fbpx

کراچی:خاتون سے نومولود بچی چھینے جانے کے معاملے کا ڈراپ سین ہوگیا

کراچی: بلدیہ ٹاؤن سے مبینہ طور پر خاتون سے نومولود بچی چھینے جانے کے معاملے کا ڈراپ سین ہوگیا۔

تازہ ترین: پولیس حکام کا کہنا ہے کہ خاتون نے بچی چھینے جانے کا بے بنیاد دعویٰ کرکے پولیس کو گمراہ کیا، دعویٰ کرنے والی خاتون نے بچی اپنی سابقہ کرائے دار سے لی تھی جسے وہ اس کی حقیقی ماں کو واپس کر آئی تھی، جھوٹا دعویٰ کرنے پر خاتون اور اس کے اہلخانہ کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی جائے گی۔

پی ٹی آئی رہنما شہباز گل کے خلاف کراچی میں مزید 2 مقدمات درج

منگل کو مدینہ کالونی تھانے کے علاقے بلدیہ ٹاؤن روبی موڑ کے قریب سے مشرف کالونی کی رہائشی خاتون عینی بیگم کی جانب سے دعویٰ کیا گیا تھا کہ ان کی 11 روز کی نومولود بچی کو مبینہ طور پر اغوا کرلیا گیا ہے۔

واقعے کے بعد مغوی بچی کے اہلخانہ اور پولیس کی جانب سے بچی کو تلاش کیا گیا لیکن بچی کا کوئی سراغ نہیں ملا تھا جس پر پولیس نے واقعے کو مشکوک قرار دیتے ہوئے دعویٰ کرنے والی مغوی بچی کی مبینہ والدہ عینی بیگم زوجہ شاہد کی مدعیت میں بچی کےاغوا کا مقدمہ درج کرلیا تھا۔

مغوی بچی کی مبینہ والدہ عینی بیگم نے پولیس کو بتایا تھا کہ نومولود بیٹی کو اپنے فیملی ڈاکٹر کے پاس لیکر گئی تھی، واپسی میں بس میں سوار ہو کر بلدیہ روبی موڑ کے قریب بس سے اتری تو نومولود بیٹی سدرہ سلیپنگ بیگ میں موجود تھی اور بیگ میرے ہاتھ میں تھا، اسی دوران موٹر سائیکل پر سوار 2 نامعلوم ملزمان میری نومولود بچی کو چھین کر فرار ہوگئے۔

ڈی ایس پی بلدیہ ٹاؤن مصرور احمد جتوئی نے بتایا کہ رات گئے جب پولیس نے واقعے کی تفتیش شروع کی تو پولیس کو کہیں سے بھی بچی کے اغوا کے شواہد نہیں ملے، جس پر پولیس کو شبہ ہوا اور جب تفتیش کے دوران خاتون نے بتایا کہ بچی کی ولادت ایک دائی کے گھر پر ہوئی ہے اور جب پولیس اس دائی کے گھر پہنچی تو دائی نے بھی انکار کر دیا کہ ایسی کسی بچی کی ولادت نہیں ہوئی ہے جس سے یہ یقین ہوگیا کہ خاتون نے جھوٹا دعویٰ کیا ہے۔

ڈیجیٹل سگنیچر کیلئے سرٹیفیکیشن اتھارٹی کا اجرا

ڈی ایس پی نے بتایا کہ پولیس جب خاتون کے گھر پہنچی تو خاتون عینی بیگم کی والدہ نے ساری حقیقیت بتا دی اور مزید بتایا کہ بچی ان کی امبرین نامی خاتون کی تھی اور عینی نے امبرین سے بچی گود لی تھی اور چند روز گھر میں رکھنے کے بعد منگل کو ہی بچی اس کی حقیقی ماں کو واپس کر آئی تھی۔

پولیس حکام کے مطابق خاتون عینی بیگم کے شوہر شاہد نے دوسری شادی کر رکھی ہے اور شوہر دوسری بیوی کے ساتھ رہتا ہے، ایسا لگتا ہے کہ خاتون نے شوہر کی توجہ حاصل کرنے کے لیے جھوٹ دعویٰ کیا، پولیس نے خاتون اور اس کی والدہ کا ویڈیو بیان حاصل کرلیا ہے، ویڈیو بیان میں خاتون کی والدہ نے من و عن تمام واقعہ بتایا ہے۔

بعدازاں پولیس نے امبرین نامی خاتون، عینی بیگم، شوہر شاید اور ساس کو حراست میں لے کر تھانے منتقل کر دیا۔

تھانے میں امبرین نامی خاتون نے بتایا وہ عینی بیگم کی سابقہ کرائے دار ہے اور چار ماہ کرائے پر رہ کر جا چکی ہے۔ خاتون نے بتایا کہ انھوں نے اپنی بچی خود عینی کو دی تھی اور منگل کو انہیں بچی کی ضرورت محسوس ہوئی تو انھوں نے اپنی بچی واپس لے لی انہیں اس بات کا علم نہیں ہے کہ عینی نے اپنے شوہر کو کیا بتایا تھا۔

قتل، اندھے قتل، تیزاب گردی اور اغواء برائے تاوان میں ملوث 25 ملزمان گرفتار

عینی بیگم کے شوہر شاہد نے بتایا کہ 11 روز قبل بیوی عینی نے فون کال کر کے بتایا کہ اس کی طبعیت خراب ہے اور آپ رقم کا بندوبست کرلو اور کچھ گھنٹے کے بعد دوبارہ بیوی عینی بتایا کہ بیٹی کی ولادت ہوئی ہے اور ہم گھر آگئے ہیں جس کے بعد میں گھر پہنچا اور بچی کو دیکھ کر میں خوش ہوگیا، دوسرے دن بازارجا کر بچی کے لیے کپڑے اوردیگر سامان خریدا، تقریباً 10 سے 11 بجے نومولود بچی میرے گھر میں رہی، منگل کو بچی گھر میں موجود تھی اور بچی کو دیکھ کر گھر سے کام پر نکل گیا تو سوا بارہ بچے کے قریب بیوی عینی کا فون آیا کہ فوری روبی موڑ آجاؤ ہماری جان کو خطرہ ہے اور جب میں روبی موڑ پہنچا تو بیوی رو رہی تھی اور بتایا کہ دو نامعلوم ملزمان بچی چھین کر فرار ہوگئے ہیں۔

شوہر شاہد نے بتایا کہ سارا واقعہ بیوی اورساس کے علم میں تھا، میں اورسسر معاملے سےلا علم تھےانھوں نے بتایا کہ وہ اپنے گھر روزانہ آیا کرتے تھے اور بیوی بتاتی تھی اس کی طبیعت خراب ہے تو اپنے بڑے بیٹے کے ہمراہ بیوی کو ڈاکٹر کے پاس بھجوا دیا کرتا تھا۔

کراچی :ڈاکو خاتون سے شیر خوار بچی چھین کر فرار ہو گئے

عینی بیگم نے بتایا کہ چند روز قبل امبرین کا نکاح ہونے والا تھا اور نکاح سے پہلے امبرین سے فون کال کرکے بتایا کہ وہ بہت پریشان ہے، میرے یہاں بیٹی کی ولادت ہوئی ہے تو میں نے امبرین سے کہا کہ یہ بچی میری گود میں ڈال دو تو امبرین نے رضا مندی ظاہر کر دی اور بچی میری گود میں ڈال دی تھی-

عینی بیگم نے بتایا کہ امبرین جس شخص سے نکاح کر رہی تھی اس شخص سے امبرین یہ بات چھپائی تھی کہ اس کے یہاں بیٹی کی ولادت ہوئی ہے اور امبرین کا رشتہ جس خاتون نے کروایا تھا امبرین نے یہ بات اس خاتون سے بھی چھپائی تھی انھوں نےبتایا کہ امبرین کی عزت بچانے کے لیے انھوں نے بچی گود لی اور اپنے شوہر سے جھوٹ بول کر غلطی کی۔

عینی بیگم نے بتایا کہ انہیں بعد میں معلوم ہوا کہ امبرین کا تیسرا نکاح تھا، امبرین نے ان کے ساتھ ایسا کیوں کیا مجھے نہیں معلوم، جس دن امبرین کا نکاح ہوا تھا اسی دن بچی کی ولادت ہوئی تھی۔ امبرین نے بچی واپس لیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ بچی واپس تمہارے پاس پہنچ جائے گی اس لیے میں نے جھوٹا ڈراما رچایا جو کہ میری غلطی تھی۔

مارگلہ کی پہاڑیوں پر نایاب نسل کا تیندوہ مردہ حالت میں پایا گیا