fbpx

خواتین اساتذہ کے مسائل تحریر: آصف گوہر

حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ( ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ ) اور معاذ بن جبل کو ( یمن ) بھیجا تو ان سے فرمایا کہ ( لوگوں کے لیے ) آسانیاں پیدا کرنا، تنگی میں نہ ڈالنا، انہیں خوشخبری سنانا، دین سے نفرت نہ دلانا اور تم دونوں آپس میں اتفاق سے کام کرنا، ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم ایسی سر زمین میں جا رہے ہیں جہاں شہد سے شراب بنائی جاتی ہے اور اسے بتع کہا جاتا ہے اور جَو سے شراب بنائی جاتی ہے اور اسے مزر‏.‏ کہا جاتا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر نشہ لانے والی چیز حرام ہے
صحیح بخاری 6124
مہذب معاشروں میں قوانین اور پالیسیاں عوام کو سہولت فراہم کرنے کے لئے بنائی جاتیں ہیں اور جن قوانیں میں لچک نہیں ہوتی وہ ٹوٹ جایا کرتے ہیں ۔
چند روز قبل ماریہ احسان الہی کی ٹویٹ نظر سے گزری نفس مضمون کچھ یوں تھا ۔
"‏‎میں ایک ایسی ٹیچر کو جانتی ہوں جن کا مس کیریج ہوگیا اپنی جاب کی وجہ سے وہ روزانہ 46 km ایک طرف کا سفر کرتی تھی اسکول کے لیے نتیجتاً انہیں طلاق کا سامنا کرنا پڑا”
پڑھ کر دل پسیج کر رہ گیا کہ ملازمت ہنستا بستا گھر کے ٹوٹنے کا سبب بنا۔
ہمارے ہاں ملازمت پیشہ خواتین کے مسائل بہت زیادہ ہیں ۔جنسی درندوں کی بہتات میں خواتین کا ملازمت کے لئے نکلنا جان جوکھم میں ڈالنےسے کم نہیں ۔
سرکاری ملازمت والی خواتین کا ایک بڑا مسئلہ ملازمت کی جگہ کا گھر سے دور ہونا ہے جس کے لئے انہیں روز نوکری پر پہچنے کے لئے کئ کئ میل کا غیر محفوظ سفر کرنا پڑتا ہے۔اکثر خواتین کی شادی دوسرے شہروں میں طے ہونے کے بعد مشکلات اور بڑھ جاتی ہیں پبلک ٹرانسپورٹ پر یا پھر وین لگوا کر ڈیوٹی پر پہچنا پرتا ہے جس سفر کی تھکان کے ساتھ کرائے کی مد میں بھاری رقم خرچ کرنا پڑتی ہے اور ٹرانسفرز کا عمل اتنا پچیدہ اور مشکل ہے کہ بہت ساری خواتین تنگ آکر ملازمت چھوڑ دیتی ہیں جس سے انکو مالی مشکلات کے ساتھ ساتھ خانگی مسائل کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے ۔
پچھلے ماہ روالپنڈی میں ایسی ہی خواتین اساتذہ جنہوں نے سکول گھروں سے کافی دور ہونے کی وجہ سے وین لگوا رکھی تھی ڈیوٹی سے واپسی پر حادثہ کا شکار ہوئیں جن میں سے چار موقع پر زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئیں
اور ایک کا چار سال کا بیٹا بھی جاں بحق ہوگیا۔اور باقی شدید زخمی ہو کر ہسپتال پہنچیں
موجودہ پنجاب حکومت کے وزیر تعلیم ڈاکٹر مراد راس نے سکول ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ میں اساتذہ کو سہولیات فراہم کرنے کے لئے کئ انقلابی اصلاحات متعارف کروائی ہیں ۔ جس میں اساتذہ کے تبادلوں کے نظام کو مکمل ڈیجیٹلائز کردیا گیا ہے اساتذہ گھر بیٹھے اپنی ٹرانسفر کے لئے اپلائی کر سکتے ہیں ۔ لیکن اس کے باوجود خواتین اساتذہ کو خواہش کی جگہ ٹرانسفرز کے راہ میں کئ طرح کی رکاوٹیں حائل ہیں سیٹیں خالی نہیں یا وہ اپنے موجودہ سکول میں اساتذہ کی کمی کی وجہ سے اپلائی ہی نہیں کر سکتیں ۔
میں نے خود پنجاب کے دوردراز شہروں سے ٹرانسفر کے لئے آئی خواتین اساتذہ کو لاہور سیکرٹریٹ میں پریشان حال دیکھا جن کے پاس تعلقات اور تگڑی سفارش ہوتی ہے انکی ایکسٹریم ہارڈشپ کے تحت ٹرانسفر کردی جاتی ہے۔
وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان بزدار اور ڈاکٹر مراد راس سے التماس ہے کہ
خواتین اساتذہ کے لئے ٹرانسفرز کے عمل کو مزید آسان بنانے کی ضرورت ہے اور خواتین اساتذہ کو گھروں کے قریب تعینات کیا جائے ۔اور جواتین اساتذہ کو ویڈ لاک کی بنا پر دوران سروس ایک بار بلارکاوٹ تبادلے کی سہولت فراہم کی جائے۔ اور یہ کوئی مشکل کام بھی نہیں ہے ہر ڈسٹرکٹس میں اساتذہ کی ہزاروں آسامیاں خالی پڑی ہیں جن کاچیف ایگزیکٹو آفیسرز کو بخوبی علم ہے ۔
روزگار کے لئے سو سو کلومیٹر روز کا سفر اذیت ناک ہوتا ہے خانگی زندگی کو برباد کر دیتا ہے۔ اپنے بچے مطلوبہ توجہ سے محروم رہ جاتے ہیں ۔
آسانیاں پیدا کریں اور گھروں کو ٹوٹنے سے بچائیں ۔
@Educarepak