابل نہیں کہ جہانگیر ترین کی جگہ لے لے، جو ہیں ان پر خان صاحب اعتبار نہیں کر رہے۔ چوہدری پرویز الہی کو پنجاب میں سینٹ الیکشن کے معاملات دیکھنے کی ذمہ داری دی گئی ہے۔ابھی جوتیوں میں دال بٹے کی تو ہر طرف سے شور مچے گا۔ عمران خان کے مشیر اس حد تک تیزی دیکھا رہے ہیں کہ اجھے بھلے لیڈر جو کسی بھی مشکل سوال سے کبھی نہیں گھبرایا اسے پبلک کال میں پہلا کالر ہی ایسا دیتے ہیں جو کاغذ سے دیکھ کر سوال پڑھ رہا تھا، ہم نے ساری زندگی پراگراموں مین لائیو کال لی ہیں ہمیں پتہ ہے کہ کون سا کالر اصلی اور کون سا تیار کیا گیا ہے۔مہنگائی پر خان صاحب ٹویٹ کر کے خوشخبری دیتے ہیں کہ ہماری مہنگائی کم کرنے کی کوششیں رنگ لا رہی ہیں، ہمارے حکومت بننے سے پہلے Consumer price index اورCore inflation کے جو اعداد و شمار تھے آج یہ اس سے کم ہو چکے ہیں۔

مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اس بات کو عمران خان اور مجھ سے زیادہ کوئی نہیں سمجھ سکتا کہ دو ہزار چودہ کے عمران خان کے ناکام دھرنا ہی اس کی کامیابی کی اہم وجہ تھا جس نے انہیں وزیر اعظم بنایا۔ آج اپوزیشن وہی کھیل کھیل رہی ہے، وہ اگلے پانچ سال تو دور کی بات ان پانچ سالوں کو بھی عمران خان کے لیئے ڈراونا خواب بنانا چاہتی ہے، ہر موڑ پر رکاوٹ ہر موڑ پر مشکل۔خان صاحب نے تو مہنگائی کنٹرول کرنے کی خوشخبری سنا دی۔ لیکن کچھ حقیت میں بھی بتا دیتا ہوں، عوام تو کیا مجھ جیسے بندے کو بھی یہ اکنامک ٹرمز سمجھ نہیں آتی۔ خان صاحب جب آپ آئے تھے اس وقت
Cooking oil کا پیکٹ ایک سو اسی روپے کا تھا آج دو سو اسی روپے کا ہے۔آپ کو بتایا گیا ہے کہ ڈالر کی وجہ سے قیمتیں بڑھتی ہیں۔ گزشتہ کئی ماہ سے ڈالر ایک سو اڑسٹھ سے ایک سو ساٹھ پر آ چکا ہے، کار مافیا چھ دفعہ قیمتیں بڑھا چکا ہے، کوئی ہے انہیں پوچھنے والا، چلیں یہ تو امیروں کا شوق ہے، غریبوں کی بات کر لیتے ہیںہر غریب کا خواب اپنا گھر ہوتا ہے۔؟جو گھر تیس کا بن رہا تھا آج پچاس لاکھ کا بن رہا ہے۔ آپ کو میں Lesco کی ویب سائٹ پر دو سو یونٹ کے بل کی Calculationبتاتا ہوں جو 1771 روپے بن رہی ہے یہ وہ ہے جو آپ کو بتائی جاتی ہے لیکن جو بل آ رہا ہے زرا وہ بھی دیکھ لیں دو سو یونٹ کا بل ایک سو اڑسٹھ یونٹ Off peak time اوربتیس ہونٹ Peak time کل دو سو یونٹ کا بل4540روپے اب کون سا ایسا غریب ہے جو دو سو یونٹ سے بھی کم بجلی استعمال کرتا ہو گا۔پٹرول کی بات کی جائے تو آج 57 $ per barrel پرپٹرول اس قیمت پر فروخت کیا جا رہا ہے جو 88 $ پر کئی سال پہلے پاکستان میں ہو رہا تھا۔

مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ یہ پیسہ کہاں جا رہا ہے۔۔؟قرضوں کی واپسی میں ۔۔ تو قرضوں میں کمی آئی یا اضافہ ہوا۔۔؟؟کیا تعلیم میں کوئی تبدیلی آئی؟کیا لا اینڈ آرڈر میں کوئی بہتری آئیکیا صحت کے شعبے میں کوئی تبدیلی آئی کیا سرکلر ڈیبٹ میں کوئی کمی آئی کیا بے روزگاری میں کوئی کمی آئی کیا کرپشن میں کوئی کمی آئی کیا پاکستان کے سفید ہاتھی سمجھے جانے والے کسی ایک بھی ادارے کو بہتر کرنے میں کامیابی حاصل ہوئی۔؟کیا لوگ آج اتنے ہی خوشحال ہیں جتنے تین سال پہلے تھے۔؟اگر نہیں آئی تو پھر کہیں نہ کہیں خرابی ضرور ہے اور میں اس قوم کو جانتا ہوں یہ بہت بے صبری قوم ہے یہ اپنا فیصلہ سنانے میں دیر نہیں لگائے گی۔اگر احساس پروگرام چل رہا ہے تو بتائیں اس قوم کے کتنے لوگ لائن میں لگ کر روٹی کھائیں گے یا وظیفہ لینے کے لیئے لائن میں لگیں گے۔؟ہم دیکھتے آ رہے ہیں کہ جب حکمران ایوان اقتدار میں بیٹھتے ہیں تو وظیفہ خور مشیر اپنی نوکریاں پکی کرنے کے لیئے خوشامد میں زمین اور آسمان کے قلابے ملا دیتے ہیں۔لیکن زمین پر صورتحال مختلف ہوتی ہے۔

مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اس لیئے اس وقت اس چیز کی اشد ضرورت ہے کہ تنقید کرنے والوں کو اپنا دشمن سمجھنے کی بجائے ان کی باتوں پر کان دھریں اور لوگوں کی زندگیاں آسان کریں ورنہ آج مجھ سے کوئی پوچھے گا کہ کل عمران خان کہاں کھڑے ہوں گے تو اس کا جواب بہت سادہ ہے۔بنی گالہ میں۔۔ وقت کم اور مقابلہ سخت ہے۔اگر مہنگائی واقعی کم کرنی ہے تو فوری ایک کمیشن بنائیں، صرف حقائق جاننے کے لیئے۔۔کہ دوہزار آٹھارہ سے آج تک کتنی مہنگائی ہوئی ہے جو کئی سو فیصد بنتی ہے۔ اس کی وجہ جاننے کی کوشش کریں۔ اس کا جواب ڈالر نہیں بلکہ مافیا کی من مانیاں اور انتظامیہ کی کھلی چھٹی ہےجس سے پوچھو بھائی یہ چیز کل تو اتنے کی تھی اگے سے جواب آتا ہے عمران خان۔نمک جیسی پتلی چینی کی قیمت کم ہونے اور سیزن میں الو کی قیمت کم ہونے سے ہم یہ
نہیں کہہ سکتے کہ مہنگائی کم ہو گئی ہے۔اپوزیشن کا ماضی جتنا داغدار ہے آپ کو کسی سے کوئی خطرہ نہیں اگر خطرہ ہے تو معیشت اور مہنگائی سے جو لوگوں کی زندگی پر ڈائریکٹ اثر انداز ہوتی ہے۔ یہاں کوئی کرپٹ اور ایماندار نہیں دیکھتا بلکہ یہ دیکھتا ہے کہ ہمیں فائدہ کس نے پہنچایا۔ہماری زندگی میں آسانیاں کس نے پیدا کی، ٹیکس بھی عوام کے لیئے جمع کیا جاتا ہے انہیں سکون اور تحفط کے لیئے سب کچھ کیا جاتا ہے لیکن کیا عوام مظئن ہے۔۔؟ اگر مجھ سے پوچھیں تو نہیں۔۔ عوام چاہتی ہے کہ آپ کامیاب ہو جائیں لوگ آپ کو پاکستان کی آخری امید سمجھتے ہیں، آپ کی ناکامی اس قوم کے ان نوجوانوں کی ناکامی ہے جنہوں نے آپ کی صورت میں روشن مستقبل کا خواب دیکھا تھا۔یہاں پاکستان کی اکشریت کو نہیں پتا تھا کہ دنیا پھر میں کیا ہوتا ہے، آُ نے انہیں بتایا تھا کہ دنیا کیسے چل رہی ہے۔۔۔ لیکن کیا کوئی ایک بھی چیز یہاں تک کہ ماڈل پرجیکٹ ہی لے لیں کچھ شروع ہوا یا مکمل ہوا۔؟

مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ مجھے پتا ہے آُپ بہت سے ایسے کام کر رہے ہیں جو ووٹ کے لیئے نہیں قوم کے لیئے ہیں۔ لیکن سب سے پہلے بنیادی ضروریات اور قوم کی زندگی میں آسانی ہے اس کے بعد سب کچھ آئے گا۔۔اللہ ہمیں حق سننے اور حق بولنے کی طاقت عطا فرمائے۔ آمین پاکستان زندہ باد

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.