fbpx

خواجہ سرا جو جنس منتخب کرتا ہے ہم وہی اندراج کرلیتے. نادرا کا شرعی عدالت میں جواب

خواجہ سرا جو جنس منتخب کرتا ہے ہم وہی اندراج کرلیتے. نادرا کا شرعی عدالت میں جواب

نیشنل ڈیٹابیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) نے ٹرانس جینڈر ایکٹ کیخلاف کیس میں شرعی عدالت میں جواب جمع کراتے ہوئے بتایا کہ خواجہ سرا اپنی جو جنس منتخب کرتا ہے ہم وہی اندراج کرلیتے ہیں۔ وفاقی شرعی عدالت میں خواجہ سراؤں کے تحفظ سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔ چیف جسٹس شریعت کورٹ جسٹس سید محمد انور کی سربراہی میں میں دو رکنی بنچ نے سماعت کی۔ درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ خواجہ سراؤں کے تحفظ کیلئے بنائے گئے قانون میں عجلت کا مظاہرہ کیا گیا۔

خواجہ سرا الماس بوبی نے بھی قانون کے خلاف موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ محض کسی کے احساس کی بنیاد پر جنس کا تعین نہیں کیا جاسکتا، آج میرے احساسات مرد والے، کل عورت والے ہونگے تو کیا میں اس بنیاد پر اپنی جنس تبدیل کرتا رہوں، کل اگر میں محسوس کروں ملک کا وزیراعظم ہوں تو کیا مجھے وزیراعظم والا شناختی کارڈ دے دیا جائے گا، این جی اوز کہتی ہیں ہم جنسی پرستی کریں ساتھ ہی ایڈز سے بچاؤ کیلئے احتیاطی تدابیر اختیار کریں، ہمیں تو سعودی عرب میں حج کرنے کی بھی اجازت نہیں ہے۔

خواجہ سرا جولی خاں نے دلائل دیے کہ ہمیں میڈیکل کرانے پر کوئی اعتراض نہیں ہے، ہمارے حقوق کو ہائی جیک کیا جا رہا ہے، میڈیکل بورڈ کے ذریعے تعین ہونا چاہیے میری جنس کیا ہے۔ نادرا کی طرف سے تحریری جواب جمع کرا دیا گیا جس کے مطابق جو خواجہ سرا اپنی جنس منتخب کرتا ہے ہم اس کے مطابق اندراج کر لیتے ہیں، سن 2012 سے لیکر آج تک تین ہزار 41 خواجہ سراؤں کا اندراج کیا گیا، خواجہ سراؤں کے تحفظ کے قانون سے قبل نادرا مرد خواجہ سرا یا عورت خواجہ سرا کے نام سے اندراج کرتا رہا، جب قانون بنا تو ہم ایکٹ کے تحت ایکس کا اندراج شروع کیا گیا، نادرا ریکارڈ کے مطابق 1953 مرد خواجہ سرا اور 902 عورت خواجہ سرا کا اندراج کیا گیا۔
مزید یہ بھی پڑھیں؛
آرمی چیف تقرری؛ وزیر دفاع نے وزیراعظم ہاؤس کو سمری موصول ہونے کی تصدیق کردی
خبردار۔!ایوان اقتدارمیں تھرتھلی۔24گھنٹےاہم:اعظم سواتی،بیگم تہجدگزار،بیٹا شراب کا سوداگر۔ثبوت حاضر ہیں۔
جی ایچ کیو نے آرمی چیف اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کی تعیناتی کی سمری بھجوا دی، آئی ایس پی آر
چیف جسٹس شریعت کورٹ نے نادرا کے وکیل سے اہم سوال کیا کہ کیا کسی شخص نے خواجہ سرا کی شناخت کو ختم کرنے کیلئے نادرا میں درخواست دی؟۔ وکیل نادرا نے جواب دیا کہ اس حوالے سے ریکارڈ چیک کرکے عدالت کو آگاہ کیا جائے گا۔ وکیل جے یو آئی ف کامران مرتضی نے کہا کہ یہ جانچنا ضروری ہے کہ تاثر میں تبدیلی کیا ذہنی خرابی کے سبب تو پیش نہیں آئی، یہ بھی جانچ ہونی چاہیے تاثر میں تبدیلی کی وجہ بدنیتی تو نہیں۔