fbpx

خون عطیہ کریں، زندگیاں بچائیں تحریر: سیدہ بنت زینب

کیا آپ ایک منٹ کے لیے وقت نکال سکتے ہیں اور کچھ دیر کے لئے سوچ سکتے ہیں کہ جب آپ اس صورتحال میں ہوں کہ آپ کو کسی ایسی چیز کا انتظار کرنا پڑے جو واقعی، واقعی آپ کے لئے اہم ہے؟ اس واحد چیز کا انتظار کرنا جو آپ کو اس دنیا میں زندہ رکھنے کے لیے سب سے زیادہ ضروری ہو. ایک لمحے کے لیے سوچیں آپ یا آپ کے پیارے ایمرجنسی روم میں زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہے ہیں کیونکہ سرجری میں بہت خون بہہ رہا ہے اور آپکو فوراً خون کی ضرورت ہے لیکن خون کی فراہمی کافی نہیں ہے اور آپ کو خون کہیں سے نا مل رہا ہو….!
ایسی صورتحال سے گزرنا تو دور کی بات ہم ایسا سوچنا میں نہیں چاہیں گے لیکن یہ حقیقی زندگی میں ہوتا ہے اور ہوسکتا ہے کہ ہم میں سے کچھ نے پہلے ہی اس صورتحال کا تجربہ کر لیا ہو.
بدقسمتی سے پاکستان میں زیادہ تر لوگ خون عطیہ نہیں کرتے جس کی وجہ سے ہمارے ملک میں روزانہ کی بنیاد پر کافی اموات ہوتی ہیں مگر اس کا سب سے زیادہ نقصان تھیلیسیمیا کے مرض میں مبتلا معصوم بچوں کو ہوتا ہے کیونکہ وہ بوقت خون کا عطیہ نا ملنے کی صورت میں اپنی زندگی کی بازی ہارتے جا رہے ہیں. شاید اس سب کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ابھی تک پاکستان میں لوگ اس مسلئے کو سنجیدگی سے نہیں لے رہے.
جب ہم اپنے ننھے بیٹوں اور بیٹیوں کے رخسار کا لمس محسوس کر رہے ہوتے ہیں تب نہ جانے تھیلیسیمیا سینٹرز میں کتنی بے درد سوئیاں بچوں کی کلائیوں میں پیوست کی جا رہی ہوتی ہیں. کتنے ننھے پھول بہار سے پہلے ہی خزاں کی نذر ہو جاتے ہیں.
اپنے بچپنے کو پیشِ نظر رکھ کے تصور کیجیے تھیلیسیمیا کا شکار ان لاکھوں بچوں کا کہ سانسوں کی ڈور سلامت رکھنے کے لیے جو ہر پندرہ دن بعد خون کے عطیات کی بھیک مانگتے ہیں.
خون کا یہ عطیہ انکی معصوم آنکھوں کے بجھتے ہوئے خوابوں کو تعبیر دیتا ہے. ان کو دیگر صحتمند ہم عمروں کے ساتھ قدم بقدم چلنے کی توانائی فراہم کرتا ہے.
ٹیم سرعام پاکستان سید اقرار الحسن کی سربراہی میں ان معصوم بچوں کی مسکراہٹوں کے لیے تین سال سے اپنی جدوجہد (میرا خون بھی حاضر پاکستان) کا آغاز کیے ہوئے ہے. تھیلیسیمیا کے مریض بچوں کےچہروں پر زندگی کی خوشیاں بانٹتے ہوئے الحمدللہ ٹیم سرعام پاکستان کے جانباز پورے ملک میں روزانہ کی بنیاد پر اپنے خون سے اپنے حصے کی شمع روشن کرنے میں مصروف ہیں. ایمرجنسی میں خون کا عطیہ دے کر قیمتی جان بچانی ہو یاں تھیلیسیمیا سے لڑتے ننھے پھولوں کو مرجھانے سے بچانا ہو، ٹیم سرعام کے جانباز ہر جگہ اپنے خون کا عطیہ کرنے کے لیے صف اول میں ملتے ہیں. مجھے بتاتے ہوئے فخر ہو رہا ہے کہ رمضان المبارک کے مہینے میں ٹیم سرعام نے پاکستان کے ہر بڑے شہر میں بلڈ کیمپس کا انعقاد کیا تھا کہ کہیں بھی خون کی کمی کی وجہ سے کوئی زندگی نا مرجھائے.
اقرار بھائی نے ہم جانبازوں میں یہ سوچ پیدا کی کہ "خوش قسمت ہیں وہ لوگ جن کا خون کسی زندگی کا وسیلہ بن جائے. ‏خون عطیہ کرنا وہ نیکی ہے، جس میں ہم کسی کی جان بچانے کے کام آتے ہیں.” ہماری ٹیم کا ہر جانباز انتہائی شوق اور جذبہ جنون کے ساتھ اپنے اپنے محاذوں پر ڈٹا ہوا ہے.
خون کا کوئی نعم البدل نہیں. ہر خون کا عطیہ دینے والا تین معصوم زندگیاں بچاتا ہے. تو آئیں آج ہی یہ عہد کریں انشاء اللہ ہم سب خون کا عطیہ ضرور دیں گے. آپکے خون عطیہ کرنے سے کسی معصوم بچے کے چہرے پر جینے کی جو امید ملے گی، یقین کیجئے دنیا میں اس سے بڑھ کر کوئی خوبصورت احساس نہیں ہو سکتا. یہ عہد کر لیں کہ
"‏خونِ دل دے کے نکھاریں گے رخِ برگِ گلاب
ہم نے گلشن کے تحفظ کی قسم کھائی ہے”

@BinteZainab33