خواجہ سرا کمیونٹی نے اپنے تخظ کیلیے حکومت کے سامنے مطالبات رکھ دیے

لاہور کے ایک نجی ہوٹل میں خواجہ سراء کمیونٹی کا ایک روزہ میڈیا سینسی ٹائزیشن ٹریننگ پروگرا م
ٹریننگ پروگرام میں صوبائی وزیر انسانی حقوق و اقلیتی امور اعجاز عالم آگسٹین کی خصوصی شرکت، تربیتی اجلاس میں میڈیا، کمیونٹی، سول تنظیم وغیرہ کے نمائندگان نے بھرپور شرکت کی

ڈائریکٹر پروگرام کے ایس ایس ماہ نور چوہدری نے تربیتی پروگرام کے اغراض و مقاصد پر تفصیلی روشنی ڈا لی،کمیونٹی نمائندگان کی جانب سے صوبہ بھر میں خواجہ سراء کمیونٹی پر تشدد کی روک تھام اور صوبائی سطح پر قانون سازی پر زور دیا گیا

صوبائی وزیر انسانی حقوق اعجاز عالم نے کہا کہ پنجاب حکومت کی جانب سے خواجہ سراء کمیونٹی کے تحفظ کیلئے قانون سازی سمیت دیگراقدامات یقینی بنائے جا رہے ہیں۔ٹرانس جینڈر شہریوں کو صحت، وراثت اور روزگار کا حق حاصل ہے۔تحریک انصاف کے دور حکومت میں خواجہ سراء کمیونٹی کے لئے بے شمار اقدامات کیئے گئے ہیں۔ٹرانسجنڈر کمیونٹی ایکٹ پنجاب 2020 کا مسودہ حتمی مراحل میں پہنچ چکا ہے۔ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ٹرانس جینڈر برادری کواحساس پروگرام کے تحت امداد فراہم کی گئی ہے۔

صوبائی وزیر کی اسلام آباد میں خواجہ سراء نایاب علی پر نامعلوم افراد کیجانب سے حملہ کی پر زور مذمت کی گئی ، ایسے گھناؤنے جرم میں ملوث افراد بہت جلد جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہوں گے اور ان کوقرار واقعی سزا دلوائی جائیگی،سیشن کے اختتام پر خواجہ سراء کمیونٹی کی جانب سے نایاب علی پر حملہ کے خلاف ایک مذمتی قرارداد بھی منظور کی گئی، کمیونٹی کی جانب سے مطالبہ کیا گیا کہ مستقبل میں اسطرح کے واقعات کی روک تھام کے اقدامات یقینی بنائے جائیں۔  

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.