fbpx

خواتین کو ہراسمنٹ کرنا ایک معمول بن گیا ہے، تحریر:ذیشان علی

ہم ایسے معاشرے کا حصہ ہیں جسے دنیا میں اپنی ایک مثال قائم کرنی تھی اور پوری دنیا ہمارے اس معاشرے کی تعریف کرتی اور ہمیں سراہتی دنیا بھر میں یہ بات واضح ہوتی اور ہر کوئی اس کو تسلیم کرتا کہ پاکستانی معاشرے میں خواتین محفوظ ہیں، اگر ہم عملی طور پر اس کا ثبوت پیش کرتے،
لیکن بدقسمتی سے ہم نے اپنے رویوں سے اپنے اعمال سے ہم اس معاشرے کو دنیا میں تنقید کا نشانہ بنتے دیکھتے ہیں،
مجھے نہیں پتا معاشرے کا ایک طبقہ کہتا ہے کہ یہ سوشل میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا کی وجہ سے خوش خیالی اور بے انتہا آزادی کا نتیجہ ہے،

تو دوسرا طبقہ کہتا ہے کہ آزادی ہر عورت کا حق ہے وہ جس لباس میں چاہے جیسے چاہے اور جہاں چائے جا، آ، سکتی ہے کسی کو حق نہیں پہنچتا کہ کوئی اسے بری نظر سے دیکھے یا اس سے کوئی نامناسب حرکات کرے،
ہم بحثیت مشرقی اقدار سب سے بڑھ کر ایک مسلمان معاشرے کی سکونت اختیار کیے ہوئے ہیں،
یہاں ہمارے اعمال اور ہمارے طور طریقے اور ہماری تہذیب اور ہماری اقدار کو مناسب رویوں کے ساتھ ہے ہمیں اپنانا ہوگا۔
ہمارے معاشرے میں خواتین کے ساتھ زیادتی اور نامناسب رویوں کا بڑھتا ہوا اضافہ ہمارے لئے انتہائی شرم کا مقام ہونے کے ساتھ ساتھ دنیا میں ہمارے معاشرے کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے،
اور ہمیں پھر بھی شرم محسوس نہیں ہوتی کہ دنیا ہمارے اس عمل سے ہماری سوچ ہماری اقدار ہماری روایات کو برا سمجھتی ہے۔
اور ہمارے لوگوں کا شمار دنیا کے بدترین لوگوں میں کیا جاتا ہے، ہمیں اپنی اس روایات کو بدلنا ہوگا جو ہم نے نہ جانے کہاں سے سیکھ لی، ہمیں اپنے معاشرے اور اپنے ملک کی عزت و آبرو کو تار تار ہونے سے بچانا ہوگا۔
کسی بھی بچے، بچی یا عورت کے ساتھ زیادتی اور ناانصافی ہمارے معاشرے کی تباہی اور بربادی کو آواز دینے جیسی ہے،
بطور ماں باپ بطور اساتذہ بچوں کی اچھی تربیت کرنی ہیں انہیں یہ سکھانا بہت ضروری ہے تعلیم کے ساتھ ساتھ ادب واحترام اور شرم و حیا کا خاص خیال رکھنا ہے دین کے ساتھ جڑے رہنے سے ہم شیطانی وسوسوں سے دور رہ سکتے ہیں اگر ہم کوشش کریں تو ہم اپنے معاشرے کو ایک مثالی معاشرہ بنا سکتے ہیں،
ورنہ ہمارے معاشرے کی اس بگڑتی صورتحال کو جلد کنٹرول نا کیا گیا تو ایسے واقعات میں روز بروز اضافہ ہوتا جائے گا جو معاشرے اور ملک کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے،
اللّٰہ ہماری ماؤں بہنوں کو شرم والی چادریں نصیب کرے اور ہمارے بھائیوں کو بھی اللہ تعالی شرم و حیا دے کہ وہ معاشرے کی دوسری خواتین کو اپنی مائیں بہنیں سمجھے اور انہیں عزت و احترام دیں اور معاشرہ ایسے جرائم اور ایسے واقعات سے محفوظ ہو جائے،
سزا و جزا کے عمل کو ریاست ہے بہتر بنائے اور درندہ صفت انسانوں کو جو کبھی بھی انسان نہیں بن سکتے انہیں ہمارے معاشرے ہماری اصلاح اور ہماری روایات کا قتل ہرگز نہیں کرنے دینا چاہیے انہیں ان کے ہر برے کام پر ان کو بدترین سزا سے گزارا جائے تاکہ اگر انسان بن سکتے تو بہت ہی اچھا ہو گا اگر نہیں تو وہ اسی طرح اور ہمیشہ کے لئے سزا کے مستحق ہیں،
آئین پاکستان کی رو سے شہریوں کی عزت و ناموس ان کی جان اور ان کے مال کی حفاظت ریاست کی ذمہ داری ہے، ریاست اپنے فرائض کی ادائیگی کو یقینی بنائیں ،
اور ہمارے معاشرے کو چاہیے کہ تعلیم کے ساتھ ساتھ ساتھ بچوں کی اچھی تربیت کریں تاکہ وہ ایسی حرکتوں سے ایسے عمل سے ہمیشہ کے لئے باز رہے ہیں،
اللہ ب ہدایتوں کوہدایت دے، آمین

@zsh_ali