fbpx

صحافیوں کے خلاف کچھ ہوا تو سپریم کورٹ دیوار بن جائے گی، سپریم کورٹ

خط یا اخباری خبر پر نوٹس لینے کی روایات موجود ہیں، سپریم کورٹ

سپریم کورٹ میں از خود نوٹس لینے کے اختیارات کے تعین سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی

صدر پاکستان بار خوش دل خان نے عدالت میں کہا کہ رجسٹرار سپریم کورٹ کا نوٹ پڑھنا چاہتا ہوں،قائمقام چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ یہی تو غلط فہمی ہے یہ رجسٹرار سپریم کورٹ کا نوٹ نہیں ہے،جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ بنیادی سوالات 3 ہیں،آرٹیکل 184 تھری کے اختیار کے استعمال کا طریقہ کار کیا ہے؟ آرٹیکل 184 تین کا استعمال کیسے ہو گا؟ آرٹیکل 184 تین کا استعمال کون کر سکتا ہے؟ جوڈیشل کارروائی بعد میں ہوتی ہے،

صدر پاکستان بار نے کہا کہ سپریم کورٹ کا مطلب چیف جسٹس اور دیگر ججز صاحبان ہے،صحافیوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ کیلئے عدالت نے نوٹس لیا . عدالت نے کہا کہ بینچ نوٹس لے سکتا ہے مگرسوال یہ ہے کیا عدالت میں درخواست لی کی جاسکتی ہے؟ کیا کوئی عدالتی بینچ حکمنامے میں یہ لکھ سکتا ہے کون سا مخصوص بینچ اس کیس کو سنے گانظام عدل میں چیف جسٹس سربراہ انتظامیہ بھی ہوتا ہے، ہم جوڈیشل اختیار کا مکمل احترام کرتے ہیں،جوڈیشل اختیار کی اپنی الگ اہمیت ہے،

ریلوے کو ہم نے تباہ کیا 6 ماہ سے پہلے جو ریلوے میں ہورہا اس کا میں ذمہ دار نہیں ہوں : وزیر ریلوے

ریلوے کا خسارہ کب تک ختم ہو گیا؟ِ اعظم سواتی پھر تسلیاں دینے لگے

ججز کے خلاف ریفرنس، سپریم کورٹ باراحتجاج کے معاملہ پر تقسیم

حکومت نے سپریم کورٹ‌ کے سینئر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیخلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کر دیا

حکومت نے یہ کام کیا تو وکلاء 2007 سے بھی بڑی تحریک چلائیں گے،وکلا کی دھمکی

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ بھی میدان میں‌ آگئے، ریفرنس کی خبروں‌ پر صدرمملکت کوخط لکھ کر اہم مطالبہ کر دیا

سپریم کورٹ میں گن اینڈ کنٹری کلب کیس کی سماعت، عدالت نے دیا حکومت کو بڑا جھٹکا

وائس چیئرمین پاکستان بار نے عدالت میں کہا کہ اخباری خبروں پر نوٹس لینے کی روایات اور مثالیں بھی موجود ہیں،عدالت نے کہا کہ کسی درخواست پر جج نوٹس تو لے سکتا ہے اس کے بعد کیا کرنا ہے سوال یہ ہے،خط یا اخباری خبر پر نوٹس لینے کی روایات موجود ہیں،جب کسی جج نے نوٹس لیا تو بینچ چیف جسٹس نے بنایا،وائس چیئرمین پاکستان بار نے کہا کہ افسوس کی بات ہے پاکستانی معاشرے میں سچ بولنے پر سزا ملتی ہے،جسٹس قاضی محمد امین نے کہا کہ ماضی کی متنازعہ روایات موجود ہیں، کیا سائل کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ کہے اس کا مقدمہ کس جج نے سننا ہے؟صحافیوں کی طرف سے درخواست طے شدہ طریقہ کار کے تحت دائر کی جاتی تو معاملہ مختلف ہوتا . وائس چیئرمین پاکستان بار نے کہا کہ براہ راست درخواست پر ازخود نوٹس لینے کی کوئی ممانعت نہیں میری درخواست ہے کہ مجھے مکمل وقت دیں،

قائمقام چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ ہم آپ کو مکمل وقت دیں گے، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ ہمارا سوال کرنے کا مقصد آپ سے بحث کرنا نہیں ہے،

ازخود نوٹس لینے کے طریقہ کار کیس میں سپریم کورٹ نے فیصلہ محفوظ کر لیا قائم مقام چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ صحافیوں سے ہونے والی زیادتی پر کوئی دو رائے نہیں صحافیوں کی درخواست بر قرار ہے اس پر کارروائی بھی ہو گی از خود نوٹس کیس میں سرکاری ادارے اعتراض نہیں کر سکتے جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ صحافیوں کے خلاف کچھ ہوا تو سپریم کورٹ دیوار بن جائے گی آئین کا تحفظ اور بنیادی حقوق کا نفاذ عدلیہ کی ذمہ داری ہے جسٹس قاضی امین نے ریمارکس میں کہا کہ صحافی عدالت سے کبھی مایوس ہو کر نہیں جائیں گے

سپریم کورٹ کی جانب سے فیصلہ آج دوپہر کسی وقت بھی سنایا جائے گا ،عدالت نے کہا کہ فیصلہ سنانے سے آدھا گھنٹہ پہلے تمام فریقین کو آگاہ کیا جائے گا،قائمقام چیف جسٹس نے کہا کہ وقت کے ساتھ ساتھ چیزیں تبدیل ہوتی ہیں،آج ہم ویڈیو لنک کے ذریعے کراچی اور لاہور کے وکلا کو یہاں سے سنتے ہیں،ٹیکنالوجی کے آنے سے بہت سے معاملات بدل چکے ہیں، وقت کے ساتھ ساتھ 184(3) کی درخواست دائر کرنے کا طریقہ کار بھی بدل گیا آپ کا کہنا ہے کہ درخواست گزار نے درست طریقہ کار نہیں اپنایا،عدالت نے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ وہ سپاہی ہیں جو بغیر تیاری اور ہتھیار جنگ پر آگئے ہیں، جسٹس قاضی امین نے کہا کہ درخواست دیکھیں ایک دستخط 14 اور دوسرا 20 اگست کا ہے،اس کا مطلب ہے درخواست 14 اگست کو تیار تھی دائر کرنے کیلئے وقت موجود تھا اس وقت چیف جسٹس بھی پاکستان میں موجود تھے جن کو درخواست دی جا سکتی تھی،

صدر سپریم کورٹ بار نے کہا کہ 5رکنی بینچ نے قانونی سوالات اٹھائے ہیں،قانونی نقطے پر صحافی دلائل معاونت نہیں کرسکتے، درخواست گزار کے وکیل جہانگیر جدون نے بینچ پر اعتراض کر دیا ، جسٹس قاضی امین نے کہا کہ 5رکنی بینچ پر اعتراض جرم نہیں لیکن اس نقطے پر دلائل تو دیں،چیف جسٹس نے کہا کہ سوموٹو کیسز میں سرکاری ادارے درخواستوں پر اعتراض نہیں کر سکتے، جسٹس قاضی امین نے کہا کہ صحافیوں کی درخواست میں فریقین کے نام بھی شامل نہیں،آزادی صحافت پر حملہ سپریم کورٹ پر حملہ ہے،

Facebook Notice for EU! You need to login to view and post FB Comments!