fbpx

خاتون پر پولیس کے تشدد کا معاملہ ، ڈی پی او قصور نے اصل کہانی بتا دی

آج سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ایک پولیس اہلکار خاتون پر تشدد کر رہا ہے اور اسے دھکے دے کر نکال رہا ہے ، یہ واقعہ نواحی علاقے کھڈیاں خاص کا ہے ، جہاں ایک شخص نے مدرسہ بنا رکھا ہے

ڈی پی او قصور نے وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ غوث صابری کے رہائشی خافظ محمد اکرم نے 15 پر کال کی کہ اس کی زوجہ ہمراہ دس ، پندرہ خواتین مدرسہ پر قبضہ کی نیت سے اس کے گھر میں گھس آئی ہیں جس پر اے ایس آئی محمد امین نے ہمراہ لیڈی کانسٹیبلان موقع پر پہنچا اور مسمات خدیجہ بی بی جو کہ گھر کا تالا توڑ کر داخل ہوئی تھیں لیڈی کانسٹیبلان کی مدد سے ان کو نکالا

مسمات خدیجہ بی بی اور عاصمہ بی بی گھر سے نہ نکلنے پر بضد تھیں ، اسی اثناء میں خافظ محمد اکرم جو کہ بیٹے کی بارات لیکر منڈی عثمان والا گیا ہوا تھا موقع پر پہنچ گیا ، سب انسپکٹر محمد جمیل نے خواتین کو گھر سے نکالا ،

تاہم خاتون کے ساتھ بد تمیزی اور ناروا سلوک پر سب انسپکٹر محمد جمیل کے خلاف محکمانہ کاروائی شروع کر دی گئی ہے انکوائری شروع کر دی گئی ہے اور محمد اکرم کی مدعیت میں خواتین کے خلاف ضابطہ فوجداری کے تحت دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے

ڈی پی او قصور نے درخواست کی ہے کہ مکمل انکوائری تک لوگ پر امن رہیں ، جلد از جلد معاملے کی تہہ تک پہنچ کر حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں گے

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.