fbpx

خواتین اولاد نہ ہونے پر تعویز گنڈوں کی بجائے میڈیکل چیک اپ کو ترجیح دیں

جنرل ہسپتال میں خواتین کی صحت اور اُنکی خود انحصاری پر سیمینار کا انعقاد

پرنسپل پوسٹ گریجویٹ میڈیکل انسٹی ٹیوٹ پروفیسر ڈاکٹر سردار محمد الفرید ظفر نے کہا کہ سال نو 2023کو خواتین کے حقوق اور خود انحصاری کے طور پر منانے کی ضرورت ہے تاکہ خواتین معاشرتی ترقی اور ملکی خوشحالی میں اپنا حصہ ڈالنے کے ساتھ ساتھ نہ صرف اپنی صحت کے مسائل سے آگاہی حاصل کر سکیں بلکہ انہیں علاج معالجے اور ہیلتھ کئیر کے یکساں مواقع میسر آئیں۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے لاہور جنرل ہسپتال میں خوداتین کی صحت اور اُن کی خود انحصاری کے موضوع پر منعقدہ سیمینار سے خطا ب کرتے ہوئے کیا جس میں پروفیسر فہیم افضل،ڈاکٹر مصباح جاوید، ڈاکٹر لیلیٰ شفیق ، ڈاکٹر مہوش الیاس اور ڈاکٹر رضوانہ طارق نے بھی اظہار خیال کیا۔سیمینار میں نوجوان ڈاکٹرز سمیت ڈاکٹر محمد صفدر، ڈاکٹر محمد مقصود اور ڈاکٹر عبدالعزیز بھی موجود تھے۔ پروفیسر الفرید ظفر کا کہنا تھا کہ معاشرے میں خواتین بہت سے مسائل اور بیماریوں کے بارے میں کسی کو بتانے میں ہچکچاہٹ محسوس کرتی ہیں جس سے گائناکالوجی سے متعلق اُن کے امراض میں پیچیدگیاں پیدا ہو جاتی ہیں جو ان کی صحت کے لئے خطرناک ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ضرورت اس امر کی ہے کہ امراض نسواں کے علاج کے متعلق خواتین میں خود اعتمادی پیدا کی جائے تاکہ وہ معالجین سے بروقت طبی مشورہ حاصل کر کے علاج کروا سکیں۔ڈاکٹر لیلیٰ شفیق و دیگر طبی ماہرین کا کہنا تھا کہ حیض اور دوران حمل خواتین کو بہت سے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے جن کے بارے میں خصوصاً نوجوان لڑکیوں کو مناسب آگاہی اور معلومات نہ ہونے کے باعث ذہنی، جسمانی اورمعاشرتی مشکلات پیش آتے ہیں جس کے لئے ضروری ہے کہ مائیں سن بلوغت کے وقت اپنی بیٹیوں کو بنیادی معلومات اور ضروری مسائل سے آگاہ کیا کریں تاکہ انہیں کسی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے اور وہ با اعتماد طریقے سے اپنی عملی زندگی میں قدم رکھ سکیں۔

پرنسپل پی جی ایم آئی و معروف گائناکالوجسٹ پروفیسر الفرید ظفر کا کہنا تھا کہ خواتین اولاد نہ ہونے کی صورت میں اپنا میڈیکل چیک اپ کروانے کی بجائے تعویز گنڈوں کا سہارا لیتی ہیں جبکہ انہیں کسی اچھے ماہر امراض نسواں کی رہنمائی کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ یوٹرس، اووری میں غدود اور سسٹ بننا ایک عام سے بیماری بن چکا ہے جوخواتین میں نہ صرف بے قاعدگی کا باعث بنتا ہے بلکہ اولاد نہ ہونے کا ایک بڑا سبب بھی ہے تاہم خواتین کو اس کے لئے نیم حکیم کی بجائے کسی ماہر گائناکالوجسٹ سے مشورہ کر کے علاج کروانا ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ لیڈی ڈاکٹرز،گائناکالوجسٹ کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ آگاہی کے اجتماعات منعقد کر کے نوجوان لڑکیوں کا شعور اجاگر کریں تاکہ وہ مستقبل میں اپنی صحت کا خود خیال رکھ سکیں۔ سیمینار کے اختتام پر سوالد و جواب کا بھی سیشن ہوا اور شرکاء نے جنرل ہسپتال میں اس اہم اور حساس موضوع پر سیمینار کے انعقاد کے سراہا۔

ماموں کی بیٹی کے ساتھ گھناؤنا کام کرنیوالا گرفتار

پانی پینے کے بہانے گھر میں گھس کر لڑکی سے گھناؤنا کام کرنیوالا ملزم گرفتار

زبانی نکاح،پھر حق زوجیت ادا،پھر شادی سے انکار،خاتون پولیس اہلکار بھی ہوئی زیادتی کا شکار

رات بھر زیادتی کے بعد برہنہ حالت میں نرس کو سڑک پر ملزمان پھینک گئے

دو کمسن لڑکیوں کو برہنہ کر کے گھمانے والے کیس میں اہم پیشرفت