fbpx

خواہشات کی تکمیل میں سکون کی تلاش تحریر:- محمد دانش

ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے
بہت نکلے  میرے ارمان لیکن پھر بھی کم  نکلے ۔

انسان ازل سے سکون قلب حاصل کرنے کے لئے کوشاں رہا ہے اور اس کو یہ ہی لگتا ہے کہ خواہشات کی تکمیل اس کو سکون قلب دے گی اور وہ اپنی خواہشات کی تکمیل کے لئے انتھک محنت کرتا ہے جب وہ اپنا مقصد اور اپنی خواہش کو پورا کر لیتا ہے تو وہ اس قدر خوش ہوتا ہے کہ اس نے سکون حاصل کر لیا ہے لیکن ایسا نہیں ہوتا وہ کچھ وقت تو خوش اور مطمئن ہوتا ہے لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ وہ پھر بے چین ہوجاتا ہے کیونکہ خواہشات کی تکمیل میں سکون نہیں ہے۔جیسا کہ
بچپن سے ہمیں لگتا تھا کہ ہم بڑے ہو جائیں گے تو زندگی سب سے زیادہ پرسکون ہوگی پھر جب بڑے ہوئے تو پتہ چلا کہ بچپن کی زندگی ہی تو سب سے زیادہ پرسکون زندگی تھی جس میں نہ کوئی ٹینشن، نہ کوئی پروبلم ، نہ کوئی زمہ داریاں ۔
میری اپنی زندگی میں ایسا کئی بار ہوا ہے میں شدت سے خواہش کرتا تھا کہ میرا میڈیکل کالج میں ایڈمیشن ہوجائے اس خواہش اور مقصد کو پورا کرنے کے لئے میں نے دن رات محنت کی رشتے داروں سے لا تعلق رہا اور نہ کسی خوشی غمی میں شامل ہو سکا صرف اور صرف میڈکل کالج میں داخلے کی خواہش کو اہم جانا بالاآخر وہ دن میری زندگی میں آہی گیا جس کے کئے میں نے زندگی کے بارہ سال محنت کی اور ہر چیز کو فراموش کر دیا ۔
وہ میری زندگی کا انتہائی بہترین دن تھا جب مجھے پتہ چلا کہ میرا داخلہ میڈیکل کالج میں ہوگیا ہے میں بےحد خوش تھا اتنا کہ جیسے میں نے دنیا فتح کر لی لیکن جب میں نے کالج جانا شروع کیا تو وہ خوشی جس کو پانے کے لئے میں نے سب کچھ فراموش کر دیا تھا، تھوڑے ہی وقت میں مدھم پڑنے لگی تھی اور پھر میرے اندر کچھ نئی خواہشات نے جنم لیااور میرے دل کا سکون ختم ہونے لگا حالانکہ یہ میری بچپن کی خواہش تھی۔ تب مجھے احساس ہوا کہ یہ تو وقتی سکون تھا اصل سکون تو اس میں تھا ہی نہیں۔
انسان اپنی زندگی کا بیشتر حصہ خواہشات کے پیچھے بھاگتے بھاگتے گزار دیتا ہے جوانی میں اچھامقام پانے کے لئے صحت گنوا دیتا ہے اور بڑھاپے میں صحت مند ہونے کی خواہش میں پیسہ گنواتا ہے ان سب میں وہ یہ بھول جاتا ہے کہ سکون قلب تو اللّہ کی یاد اور ذکر میں ہے جیسا کہ قرآن پاک میں اللّہ تعالی ارشاد فرماتے ہیں

اَلَا بِذِکۡرِ اللّٰہِ تَطۡمَئِنُّ الۡقُلُوۡبُ
یاد رکھو اللّہ کے ذکر سے ہی دلوں کو تسلی حاصل ہوتی ہے
(سورہ الرعد آیت نمبر 28)
اللّہ نے اپنے ذکر میں سکون اور اطمینان رکھا اور انسان اس اپنی خواہشات میں ڈھونڈتا ہے
اس سے میں نے اپنی زندگی میں یہ نتیجہ اخذ کیاہے کہ اپنی زندگی کو بہتر بنانے کے لئے خواہش کرنا اور اسکی تکمیل کے لئے کوشش کرنا کوئی غلط بات نہی ہے لیکن ان خواہشات کی تکمیل سے سکون قلب کی توقع رکھنا غلط بات ہے کیونکہ دائمی سکون صرف اسی وقت ممکن ہے جب ہم اپنی زندگی اللّہ پاک اور اسکے رسول صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم کے بتائے ہوئے طریقوں کے مطابق گزارینگے تو ہمیں چاہیے ہم اس آخرت کی فکر کریں جو حقیقی زندگی ہے جس کا کوئی اختتام نہی ہے اور اپنے آپکو اس عارضی دنیا کے جنجال سے نکالیں کیونکہ یہ دنیا صرف ایک امتحان گاہ ہے
اللّہ پاک ہمیں سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین

@iEngrDani