fbpx

خود انحصاری ہی قوم کی سیاسی، معاشی آزدی کی ضمانت ہے. وزیر اعظم شہباز

وزیر اعظم شہباز شریف نے اسلام آباد میں منعقدہ ٹرن آراؤنڈ پاکستان کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا پاکستان میں وسائل اور ہنرمند لوگوں کی کمی نہیں ہے، خود انحصاری ہی قوم کی سیاسی اور معاشی آزدی کی ضمانت ہے.

ٹرن اراؤنڈ پاکستان کانفرنس کنونشن سنٹر اسلام آباد میں ہورہی ہے جس میں وزارت منصوبہ بندی کے زیر انتظام کانفرنس میں معاشی ماہرین شریک ہیں.

ان کا مزید کہنا تھا کہ ہماری اصل منزل خودانحصاری ہے، پوری دنیا اس وقت معاشی بحران کا شکار ہےلہذا درست سمت میں نہ گئے تو تاریخ میں ہمارا ذکر بھی نہیں ملے گا، کسی سے گلہ نہیں کریں گے ، ہمیں ملک کی مستقل ترقی کے لیے کام کرنا ہوگا.

وزیراعظم کے مطابق گزشتہ حکومت نے کئی منصوبوں کو زیر التوا رکھا، اور گیس کے سستے، لانگ ٹرم معاہدے نہیں کئے گئے، گیس نہ ہونے کی وجہ سے 3 بجلی گھر اپنی استطاعت کے مطابق بجلی نہیں بنا سکتے۔ ایک وقت میں گیس 4 یا ساڑھے 4 ڈالر پر گیس مل سکتی تھی لیکن کسی نے اس توجہ ہی نہیں دی۔
انہوں نے دعوی کیا کہ د پیش چیلنجز پر قابو پانے کیلئے دن رات کوشاں ہیں اور انشاءاللہ اس معاشی مشکلات سے نجات حاصل کرلیں گے.

وزیر اعطم کا کہنا تھا کہ ہم کوئلہ لائیں گے اور اسے سی پیک میں استعمال کریں گے لیکن یہاں پر انہوں نے واضح کیا کہ دنیا بھر میں کوئلہ پہلے ہی مہنگا ہوچکا تھا. لیکن ہم افغانستان سے جلد کوئلہ امپورٹ کریں گے، یہ خریداری پاکستانی روپےمیں ہوگی، اس سے 2 ارب ڈالر کی بچت ہوگی۔

تاہم واضح رہے گزشتہ روز وزیر اعظم شہباز شریف نے افغانستان سے اچھی کوالٹی کا کوئلے کی برآمد ڈالر کے بجائے روپیہ میں کرنے پر زور دیا تھا.

وزیر اعظم نے کہا کہ بنگلادیش میں 6 ارب ڈالرکی لاگت سے بڑا انفرا اسٹرکچر بنایاگیا، وہاں کی حکومت یہ دعویٰ کررہی ہے کہ اس نے غیر ملکی امداد کے بغیر اسے مکمل کیا ہے۔ انہوں نے جادو سے اسے نہیں بنایا بلکہ محنت کی اور نتیجہ سامنے آیا۔

وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان میں کسی چیز کی کوئی کمی نہیں،ریکوڈک میں اربوں روپے کا خزانہ دفن ہے، پولان تک ایران کی حکومت نے بجلی کی ٹرانسمیشن لائن مکمل کرلی، 5 سال میں ہم گوادر کے لیے 26 کلو میٹر کی لائن نہیں بچھا سکے۔ گوادر میں اسپتال اور ایئرپورٹ بننا تھا اب تک نہیں بن سکا۔

وزیراعظم نے مزید کہا کہ پاکستان میں کسی چیز کی کوئی کمی نہیں، ہم پچھلی حکومت پر آسانی سے ملبہ ڈال دیتے اور کام کرتے نہیں، ہمیں ذاتی پسند ناپسند سے بالاتر ہوکر ہمیں مشکل فیصلے کرنے ہوں گے، ہمیں ایسے فیصلےکرنے پڑیں گے جو بھی حکومت آئے وہ تبدیل نہ ہوں۔

وزیر اعظم نے کہا کہ ہم زراعت پر توجہ دینا چاہتے ہیں کیونکہ یہ شعبہ چند مہینوں میں ہی نتیجہ سامنے لے آتا ہے۔ ہمیں برآمدات کو زیادہ سے زیادہ بڑھانا ہے۔ 14 ماہ میں کوشش کریں گے کہ معاشی استحکام لائیں لیکن یہ سیاسی استحکام کے ساتھ منسلک ہے۔