fbpx

خطے میں قیام امن کے لئے پاکستان کا مثالی کردار .تحریر: ثاقب معسود

امریکا میں 20 سال قبل پیش آنے والے نائن الیون واقعات کے بعد افغان جنگ میں پاکستان امریکی اتحادی بنا۔ اگرچہ پاکستان نے صرف لاجسٹک سپورٹ فراہم کرنے اور امریکا کے اتحادی افواج کے ساتھ انٹیلی جنس شیئر کرنے پر اتفاق کیا ، لیکن پاکستان نے اس سے کہیں زیادہ حصہ ڈالا۔ پاکستان نے خطے میں دہشت گردی کو شکست دینے کے وسیع تر عالمی مفاد میں اتحاد میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا۔افغان جنگ میں شمولیت کی پاکستان کو بھاری قیمت چکانی پڑی، پاکستان میں دہشت گردی کانہ ختم ہونے والاسلسلہ شروع ہوگیا، دہشت گردوں نے حکومتی رٹ کوچیلنج کردیا،ہرطرف بم دھماکے اورافراتفری کاماحول بنادیا گیا،جس پر قابو پانے کے لئے پاک فوج نے بڑے پیمانے پر فوجی اپریشن کرنے کے ساتھ اپنے معاشرے کو ڈی ریڈیکلائزیشن کرنے میں نمایاں کردار ادا کیا۔ مدرسہ اصلاحات ، وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں(فاٹا)کا انضمام ، کم ترقی یافتہ علاقوں کو قومی دھارے میں لانا ، تعلیمی اصلاحات ، غربت کے خاتمے کے پروگرام اور نیشنل ایکشن پلان جیسے آئینی اقدامات پاکستان میں دہشت گردی کو شکست دینے کے لیے اٹھائے گئے اقدامات کی چند مثالیں ہیں۔ یہ واضح ہے کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی شراکت بے مثال ہے اور عالمی برادری بالخصوص امریکہ کو اس کو تسلیم کرنا چاہیے اور خطے میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے کردار کو سراہنا چاہئے لیکن اس کے برعکس پاکستان شکوک وشبہات اورڈبل گیم کے الزامات لگائے گئے۔

پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار پیس اسٹڈیز کی رپورٹ کے مطابق پاکستان نے اپنے پہلے فوجی آپریشن میں شمالی وزیرستان میں درہ اکاخیل کے ایک وزیر ذیلی قبیلے کے خلاف کارروائی کی جو جولائی 2003 میں امریکی فوجی کیمپ پر القاعدہ کے زیر قیادت حملے میں ملوث تھا۔ اکتوبر2003ء میں ٹی ٹی پی، القاعدہ عناصراوروزیرستان کے زلی خیل اور کری خیل قبیلوں نے ریاستی اداروں کیسامنے ہتھیار ڈالنے سے انکار کر دیاجن کے خلاف پاک فوج نے اپریشن کرکے ان عناصرکا خاتمہ کیا۔ وانا آپریشن مارچ 2004 میں ہوا تھا جس کے نتیجے میں چیچنیا اور ازبکستان سے تعلق رکھنے والے 63 دہشت گرد واصل جہنم ہوئے تھے اس آپریشن کے دوران القاعدہ کے ہاتھوں پاک فوج کے 26 فوجی جوانوں نے مٹی کاقرض اداکرتے ہوئے اپنی جانیں قربان کیں۔ اپریل 2004محسود قبیلوں کے خلاف شکائی میں آپریشن کیاگیا ۔ ستمبر 2005 اور 23 جنوری 2008 کو شمالی وزیرستان اور جنوبی وزیرستان میں بھی دہشت گرد عناصر کے خلاف آپریشن شروع ہوا۔

آپریشن شیردل کا مقصد باجوڑ ایجنسی کوٹی ٹی پی کیدہشت گردوں کے کنٹرول سے بازیاب کرانا تھا اور یہ اپریشن اگست 2008 ء سے 2 فروری 2010 ء تک جاری رہا۔ جس کے نتیجے میں تحریک نفاذ شریعت محمدی(ٹی این ایس ایم)کے سربراہ صوفی محمد اور ٹی ٹی پی سوات کے ترجمان مسلم خان پکڑے گئے۔ یکم ستمبر 2009 ء آپریشن بیا در شروع ہواجس نے نیٹو سپلائی ٹرکوں پر دہشت گرد حملوں کو کم کیا۔ آپریشن راہ نجات 16 ستمبر 2009 کو ڈیرہ اسماعیل خان ، فرنٹیئر ریجن ٹانک اور ژوب سے 90 فیصد دہشت گرد عناصر کا صفایا کر دیاگیا۔ 2011 میں 144 آپریشن کیے گئے جس کے نتیجے میں1016 دہشت گردجہنم کاایندھن بنے۔ 2012 میں پاکستانی فوج نے شمالی وزیرستان میں امن قائم کیا۔ 2013 میں کراچی اور بلوچستان کو پاکستان رینجرز کی کارروائیوں کی وجہ سے دہشت گردوں سے نجات ملی۔ آپریشن ضرب عضب شمالی وزیرستان پر مرکوز تھا ، 28 دسمبر 2014 تک اس علاقے میں 2100 دہشت گرد مارے گئے۔ فاٹا کی خیبر ایجنسی میں خیبر 1 آپریشن ٹی ٹی پی اور اس کے ساتھی لشکر اسلام کے خلاف تھا۔ خیبر ٹو آپریشن مارچ 2015 میں وادی تیراہ کو دہشت گردوں سے پاک کرنے کے ارادے سے شروع کیا گیا تھا جو ٹی ٹی پی ، لشکر اسلام اور جماعت الاحرار کے محفوظ ٹھکانوں میں تبدیل ہوچکا تھا۔ 2015 میں نیشنل ایکشن پلان(این اے پی)کے تحت کراچی میں امن واپس لایاگیا۔ 2016 میں بلوچستان توجہ کا مرکز تھا، پاک فوج کے جوانوں اوردیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے کالعدم تحریک طالبان سمیت دیگر شدت پسند گروہوں کے خلاف کارروائی کی۔ فروری 2017 میں ، آپریشن ردالفسادنے لاہور ، سیہون شریف ، خیبر پختونخواہ اور سابقہ فاٹا سے باقی دہشت گرد عناصر کا خاتمہ کیا۔ خیبر IV ، وسط جولائی 2017 نے خیبر ایجنسی کی وادی راجگال اور وادی شوال کودہشت گردوں سے صاف کرنے میں مدد کی۔ آپریشن ردالفسادسے ملک میں دہشت گردوں کاخاتمہ ہوا اورپاکستان میں امن کی فضاقائم ہوئی ۔ ابھی تک ملک دشمن عناصر کیخلاف ٹارگیٹیڈاپریشن کاسلسلہ جاری ہے،جہاں ہماری پاک فوج کے جری شیرجوان چھپے دشمنوں کوایک ایک کرکے واصل جہنم کرنے میں مصروف ہیں اوراپنی جانوں کے نذرانے بھی پاک وطن پرنچھاورکررہے ہیں۔اب وقت آگیا ہے کہ دنیا اس حقیقت کو تسلیم کرے کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں نمایاں کردار ادا کیا ہے اور نہ پاکستان بلکہ خطے کودہشت گردی کے ناسورسے پاک کردیاہے۔

@isaqibmasood