fbpx

کراچی کی مستند آواز، اب صرف باغی ٹی وی پر.شہر کے مسائل پر ہو گی بے لاگ گفتگو،رضا ہارون کے ساتھ

کراچی کی مستند آواز، اب صرف باغی ٹی وی پر.شہر کے مسائل پر ہو گی بے لاگ گفتگو،رضا ہارون کے ساتھ

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر سیاستدان، تجزیہ کار رضا ہارون نے کہا ہے کہ باغی ٹی وی کی ٹیم، ناظرین، انتظامیہ کو سلام، میرا نام رضا ہارون ہے، پاکستان کے بڑے معاشی حب، شہر کراچی سے تعلق ہے، کراچی میں ہی سیاست کی ،وہیں سے سیاست کا آغاز کیا، ایم کیو ایم سے تعلق رہا پاک سرزمین پارٹی کا میں سیکرٹری جنرل رہا، اپنے تجربات کی روشنی میں اپنے مشاہدات کی روشنی میں کراچی کے مختلف ایشوز پر گفتگو کرتا رہا، سیمینارز ہوں یا ٹی وی ٹاک شوز ہوں، کوشش کی ہے کہ اپنی معلومات سے، تجربات سے کراچی کے مسائل کو سندھ کے شہری علاقوں کے مسائل کو ،پاکستان کے ان مسائل کو جن کا تعلق ایک عام آدمی سے ہوتا ہے، سیاسی استحکام سے ہوتا ہے ، انکو اجاگر کرتا رہتا ہوں

باغی ٹی وی کے یوٹیوب چینل پر پروگرام بے لاگ تبصرے میں گفتگو کرتے ہوئے رضا ہارون کا کہنا تھا کہ شکر گزار ہوں مبشر لقمان کا ، باغی ٹی وی کا ،انہوں نے مجھے موقع دیا کہ میں انکے پلیٹ فارم سے مختلف ایشوز پر آپ سے اپنے تبصرے، تجاویز، مشکلات،ایشوز ہیں جن سے ہم سب گزرتے ہیں، انکو شیئر کر سکوں،بنیادی طور پر جب ہم کراچی کی بات کریں گے تو ملٹی پل ایشوز ہیں یہ کراچی کے صرف ایشو نہیں بلکہ پاکستان میں جو گلا سڑا نظام جس کو ہم برائے نام جمہوریت کہتے ہیں، اس پر گفتگو کریں گے، ایکسپرٹ کو بھی لیں گے، انکی تجاویز بھی لیں گے، مختلف اداروں، محکموں سے بھی ،لوکل حکومت کے ایکسپرٹ سے بھی رائے لیں گے اور معلومات لے کر آپ کے ساتھ شیئر کریں گے،

رضا ہارون کا کہنا تھا کہ کراچی پاکستان کا سب سے بڑا میٹرو پولیٹن شہر، سیاسی طور پر لاوارث شہر ہے، اس شہر میں سیاسی، انتظامی، بلدیاتی مسائل ہیں، اونر شپ، ترقیاتی سکیموں کے مسائل ہیں، اس شہر میں مختلف ایجنسیز کام کرتی ہیں،یونٹی آف کمانڈ کا تصور اس شہر میں نہیں ملتا، اس شہر میں سنسرز کے مسائل ہیں، اس شہر کی پارٹی سپیشن پورے ملک کے لیے ٹیکس کی مد میں ہو، یا کسی بھی طریقے سے، اس شہر کے لوگوں کو شکایت ہے کہ نمائندگی، تعداد کے حساب سے، علاقائی اہمیت کے حوالہ سے ریاست نے، ریاست کے اداروں نے، وفاقی حکومت، صوبائی حکومت، پارلیمٹ، وہ تمام ادارے جو اتھارٹیز ہیں، جن کا کام ہے انفراسٹرکچر ڈیولپ کرنا، سوشل سیکٹر ایجوکیشن، ٹرانسپورٹ، صحت، بلدیاتی نظام ان تمام چیزوں کی محرومیاں، شکایت ہیں، یہ صرف کراچی نہیں بلکہ ملک کے کئی اور شہروں میں بھی مسائل ہوں گے،عام آدمی کے مسائل ملک بھر میں ایک ہی ہوتے ہیں، آئین پر بھی ہم بات کریں گے جس کو وفاقی حکومت فالو نہیں کرتی،ایجوکیشن کی بات کہ پرائمری ایجوکیشن ،کوالٹی کی ایجوکیشن فری پہنچانی ہے، آئین میں لکھا ہے لیکن کیا ہم پہنچا رہے ہیں؟ کیا ہمارے ہاں بنیادی جمہوریت ہے

رضا ہارون کا مزید کہنا تھا کہ کراچی کا ذکر بار بار ہو گا، اسلئے کہ کراچی صرف سندھ کا شہر نہیں بلکہ یہاں مختلف قومیتوں، مسالک، زبان کے افراد اس شہر میں رہتے ہیں، انٹرنیشنل لوگ بھی یہاں ہیں‌، کراچی کا پھیلاؤ اتنا زیادہ ہے کہ اسکو منی پاکستان بھی کہتے ہیں، منی پاکستان میں ہمارے پاکستانی بھائی جو رہتے ہیں وہاں حقوق کے حوالہ سے، حکومتی ذمہ داریوں کے حوالہ سے کیا ہو رہا ہے، کیا نہیں ہو رہا، کیا ہونا چاہئے تھا، اس سب پر بات کریں گے، کراچی کی آبادی کو صحیح نہیں گنا گیا، شہر تین کروڑ کی آبادی کراس کر گیا لیکن ایک کروڑ ساٹھ لاکھ کی آبادی کے حوالہ سے سہولیات دینے کا دعویٰ کیا جاتا ہے، کراچی مین سی پورٹ، انٹرنیشنل ایئر پورٹ ہے، یہ گیٹ وے ہے، پانی کا راستہ یہاں سے جاتا ہے، ہم جس پھلدار شاخ پر بیٹھے ہیں، جس کا پھل ہم سب کھا رہے ہیں، کیا اسکو پانی، کھاد دے رہے ہیں،کیا اس شہر کی پرورش ،نشوونما کر رہے ہیں، کیا انصاف کر رہے ہیں، اگر نہیں کر رہے تو کیا ہم اس شہر کی جڑوں کو کاٹ نہیں رہے، کراچی کی اونر شپ کا مسئلہ ہے،پاکستان ریلوے کی زمینیں بھی یہاں ہیں،اس شہر کا میئر جس کے پاس کراچی کا سارا علاقہ نہیں بلکہ کچھ علاقہ مختلف اتھارٹیز کے پاس ہے، اتنے بڑے شہر کو کیسے کمانڈ کیا جا رہا ہے، ایسا کیسے ہو سکتا ہے کہ آئین کی روح کو نہ سمجھیں جو ہمیں مکمل سہولیات، تحفظ دیتا ہے، یہاں تعلیم کے مسئلے ہیں، میئر تمام مسائل کو دیکھے، پانی کی ترسیل کا نظام درست ہے؟ ریلوے، پبلک ٹرانسپورٹ ہو، یا لوکل ٹرین، ماسٹر پلان کیا ہے؟ سٹی گورنمنٹ نے 2005 سے 2010 میں ماسٹر پلان بنایا تھا، اسکو سائیڈ پر کر دینا اور بغیر ماسٹر پلان کے شہر کو چلانا، کیا ایسا ہو سکتا ہے، کوشش کریں گے کہ ہفتہ وار آپ سے مسائل پر گفتگو کریں،ہم اپنے شہروں کو بہتر کرنے کے لئے باغی ٹی وی پر گفتگو کریں گے، آنیوالے پروگرام میں مختلف ایشوز، ٹاپک پر گفتگو کریں گے، کوشش کریں گے کہ کچھ پروگراموں میں ایکسپرٹ کو بھی لیں،

واضح رہے کہ ایم کیو ایم کے سابق رہنما رضا ہارون نے باغی ٹی وی کو بطور اینکر پرسن جوائن کیا ہے، باغی ٹی وی کراچی کے سینئر سیاستدان کا خیر مقدم کرتا ہے رضا ہارون 2009 میں سندھ کے صوبائی وزیر برائے اطلاعات و ٹیکنالوجی رہ چکے ہیں۔