fbpx

خوفناک سیلاب سے تباہی: خیرپور میں لاش دفنانے کیلئے خشک جگہ ملنا مشکل ہوگیا

شہری لاش کو سیلاب کے پانی میں ٹھیلے پر رکھ کر خشک جگہ کی تلاش میں شہر میں گھومتے رہے

سیلاب میں گھرے متاثرین کی زندگی امتحان بن گئی،سندھ کے علاقے ٹھری میرواہ خیرپور میں خوفناک سیلاب سے قبرستان بھی ڈوب گیا، خیرپور میں لاش دفنانے کیلئے خشک جگہ ملنا مشکل ہوگیا،شہری لاش کو ٹھیلے پر رکھ کر گھومتے رہے-

باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق سندھ کے علاقے ٹھری میرواہ خیرپور سے خوفناک مناظر سامنے آگئے۔ لاش کو رکھنے اور دفنانے کیلئے خشک جگہ ملنا بھی مشکل ہوگیا۔

بااثر وڈیرے اپنے گھر اور فصلیں بچانے کیلئے دوسروں کو ڈبونے لگے ہیں

رپورٹس کے مطابق ٹھری میر واہ شہری ایک لاش کو ٹھیلے پر لیے گھوم رہے ہیں جو دو روز سے لاپتا شخص کی ہے اور پانی میں تیرتی ہوئی ملی تھی شہری لاش کو سیلاب کے پانی میں ٹھیلے پر رکھ کر خشک جگہ کی تلاش میں شہر میں گھومتے رہے۔

سیلاب کی وجہ سے ٹھری میرواہ کا دیگر شہروں سے زمینی رابطہ کئی روز سے منقطع ہے شہریوں کا کہنا ہے کہ انتظامیہ غائب ہے نا ایمبولینس ملی ہے نا کوئی اور سہولت ہے، لاش کو ریڑھی پر رکھ کر خشک زمین ڈھونڈ رہے ہیں قبرستان میں بھی پانی آچکا ہے جس کی وجہ سے تدفین کرنا ممکن نہیں۔

سیلاب متاثرین کی مد کیلئے امریکا، برطانیہ، فرانس اور جرمنی سمیت 7 ملکوں کی این جی…

دوسری جانب بلوچستان میں سیلاب میں گِھرے لوگ پانی میں چل چل کر خشک جگہ پر پہنچے تو پاؤں سے خون رسنے لگا، بعض کے پاؤں سوج گئے اور بہت سوں کو چھالے پڑ گئے سیلاب متاثرین سڑک پر بنی چارپائی کی جھونپڑی میں زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہے ہیں، معصوم بچے آلودہ ماحول اور گندگی میں مختلف بیماریوں میں بھی مبتلا ہو رہے ہیں۔

سیلاب متاثرین کا کہنا ہے کہ مسائل سے نمٹنا ان کے بس میں نہیں رہا، ڈيرہ اللہ یار میں بھی صورتِ حال بد سے بدتر ہے، سارا علاقہ زیرِ آب ہے اور ہر طرف گندا پانی جمع ہے، متاثرین گندا پانی پی کر اپنی سانسوں کو بحال کرنے کی تگ و دو میں مصروف ہیں سیلاب متاثرین کے گھر، سڑکیں سب زیر آب ہیں اور مویشی بھوک اور پیاس کی وجہ سے مر رہے ہیں۔

ملک بھرمیں سیلاب اور بارشوں سےجاںبحق افراد کی تعداد 1 ہزار 208 ہوگئی