خارجہ پالیسی یہ ہے کہ پاکستان ملی نغموں اور کاغذی نقشوں سے آگے نہیں بڑھ سکا،خرم دستگیر

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کے رہنما خرم دستگیر نے کہا ہے کہ خارجہ پالیسی یہ ہے کہ پاکستان ملی نغموں اور کاغذی نقشوں سے آگے نہیں بڑھ سکا

مسلم لیگ ن کے رہنما خرم دستگیر نے کہا ہے کہ خارخہ پالیسی سے متعلق ہے گزشتہ سال بدترین رہا ،ڈھائی سال کی سفارتی نالائقی کوتقریروں سے نہیں چھپایا جا سکتا،چین ،مقبوضہ کشمیر اور بھارت سے متعلق پالیسی کیا تھی؟ وزیراعظم عمران خان نے 2020 میں صوفہ پربیٹھ کر سفارتکاری کی ،سفارت کاری گیتوں اوربیانات کے ذریعے نہیں ہوتی ملاقاتوں کے ذریعے ہوتی ہے،

خرم دستگیر کا مزید کہنا تھا کہ بالاکوٹ پر حملے کی مجبوری کیاتھی ؟وزیراعظم نے کوئی وضاحت نہیں دی، عمران خان کی کمزور پالیسی نے بھارت کو مقبوضہ کشمیرپرمسلط کیا،کلبھوشن کے لیے خفیہ آرڈیننس کیوں جاری کیا گیا؟ پہلی مرتبہ بھارت آزاد کشمیراورگلگت پرحملے کی دھمکی دے رہا ہے،وہ کون سا ورلڈ کپ ہے جو عمران خان واشنگٹن سے لیکر آئے

خرم دستگیر کا مزید کہنا تھا کہ متحدہ عرب امارات کے معاملے پر وزیراعظم نے میگا فون سفارتکاری کی ،خلیجی ممالک کیساتھ تعلقات کوبہترکرنے کیلیے آنے والی حکومت کوبہت کام کرنا پڑے گا ، عمران خان کی حکومت نے خلیجی ممالک کیساتھ سفارت کاری ٹی وی ٹاک شوز،بیانات کے ذریعے کی ،ہماری کشمیر پر خارجہ پالیسی یہ ہے کہ پاکستان ملی نغموں اور کاغذی نقشوں سے آگے نہیں بڑھ سکا، سقوط ڈھاکہ کے بعد 2020  خارجہ پالیسی کا بد ترین سال تھا عمران خان کی نالائقی نے دشمنوں کو تقویت اور دوستوں کو پریشان کیا ، سی پیک سست روی کا شکار بنا دیا گیا چین ابھرتی ہوئی طاقت ہے،مسلسل رابطہ کاری ہونی چاہیے، ستر سال سے ساتھ کھڑا ملک بھی مدد واپس لینے پر مجبور ہوا ،خلیجی ممالک سے تعلقات بحال کرنا ہونگے ،سفارتکاری اورتعلقات قائم رکھنا عمران حکومت کے بس کی بات نہیں،

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.