خصلتِ اسلام ہے حیا تحریر :جویریہ بتول

حیا…!!!
(:جویریہ بتول).
ہے راحتِ روح،یہ راحتِ جہاں اِسے راہ کا سامان رکھنا…
خصلتِ اسلام ہے حیا، یہی اپنی اک پہچان رکھنا…
آنکھوں کی چمک سےجھلکے،لبوں کی جنبش سے ٹپکے…
جلوت و خلوت میں بس خیال یہ ہر آن رکھنا…
زندگی کی راہ میں چڑھو فراز کہ نشیب میں اُترو…
حیا کو ہر گام سنبھال کر،بلند اپنی پہچان رکھنا…
پیامِ رفعت ہے زادِ جنت، اسی کی خاطر سبھی محنت…
اِسی پہ چلنا،اِسی پہ رُکنا،دُور خود سے شیطان رکھنا…
حیا ہے خیر ساری کی ساری،اس کی جزا ہے بہت پیاری…
نسلوں کی پہچان ہے یہ،مقام اپنا ذی شان رکھنا…
یہ اخلاق کی تشکیل ہے ،یہ ایمان کی تکمیل ہے…
حیا کی جانب رواں دواں،بھاری اپنی میزان رکھنا…
پھول لگا ہو جب ٹہنی سے تو رہتی ہے تازگی باقی…
توڑ کر خود کو خوشبو سے خود کو نہ نیلام کرنا…
گناہ بنیں نہ اپنے بھاری،یوں گزرے نہ زندگی ساری…
بچا کر خود کو آگ سے، راہِ جنت آسان رکھنا…
حیا ہی ہو راہ کی روشنی،نہیں اس کا کوئی ثانی…
دے حدود سے آگہی،کردار رفعت کا آسمان رکھنا…!!!

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.