fbpx

کھیلوں کے میدان سفارتی تعلقات میں بہتری کا ذریعہ تحریر: ناصر بٹ

اور یوں پاکستان کی ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ میں فتوحات کا نہ رکنے والا سلسلہ کل رات بھی قائم رہا جب ہمسایہ برادر اسلامی ملک کی ٹیم کو ایک بار پھر ناقابل شکست پاکستانی ٹیم نے آخری دو اوورز میں سنسنی خیز میچ کے بعد شکست دے دی، اکثر ماضی میں یہ دیکھا گیا کہ پاکستان اور افغانستان کے میچ میں شائقین کے جذبات کو اس طرح پیش کیا گیا کہ یہ دو حریف ممالک کا میچ ہے اور شائقین ایک دوسرے کو دشمن کی نظر سے دیکھتے ہوئے بس ہر صورت گرانے کے خواہشمند ہیں، ہاں یہ سچ ہے افغانستان میں اس سے پہلے امریکی نواز حکومت کے ادوار میں جب بھی پاکستان افغانستان کا میچ ہوا، دونوں اطراف خصوصا افغانستان کے شائقین کی نظر میں ایک خاص نفرت کا عنصر دیکھا گیا جس کی بڑی وجہ بھارتی پراپیگنڈہ کے ذریعے ان کے دل میں پاکستان کے لیے پیدا کی گئی عداوتوں کا پہاڑ تھا لیکن جیسے ہی کابل میں افغان طالبان سرکار کا قیام عمل میں آیا دل پگھلے اور افغان عوام نے بھی دیکھا کہ افغانستان میں قیام امن میں پاکستان نے کس قدر تعمیری کردار ادا کیا اور بالآخر افغانستان جنگ زدہ حالات سے نکل کر ایک مستحکم اسلامی ملک بننے کی منزل پر چل نکلا، کل کے میچ میں افغان شہریوں کے جذبات الگ ہی تھے دونوں ممالک کے شائقین گھل مل کر بیٹھے میچ سے محظوظ ہوتے رہے، شائد ڈیورنڈ لائن کو مٹا کر بیٹھے تھے جیسے ایک ہی مذہب اور تقریبا یکساں کلچر والے دو مختلف حصوں میں رہنے والے دو بھائیوں کے مابین ایک لمحے کے لیے تمام فاصلے مٹ گئے ہوں، غور طلب بات یہ بھی رہی کہ افغان طالبان حکام کی جانب سے میچ سے پہلے دوران اور بعد میں بھی میچ کو دونوں ممالک کے مابین دوستی کے تناظر میں ہی پیش کیا گیا جبکہ پاکستانی سرکار اس ساری صورتحال میں دو قدم آگے ہی رہی، وزیراعظم نے میچ کے فوری بعد افغانستان ٹیم کی بہترین کارکردگی پر ان کو مبارک باد دی اور بطور کرکٹر ان کی جانب سے بہترین کرکٹ کھیلنے پر ان کو سراہا بھی اور مستقبل کے لیے نیک خواہشات کا اظہار بھی ہوا، یعنی یہ شاید گزشتہ تین میچز میں واحد میچ تھا جس میں پاکستانی شائقین کو بھی پاکستان کے جیتنے کی خواہش تو تھی لیکن افغانستان کی جیت بھی ان کی خوشی میں اضافے کا ہی باعث بنتی، کرکٹ سمیت دنیا بھر کے کھیل ممالک کے مابین سفارتی تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کا اہم ترین ذریعہ بن چکے، بات چاہے انگلینڈ اور آسٹریلیا کے کرکٹ میچ کی کریں یا پاکستان بھارت کی سیریز کی، دونوں ممالک کے عوام کو قریب لانے اور برف پگھلانے میں کھیل بہترین سفارتی آلہ بن چکے، پاک بھارت میچ کے دوران دونوں ممالک کے سوشل میڈیا صارفین بحث و مباحثے کی حد تک تو ایک دوسرے کے ساتھ مصروف عمل دکھائی دئیے لیکن بھارت کی بات کی جائے پاکستان یا افغانستان کی ٹیمز کی، تینوں ٹیمز کے کپتانوں سمیت کھلاڑیوں نے انتہائی ذمہ داری اور فراخی کا ثبوت دیا، ویرات کوہلی نے سپورٹس مین سپرٹ کا مظاہرہ کیا اور میچ ہارنے کے باوجود محمد رضوان کو بہترین کارکردگی پر مبارکباد دی جبکہ سابق کپتان مہندر سنگھ دھونی اس سے بھی دو قدم آگے بڑھے اور پویلین سے سٹیڈیم میں پہنچ کر پاکستانی ٹیم کو سراہا یہ ہی کل رات افغانستان کی ٹیم کی جانب سے دیکھا گیا جب سابق کپتان راشد خان میچ ہارنے کے باوجود بڑے دل کے ساتھ سٹیڈیم میں آصف علی کی دھوادھار بیٹنگ کو سراہتے نظر آئے، بس اب ضرورت ہے تو ممالک کے سربراہان کو سوچنے کی کہ وہ کس طرح دو طرفہ تعلقات کی بہتری میں کھیلوں کے میدانوں کو آباد کرتے ہوئے بطور سفارتی ہتھیار استعمال کر سکتے ہیں تاکہ شہریوں کے مابین بڑھتے فاصلے بھی کم ہوں اور دو طرفہ تعلقات میں بھی بہتری آئے