fbpx

خانہ کعبہ کا نیا غلاف تیار ہوگیا جو رواں سال حج کے موقع پر کعبہ کی زینت بنے گا

سبحان اللہ ،خانہ کعبہ کا نیا غلاف تیار ہوگیا ، جو اس سال حج کے موقع پر کعبہ کی زینت بنے گا،ماشاءاللہ ،

باغی ٹی وی :پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ان کے صحابہ اکرم رضی اللہ تعالی و عنہ کی سنت پر عمل کرتے ہوئے ہر سال نو ذی الحج کو غلاف کعبہ (کسوہ) تبدیل کیا جاتا ہے-

سیاہ رنگ اور قرآنی آیات سے سجے ہوئے غلاف کو ہر سال اسی تاریخ کو تبدیل کیا جاتا ہے، کیونکہ حجاج وہ دن حج کے اہم ترین رکن وقوف عرفہ کے لیے عرفات کے میدان میں گزارتے ہیں اور کعبے میں ہجوم نہیں ہوتا تاہم ہر سل کی طرح اس سال بھی خانہ کعبہ کی زینت بننے والا کسوہ یعنی غلاف کعبہ بن کر تیار ہو چکا ہے-

غلاف کعبہ کی تاریخ:
حضرت ابراہیم السلام علیہ السلام نے مکہ کی بے آب وگیاہ اور چٹیل وادی میں قدم رکھا تب سے آج تک بلکہ تا قیامت یہ ودای انسانوں کے لیے کعبہ اللہ اور مسلمانوں کے لیے قبلہ کا درجہ اختیار کر گئی۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام اوران کے شیر خوار نے اپنی ام ھاجر کے ساتھ وادی میں قدم رکھا۔ ابراہیم علیہ السلام کے چلے جانے کے بعد ھاجرہ اپنے شیر خوار کے لیے پانی کی تلاش میں اس وادی میں چکر لگانے لگیں۔ اچانک ننھے اسماعیل کی ایڑھی کے نیچے سے پانی کا ایک فوارا پھوٹ پڑا۔ اسے زم زم کا نام دیا گیا اور وہ آج تک جاری وساری ہے۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام مکہ واپس ہوئے تو اس وقت ان کے بیٹے اسماعیل کی عمر 30 سال ہو چکی تھی۔ طبری اور تاریخ الامم الملوک کے مطابق دونوں باپ بیٹے نے اللہ کے حکم سے خانہ کعبہ کی بنیادیں کھڑی کیں۔ تاریخی کتب میں وارد ہے کہ انہوں‌ نے کعبہ کا غلاف بھی تیار کیا۔ اس وقت کعبہ ایک چھوٹی سے عمارت تھی۔ ‘تُبع’ بادشاہ نے غلاف کعبہ تیار کیا۔ پہلی بار خانہ کعبہ میں دروازہ لگایا۔ تاریخی کتب کے مطابق ‘تبع’ نے چمڑے کا غلاف تیار کرایا جس کا گہرا بھورا رنگ تھا۔

تاریخی روایات کے مطابق کعبہ شریف کے غلاف کے رنگوں کی تعداد سات تک ملتی ہے۔ خاکی، سرخ، سفید، زرد، سبز، سیاہ اور سنہری رنگوں کے غلاف بنائے گئے۔ سیاہ غلاف کعبہ شریف کی تاریخ میں سب سے زیادہ عرصے تک استعمال ہوا۔

عض اوقات ایک ہی وقت میں ایک سے زاید رنگوں کا غلاف بھی بنا۔ ایک بنیادی رنگ اور دوسرا اس کی تزئین وآرائش کے لیے استعمال کیا گیا۔ سیاہ کپڑے پر سنہرے رنگ کا دور اسلام کے بعد کا دور ہے۔ سیاہ کپڑے پر قرآنی آیات یا دیگر مقدس عبارات تحریر کی جاتیں۔ اس وقت غلاف کعبہ کے دو رنگ سفید اور سرخ استعمال اس کی تزئین کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔ یمنی کپڑے کا رنگ سفید اور سرخ ہوتا ہے۔

غلاف کعبہ کے خالص ریشمی کپڑا تیار کیا جاتا ہے۔ غلاف کے اوپر تلے مختلف پرت بنائے جاتے ہیں اور یہ اچھا خاصہ وزنی ہوتا ہے جسے اٹھانا آسان نہیں رہتا۔

خانہ کعبہ پر غلاف رکھنے کا عرصہ بھی مختلف رہا ہے۔ حالیہ عرصے میں ہر سال غلاف کعبہ تبدیل کیا جاتا ہے۔ ماضی میں بعض دفعہ غلاف کعبہ کو سال میں تین تین بار بھی تبدیل کیا جاتا رہا ہے۔

غلاف کعبہ کی تبدیلی کی مشہور تاریخوں میں یوم عاشور، یکم رجب، 27 رمضان، یوم الترویہ اور قربانی کا دن زیادہ مشہور ہیں۔

جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فاتح مکہ کی حیثیت سے شہر میں داخل ہوئے تو اس وقت قریش مکہ کا تیار کردہ غلاف کعبہ کی زینت تھا۔ آپ صلی اللیہ علیہ وسلم نے اسے تبدیل نہیں کیا بلکہ اسے باقی رکھا گیا۔ جب خانہ کعبہ میں خوشبو چھڑکنے والی ایک خاتون کے ہاتھوں غلاف کعبہ کا کچھ حصہ جل گیا تو آپ نے سفید اور سرخ رنگ کا یمانی کپڑے کا نیا غلاف بنوایا۔

آپ صلی اللیہ علیہ وسلم کے بعد آپ کے خلفا حضرت ابو بکر صدیق اور عمر فاروق رضی اللہ عنہما نے سفید رنگ کا غلاف کعبہ تیار کرایا۔ اسے قباطی کا نام دیا جاتا تھا۔ یہ بہت پتلا کپڑا تھا جسے مصر میں تیار کیا جاتا تھا۔

حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دور میں بیت المال سے سال میں دو بار غلاف بنایا اور تبدیل کیا جاتا۔ ان کے دور میں تبدیلی کے بعد پہلا غلاف شیبہ بن عثمان الحجی کے پاس رکھ دیا جاتا تھا۔

فاطمی دور میں کسوہ زرد رنگ کا رہا۔ محمد بن سبکتگین کے دور میں زرد ریشمی کپڑے کا غلاف بنایا گیا۔ عباسی خلاف ناصر نے سبز ریشم اور اس کے بعد سیاہ ریشم استعمال کیا جو آج تک جاری ہے۔

سعودی دور سے پہلے صدیوں تک کسوہ کے لیے کپڑا مصر سے آتا رہا۔ شاہ عبدالعزیز کے دور میں کسوہ کے لیے الگ محکمہ قائم کیا اور پہلی بار اس کے لیے کپڑا مکہ میں بننا شروع ہوا۔ بعد میں اس کا کارخانہ ام الجود منتقل کردیا گیا۔ اس کارخانے میں پانی کو پاک کیا جاتا ہے جس سے کسوہ میں استعمال کیے جانے والے ریشم کو دھویا جاتا ہے۔

ریشم کو بعد میں سیاہ اور سبز رنگوں میں رنگا جاتا ہے اور خصوصی کیمیکلز استعمال کیے جاتے ہیں۔ سوتی کپڑے کو بھی اسی طرح دھویا اور رنگا جاتا ہے۔

کسوہ کا سوتی استر بھی دھویا جاتا ہے اورغلاف کے باہر والے حصے کے لیے ریشم کو سیاہ اور اندرونی کو سبز رنگ دیا جاتا ہے۔ ہر کسوہ کے لیے 670 کلوگرام قدرتی ریشم کی ضرورت ہوتی ہے۔

ریشم اور سوت کے دھاگوں کی مضبوطی کا معیار یقینی بنانے کے لیے ان پر مختلف قسم کے ٹیسٹ کیے جاتے ہیں تا کہ وہ موسمی حالات اور خراب ہونے کے عمل کا مقابلہ کر سکیں چاندی کا پانی چڑھے دھاگوں پر بھی ٹیسٹ کیا جاتا ہے تا کہ ان کی موزونیت اور اعلیٰ معیار کو یقنی بنایا جا سکے۔

جہاں تک مشینوں پر کپڑے کی تیاری کی بات ہے تو متعلقہ کمپلیکس میں جدید جیکارڈ میشینیں لگائی گئی ہیں جو قرآنی آیات کی بنائی اور سیاہ ریشمی کپڑا تیار کرتی ہیں جس پر آیات اور دعائیں درج ہوتی ہیں۔

غلاف کعبہ پران مشینوں کے ذریعے قرآنی آیات اور دعائیں کاڑھی جاتی ہیں۔ اس غرض سے ریشم کے علاوہ سونے کے تار استعمال کیے جاتے ہیں۔ یہ مشینیں فی میٹر 9986 دھاگے استعمال کرتی ہیں، تاکہ کسوہ کو ریکارڈ مدت میں تیار کیا جاسکے۔

غلاف کعبہ کی لاگت کا تعلق تاریخی طور پر مکے کے حکمرانوں کی مالی حیثیت سے رہا ہے۔ لیکن ہر حکمران نے اچھے سے اچھا غلاف بنوانے کی کوشش کی ہے۔ اس کے لیے یمنی اور مصر کا قبطی کپڑا استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ کعبے کو قالین جیسے کپڑے سے بھی ڈھکا جاتا رہا ہے۔

حج کے موقع پر روایتی غلاف کعبہ کو 3 میٹر اوپر اٹھادیا جاتا ہے اور نیچے کی جگہ کو سفید سوتی کپڑے سے ڈھک دیا جاتا ہے۔ اس کا مقصد کسوہ کی صفائی برقرار رکھنا اور اسے پھٹنے سے بچانا ہے۔ ماضی میں ایسے واقعات پیش آتے رہے ہیں کہ عازمین حج تبرک کے طور پر اس کا ٹکڑا کاٹ لیتے تھے۔ اب اس کی ممانعت ہے۔

پرانے غلاف کو اتار کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں کاٹ لیا جاتا ہے۔ اسے سعودی عرب کا دورہ کرنے والے مسلمان رہنماؤں اور خاص اداروں کو بطور تحفہ پیش کیا جاتا ہے۔ بعض نجی ویب سائٹس پر کسوہ کے ٹکڑے فروخت کے لیے پیش کیے جاتے ہیں –

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.