fbpx

خوردنی تیل کی درآمد جلد کی جائے، وزیرخزانہ

وفاقی وزیر خزانہ و محصولات مفتاح اسماعیل نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ وہ ملائیشیا اور انڈونیشیا سے خوردنی تیل کی درآمد کے عمل کو تیز کریں تاکہ صارفین کےلئے اس کی آسان فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے اور اس کی قیمتوں میں استحکام رکھا جا سکے۔

وزارت خزانہ کی طرف سے جاری بیان کے مطابق وفاقی وزیر نے خوردنی تیل کی دستیابی سے متعلق کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کی۔وفاقی وزیر برائے صنعت و پیداوار سید مرتضیٰ محمود، وفاقی وزیر تعلیم رانا تنویر حسین،وزارت صنعت وپیداوار اور تجارت کے سیکرٹریز، وناسپتی مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے نمائندوں اور سینئر افسران نے اجلاس میں شرکت کی۔

اس موقع پر سیکرٹری صنعت نے کمیٹی کو ملک میں خوردنی تیل کے سٹاک کی صورتحال اور انڈونیشیا اور ملائیشیا سے خوردنی تیل کی درآمد کی صورتحال سے آگاہ کیا،انہوں نے بتایا کہ ملک میں خوردنی تیل کا وافر ذخیرہ موجود ہے اور اس ماہ کے دوران ملائیشیا اور انڈونیشیا سے خوردنی تیل کے ٹینکرز پہنچنے سے اسٹاک کی پوزیشن بہتر ہوگی اوراس سے قیمت کو مستحکم کرنے میں مدد ملے گی۔

بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ اس سلسلے میں وفاقی وزیر صنعت و پیداوار انڈونیشیا کے حکام سے اہم بات چیت کے لیے انڈونیشیا روانہ ہو رہے ہیں۔ دریں اثناء رانا تنویر حسین نے وناسپتی مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے نمائندوں سے کہا کہ وہ اپنی قیمتوں پر نظر ثانی کریں اور عام آدمی کے لئے قیمتوں کو کم کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔

قبل ازیں وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کا پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ماضی میں اتنا معاشی مشکل نہیں دیکھا جتنا آج دیکھ رہا ہوں،1100 ارب روپے بجلی کی مد سبسڈی دی گئی ،500ارب روپے کا سرکلر ڈیٹ دیا ،16روپے فی یونٹ حکومت دے رہی ہے،یہ بھی عوام کے ہی پیسے ہیں،رواں مالی سال شعبہ گیس میں 400 ارب روپے سبسڈی دی گئی، 30 ،35 روپے بجلی کا یونٹ بنا رہے ہیں،ا گر باقی ممالک میں سستی گیس مل رہی ہے تو ہم مہنگی نہیں دے سکتے ،ملک میں 200 ملین ڈالر کی گیس کا پتہ ہی نہیں کہاں گئی ترسیلی نقصانات بہت زیادہ ہیں ان پرکام نہیں ہو رہا ہے ،ملکی انتظامی امور ٹھیک کرنا ضروری ہے ورنہ یہ ملک چلانا مشکل ہے 2 اعشاریہ 4 بلین کی گیس ہم ہوا میں اڑا دیتے ہیں،پاکستان باوقار اور نیوکلیئر پاور ملک ہے، ہمیں معیشت سنبھالنا ہوگی،فروری میں آئل اور پیٹرول پر سبسڈی معاہدے کی خلاف ورزی کی گئی اگر مزید مشکل فیصلے لینے ہوئے تو لیں گے، اس وقت چوائس نہیں

وزیرخزانہ مفتاح اسماعیل کا مزید کہنا تھا کہ عمران خان کے دور میں تاریخی معاشی خسارہ ہوا،عمران خان نے پورے ملک کے ساتھ ٹوپی گھمائی ہے،اگر سری لنکا جیسی حالت ہوئی تو لوگ معاف نہیں کریں گے ،ہمیں بجٹ میں 459 ارب روپے خسارے کا سامنا ہے،ہم 90 میں بنگلہ دیش سے آگے تھے، کیا وجہ ہے کہ ہم اس نہج پر آگئے ہیں عوام کا ساتھ چاہتا ہوں، پیٹرول مہنگا کر کے گھر پیسے نہیں لے جا رہے،اخراجات صرف 3 فیصد بڑھ رہے ہیں،گیس اورپاور سیکٹر کی سبسڈی ختم کی ہے،ہماری معیشت اتنا بوجھ نہیں اٹھا سکتی