fbpx

خطے کا امن برباد، بھارت نے شرلی چھوڑ دی، حقانی اور ملابرادر لڑائی کی وجہ کیا تھی؟

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ آج کی اس ویڈِیو میں آ پ کو بتائیں گے کہ ملا براد زخمی تھے یا ناراض۔ جبکہ بھارت نے ایک اور شرلی چھوڑ دی ہے اس کی کیا حقیقت ہے اور طالبان کے خلاف نہ صرف بغاوت کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے بلکہ امریکہ نے بھی شور مچانا شروع کر دیا ہے القاعدہ دو سال میں افگانستان میں قدم جما لے گی۔ اس کے علاوہ دیگر چیزوں پر بھی روشنی ڈالیں گے۔

مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ بھارت پھر بھونڈے حربوں پر اتر آیا، دہلی پولیس نے الزام لگایا ہے کہ اس نے پاکستان کا بھارت میں دہشت گردی کا منصوبہ ناکام بنا دیا ہے۔ اور چھ دہشت گردوں کو گرفتار کیا ہے جس میں سے دو کا تعلق پاکستا ن سے ہے۔ یہ بھارت کا پرانا حربہ ہے کہ وہ پاکستان پر پریشر ڈالنے کے لیے جھوٹے لزام لگاتا رہتا ہے ۔بھارتی پولیس کے ایسے متعدد دعوے ماضی میں بے بنیاد ثابت ہو چکے ہیں۔ دہشت گردی اور منظم جرائم کے اسپیشل سیل کے کمشنر نیرج ٹھاکر کے مطابق چھ لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے، جو ملک کے بڑے شہروں میں دہشت گردانہ حملوں کا منصوبہ بنا رہے تھے۔ ان میں سے دو پاکستان میں دہشت گردی کی تربیت حاصل کر کے آئے تھے۔ان حملوں کی منصوبہ بندی مبینہ طور پر پاکستان سے کی جارہی تھی اور اس کا مقصد آنے والے تہواروں کے دوران بھیڑ بھاڑ والے مقامات کو دہشت گردانہ حملوں کا نشانہ بنانا تھا۔ ہندوؤں کے دو بڑے تہوار درگا پوجا اور دیوالی اکتوبر اور نومبر میں آنے والے ہیں۔گرفتار کیے گئے کون لوگ ہیں؟دو افراد کو دارالحکومت دہلی سے، تین کو اترپردیش سے اور ایک شخص کو راجستھان سے گرفتار کیا گیا۔ پولیس نے ان کے پاس سے دو دستی بم، دو آئی ای ڈی، ایک کلوگرام آر ڈی ایکس اور اطالوی ساخت کا ایک پستول برآمد کرنے کا دعوی کیا ہے۔بھارت نے الزام لگایا ہے کہ ان میں سے دو افراد مبینہ طور پر عمان کے راستے پاکستان گئے تھے اور وہاں انہوں نے ہتھیار چلانے اور دھماکہ خیز مادوں کو استعمال کرنے کی تربیت حاصل کی تھی، ان لوگوں کو پاکستان میں پندرہ دنوں تک ایک فارم ہاؤس میں رکھا گیا تھا، جہاں پاکستانی فوج کے اہلکاروں نے انہیں اے کے 47 جیسے ہتھیار چلانے کی تربیت دی۔ بھارت داود ابراہیم کو ہمیشہ سے ہی بھارت میں آئی ایس آئی کے فرنٹ میں کے طور پر پیش کیا جاتا ہے اور وہی پرانے کہانی دہرانے کی کوشش کی جاتی ہے۔داؤد ابراہیم سے تعلق کا دعوی پولیس نے دعوی کیا کہ انڈر ورلڈ مفرور ڈان داؤد ابراہیم کا بھائی انیس ممکنہ حملوں کی تیاری میں مدد کر رہا تھا۔ وہ اپنے رابطوں کا استعمال کر کے تقرری، مالی امداد، ٹرانسپورٹ اور دیگر لاجسٹک کی فراہمی میں تعاون کر رہا تھا۔
اور تو اور سب سے بڑا مزاق یہ ہے کہ بھارتی پولیس کا کہنا ہے گرفتار ملزمان میں سے دو نے تسلیم کر لیا ہے کہ انہوں نے پاکستان میں تربیت حاصل کی تھی اور پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے اشارے پر کام کر رہے تھے۔اس سے پہلے بھارت گرفتار کیے گے لوگوں کو سالوں سال تک جیلوں میں رکھنے کے باوجود اپنے ہی لگائے ہوئے الزامت، اپنی پولیس ،عدالتوں اور اپنے سسٹم میں ثابت نہیں کر پائے۔گزشتہ مارچ میں عدالت کے حکم کے بعد 129 مسلمانوں کو 19 برس کے بعد رہائی نصیب ہو سکی تھی، جن کے خلاف گجرات پولیس نے دہشت گردی کے الزامات میں مقدمات دائر کیے تھے۔ اس وقت بھارت کے افغانستا ن میں پر چل چکے ہیں، مودی منہ چھپاتا پھر رہا ہے اور اجیت ڈوول کو ڈوبنے کے لیے چلو بھر پانی دستیاب نہیں کہ وہ تاریخی شرمندگی پر اس میں ڈوب مرے۔

مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ دوسری طرف بی بی سی نے رپورٹ کیا ہے کہ ملا برادر زخمی نہیں بلکہ ناراض ہیں اور قندھار میں ملا ہیبت کے پاس ہیں۔طالبان کے مطابق وہ بہت جلد واپس کابل آجائیں گے۔ بی بی سی یہ اسٹوری خدائے نور ناصر نے رپورٹ کی ہے ۔ جنہیں دوحہ اور کابل میں دو زرائے نے کنفرم کیا ہے کہگذشتہ جمعرات یا جمعے کی رات کو ارگ میں ملا عبدالغنی برادر اور حقانی نیٹ ورک کے ایک وزیر خلیل الرحمان حقانی جو سراج الدین حقانی کے چاچا ہیں کے درمیان تلخ کلامی ہوئی اور ان کے حامیوں میں اسی تلخ کلامی پر ہاتھا پائی ہوئی تھی جس کے بعد ملا عبدالغنی برادر نئی طالبان حکومت سے ناراض ہو کر قندھار چلے گئے۔ ذرائع کے مطابق جاتے وقت ملا عبدالغنی برادر نے حکومت کو بتایا کہ انھیں ایسی حکومت نہیں چاہیے تھی۔اسٹوری کے مطابق اگرچہ حقانی نیٹ ورک اور قندھاری طالبان کے درمیان ایک عرصے سے اختلافات موجود تھے اور ان اختلافات میں کابل پر کنٹرول کے بعد مزید اضافہ ہوا۔اب عمری یا قندھاری طالبان کے اندر بھی ملا محمد یعقوب اور ملا عبدالغنی برادر کے الگ الگ گروہ ہیں اور دونوں طالبان تحریک پر قیادت کے دعویدار ہیں۔جبکہ دوسری جانب حقانی نیٹ ورک کا کہنا ہے کہ دوسری مرتبہ اسلامی امارت ان کی جدوجہد کی بدولت قائم ہوئی ہے اس لیے زیادہ حق حکمرانی حقانی نیٹ ورک کا حق بنتا ہے۔
بی بی سی ک کے مطابق دوحہ اور کابل میں موجود ذرائع کا کہنا ہے کہ ملا عبدالغنی برادر نے نئی حکومت بننے کے بعد کہا کہاُنھیں ایسی حکومت نہیں چاہیے تھی جس میں صرف اور صرف مولوی اور طالبان شامل ہو۔اُنھوں نے 20 سال میں کئی تجربے حاصل کئے ہیں اور قطر کے سیاسی دفتر میں بین الاقوامی برادری سے وعدے کئے گئے تھے کہ ایک ایسی حکومت بنائیں گے جس میں تمام اقوام کے لوگوں کے ساتھ خواتین اور اقلیتوں کی بھی نمائندگی ہو۔ملا برادر وہ لیڈر ہیں جنہوں نے پہلی دفعہ ڈونلڈ ٹرمپ سے فون پر بات کی تھی جس کے بعد دوحہ معاہدے پر دستخط ہوئے تھے۔ اور ملابرادر کو امریکہ کے پریشر پر پاکستان نے رہا کیا تھا۔

مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ لیکن میں ایک بات بتادوں کہ بھارتی میڈیا نے اس معاملے کوسب سے پہلے اچھالا تھا، یہ بھارت اور مغرب کی خواہش ہے کہ کسی طرح یہ لڑ پڑیں۔ اس واقعہ کو ڈی جی ISI کے دورہ کابل سے ایک دن پہلے سے رپورٹ کیا جا رہا ہے اور کہا گیا تھا کہ ممکنہ طور پر وہ طالبان کے اختلافات دور کروانے گئے تھے ۔ لیکن ملا برادار نے اس کی تردید کر دی ہے۔ بہر حال یہ ایک حقیقت ہے کہ نرم اور سخت گیر طالبان میں کشمکش ضرور چل رہی ہے۔ کیونکہ دنیا نے اپنی مدد کو مطالبات سے مشروط کر دیا ہے۔ گزشتہ طالبان کے دور میں طالبان نے ایسی سختیوں کا سامنا کیا تھا کہ افغانستان کے پاس پٹرول خریدنے اور بجلی کے بلوں کے پیسے نہیں تھے۔ جن لوگوں نے وہ وقت دیکھا ہے اور اس کے بعد قطر میں وقت گزارہ ہے وہ طالبان کو اپنے سخت گیر مطالبات سے پیچھے ہٹنے، عورتوں کے حقوق اور INCLUSIVE GOVT کے لیے زور دے رہے ہیں، جبکہ سخت گیر طالبان کہتے ہیں کہ ہم نے بیس سال اس لیے قربانیاں دیں کہ دنیا کہ کہنے پر اپنی حکومت بنائیں۔اب طالبان کے ساتھ وہی شامل ہو گا جو ان کے خیالات سے اتفاق کرے گا۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے ایران کی خواہش پر شیعہ رہنماوں کو اپنی کابینہ میں شامل کرنے سے انکار کرت ہوئے سوال اٹھایا ہے کہ کیا ایران نے گزشتہ چالیس سال میں کسی سنی رہنما کو وزیر بنایا ہے۔جبکہ ایران کے حمایت یافتہ افغان کمانڈر اسماعیل خان نے دوبارہ اعلان جنگ کر دیا ہے اور انہوں نے پنجشیر مزاہمت کا ساتھ دینے کا اشارہ دیا ہے انہوں نے کہا ہے کہ پورے ملک سے لوگ اس مزاحمت میں شامل ہونے کی یقین دہانی کروا رہے ہیں۔ اور بہت جلد یہ مزاحمت زار پکڑ لے گی۔ اسماعیل خان وہ کمانڈر ہیں جنہوں نے ہرات میں طالبان کے سامنے سرنڈر کیا تھا اور طالبان نے انہیں معاف کر دیا تھا جس کے بعد وہ ایران چلے گئے تھے۔ اس وقت ہر ملک یہ چاہتا ہے کہ اس کے حمایت یافتہ لیڈروں کو نئی حکومت میں شامل کیا جائے تاکہ وہ کابل میں ان کے مفادات کا تحفظ کریں۔جبکہ امریکی انٹیلی جنس حکام نے کہا ہے کہ افغانستان میں القاعدہ ایک سے دو سال کے اندر امریکا کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔
امریکا کے انٹیلی جنس حکام کا کہنا ہے افغانستان میں القاعدہ کی واپسی کی ابتدائی علامات دیکھی جاسکتی ہیں، لیفٹیننٹ جنرل سکاٹ بیریئر کا کہنا تھا کہ القاعدہ ایک سے دو سال میں اتنی صلاحیت پیدا کرسکتی ہے کہ امریکا کو دھمکی دے سکے، القاعدہ کی واپسی کے ابتدائی دن پر نظر رکھیں گے۔ڈپٹی ڈائریکٹر سی آئی اے ڈیوڈ کوہن نے بھی خدشہ ظاہر کیا ہے کہ القاعدہ جلد امریکا پرحملہ کرسکتی ہے۔امریکہ نے گذشتہ ماہ کے آخر میں افغانستان پر فضائی حملے میں القاعدہ دہشتگرد کی ہلاکت کا دعوی کیا تھا، تاہم امریکی وزیرِ خارجہ انٹونی بلنکن کے اس حالیہ اعتراف کے بعد کہ وہ نہیں جانتے کہ افغانستان میں ڈرون حملے میں امدادی کارکن کی ہلاکت ہوئی یا دہشت گرد کی پر چین سمیت عالمی برادری نے امریکا سے ڈرون حملے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

Facebook Notice for EU! You need to login to view and post FB Comments!