fbpx

ملک کی بہاروں کو آپس کی لڑائیوں میں خزاں میں تبدیل نہ کریں سیاست میں آج ایک اورکل دوسرا ہوگا

سیکیورٹی اداروں نےعمران خان پر خود کش حملہ کا خدشہ ظاہر کیا ہے،اٹارنی جنرل

ملک کی بہاروں کو آپس کی لڑائیوں میں خزاں میں تبدیل نہ کریں سیاست میں آج ایک اورکل دوسرا ہوگا ،سپریم کورٹ

سپریم کورٹ میں لانگ مارچ روکنے کیلئے راستوں کی بندش اور چھاپوں کیخلاف کیس کی سماعت ہوئی

پی ٹی آئی وکیل سپریم کورٹ میں پیش ہوئے ،وکیل نے کہا کہ بابر اعوان سمیت دیگر وکلا کو بھی گرفتارکرنے کی کوشش کی گئی ماضی میں بھی ایسے حالات پیدا ہوئے لیکن ایسا نہیں جو اس بار ہوا،وکیل نے کہا کہ اطلاع آئی کہ انہوں نے شاہراہوں پر شیشے توڑ کر ڈالے گئے حکومت نے یہ اندازہ کرلیا کہ احتجاج کیسے روکیں گے،ہماری درخواست کسی سیاسی پارٹی کی جانب سے نہیں انتظامیہ نے ان کو بھی ہراساں کیا جن کا تعلق کسی سیاسی جماعت سے نہیں، جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا دیگر ہائیکورٹس میں کوئی درخواستیں داخل ہوئی ہیں،

جسٹس منیب اختر نے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ کی بات کو ہم سمجھتے ہیں، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آگر آپ احتجاج کا حق مانگتے ہیں تو آپ بھی کسی ضابطے کے پابند ہیں کچھ عرصہ قبل ایک سیاسی جماعت نے احتجاج کیا ،جسٹس منیب اختر نے کہا کہ آپ شہریوں کے بنیادی حقوق کی حفاظت چاہتے ہیں،آپ نے اپنی درخواست میں آرٹیکل 15 پر عمل در آمد کی بات کی ہے، جسٹس اعجاز الاحسن نے اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ اٹارنی جنرل آپ یہاں موجود ہیں ،کیا کہیں گے؟ اٹارنی جنرل اشتر اوصاف نے کہا کہ ایک سیاسی جماعت نے احتجاج کی درخواست کی ہے،یہ کہا جا رہا ہے کہ ایک خونی مارچ ہے

جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایک عام شہری جس کو مسائل کا سامنا ہوگا اس کا کیا ہوگا ، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پریس کے مطابق اسکول بند ہوگئے ہیں، امتحانات ملتوی کردیئے گئے ہیں اسپتالوں میں ایمرجنسی لگائی گئی ،ایسی صورتحال میں عام آدمی کیا کرسکتا ہے؟ جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا آپ کو علم ہے کہ سپریم کورٹ کے ملازمین بھی نہیں پہنچ سکے، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ ملکی معاشی صورتحال کا سب کو علم ہے،اگر لاک ڈاون ہوجائے تو کیا ہوگا؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ میں مزید معلومات لے کر عدالت کو بتاونگا

جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ماضی میں بھی احتجاج کیلئے جگہ مختص کی گئی تھی،میڈیا کے مطابق تحریک انصاف نے احتجاج کی اجازت کیلئے درخواست دی تھی، اٹارنی جنرل نے کہا کہ انتظامیہ سے معلوم کرتا ہوں کہ درخواست پر کیا فیصلہ ہوا،بار کے صدر نے کہا کہ پولیس وکلاء کو بھی گھروں میں گھس کر گرفتار کر رہی ہے، سابق جج ناصرہ جاوید کے گھر بھی رات گئے پولیس نے چھاپہ مارا،مظاہرین اور حکومت دونوں ہی آئین اور قانون کے پابند ہیں،
جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ قانون ہاتھ میں لینے کا اختیار کسی کو نہیں،اٹارنی جنرل نے کہا کہ مسلح افراد کو احتجاج کی اجازت کیسے دی جا سکتی؟ شعیب شاہین نے کہا کہ ابھی تو احتجاج شروع ہی نہیں ہوا تو مسلح افراد کہاں سے آ گئے؟ مولانا فضل الرحمان دو مرتبہ سرینگر ہائی وے پر دھرناُدے چکے ہیں، بلاول بھٹو بھی اسلام آباد میں لانگ مارچ کر چکے ہیں اب بھی مظاہرین کیلئے جگہ مختص کی جا سکتی ہے،

اٹارنی جنرل نے کہا کہ معیشت کے حوالے سے عدالت کو ایسی بات نہیں کرنی چاہیے،معیشت کے حوالے ریمارکس میڈیا کو چلانے سے روکا جائے ، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ ملک کی معاشی صورتحال تو ہر انسان کو معلوم ہے،

دوبارہ سماعت شروع ہوئی تو جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ جی اٹارنی جنرل بتائیں کیا ہدایات لی ہیں،اٹارنی جنرل نے کہا کہ پی ٹی آئی نے سری نگر ہائی وے پر دھرنے کی اجازت مانگی،سیکیورٹی صورتحال کے باعث سری نگر ہائی وے کی اجازت نہیں دی گئی، سیکیورٹی ایجنسیوں کی رپورٹ کے مطابق عمران خان کی جان کو خطرہ ہے،سیکیورٹی اداروں نےعمران خان پر خود کش حملہ کا خدشہ ظاہر کیا ہے،

عدالت نے کہا کہ کیا حکومت نے جلسے کیلئے کوئی متبادل جگہ آفر کی،اٹارنی جنرل نے کہا کہ حکومت نے جمہوری پارک سمیت کچھ جگہوں کی آفر کی تحریک انصاف صرف سری نگر ہائی وے پر جلسے کیلئے بضد ہے سری نگر ہائی وے بلاک ہونے سے پورا اسلام آباد متاثر ہوتا ہے, جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ سری نگر ہائی وے تو پہلے بند کر دی گئی ہے سیکریٹری داخلہ بتائیں سڑکیں بند کیوں ہیں گرفتاریاں کیوں کی گئیں، سیکرٹری داخلہ نے کہا کہ آئی جی پولیس اور صوبائی افسران گرفتاریوں کا جواب دیں گے، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ سپریم کورٹ چاہتی ہے عوام کے معمولات زندگی متاثر نہ ہوں سپریم کورٹ نے دونوں فریقین کو بیٹھ کر معاملے کے حل کی ہدایت کر دی

سپریم کورٹ نے کہا کہ جلسے کیلئے ڈھائی بجے تک متبادل جگہ کا بتایا جائے،چیف کمشنر اسلام آباد متبادل پلان پیش کریں ،سپریم کو رٹ نے پی ٹی آئی کے وکیل کو اپنی جماعت سے ہدایت لینے کا حکم دے دیا اور کہا کہ پی ٹی آئی یقینی بنائے کہ جلسے سے عوامی حقوق متاثر نہیں ہونگے، سپریم کو رٹ نے کیس کی سماعت میں ڈھائی بجے تک وقفہ کردیا اور کہا کہ سری نگر ہائی وے کے علاوہ کسی اور جگہ کا تعین کیا جائے، عدالت نے چیف کمشنر اسلام آباد کو پی ٹی آئی کو لانگ مارچ کے لیے متبادل انتظامات کرنے کی ہدایت کر دی،کہا لانگ مارچ کے لیے مناسب جگہ فراہم کریں،جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ مظاہرین کو رسائی دینے کے لیے ٹریفک پلان بنایا جائے،مظاہرین اپنا احتجاج کریں اور گھروں کو جائیں،پی ٹی آئی سے یقین دہانی بھی لیں گے کہ احتجاج پر امن ہوگا،املاک کو نقصان نہ پہنچے، تشدد ہو نہ ٹریفک بلاک ہو،سیکریٹری داخلہ ،چیف کمشنر،ڈپٹی کمشنر،آئی جی اور اٹارنی جنرل معاملے کا حل نکالیں پی ٹی آئی کے وکیل ہدایات لیکر انتظامیہ کے ساتھ مذاکرات کی ٹیبل پر بیٹھیں، سب بہاریں پاکستان کے ساتھ ہیں،اگر پی ٹی آئی کو گرفتاری کا خدشہ تو لسٹ دے دیں،جنھیں گرفتاریوں کا خدشہ ہے انھیں تحفظ دینگے،سیاسی جماعتوں کے بھی مفادات ہیں،عوام اورملک کے سامنے سیاسی مفادات کی حیثیت نہیں،ملک کی بہاروں کو آپس کی لڑائیوں میں خزاں میں تبدیل نہ کریں سیاست میں آج ایک اور کل دوسرا ہوگا

لانگ مارچ روکنے کیلئے راستوں کی بندش اور چھاپوں کیخلاف کیس کی تیسری بار سماعت ہوئی،پی ٹی آئی کے وکیل بابر اعوان عدالت میں پیش ہوگئے ،بابر اعوان نے کہا کہ 23مئی کو جلسے کی اجازت مانگی گئی عدالت حکومت کو چند احکامات جاری کرے،سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل اور پی ٹی آئی وکلا کو دوبارہ بیٹھ کر حل نکالنے کی ہدایت کر دی اور کہا کہ ایک گھنٹے میں عدالت کو مذاکرات سے متعلق آگاہ کیا جائے،ایک گھنٹے بعد دوبارہ کیس سنیں گے،دونوں فریقین ہدایات لیکر آگاہ کریں، سپریم کور ٹ نے کیس کی سماعت میں ایک گھنٹے کا وقفہ کردیا

عدالت نے حکم دیا کہ پی ٹی آئی کے مطالبات سے متعلق حکومتی ہدایات سے آگاہ کیا جائے،عدالت نے پی ٹی آئی اور حکومت کو ایچ نائن گراونڈ میں جلسے کی اجازت پر مشاورت کر کے آگاہ کرنے کا حکم دیا، پی ٹی آئی نے جلسے کیلئے ایچ نائج گراونڈ دینے کی استدعا کر دی،بابر اعوان نے کہاکہ عمران خان نے چار مطالبات رکھے ہیں، پی ٹی آئی نے جے یو آئی کو دھرنے کیلئے ایچ نائن گراونڈ دیا تھا، تمام گرفتار کارکنان کو رہا کیا جائے، تمام کنٹینرز اور رکاوٹیں ہٹائی جائیں چادر اور چار دیواری کا تحفظ یقینی بنایا جائے ، وکلا کے چیمبرز پر ریڈ اور گرفتاری کو فوری روکا جائے

جسٹس اعجاز الاحسن نے بابر اعوان سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ پوچھ کر بتائیں احتجاج کب تک رہے گا ؟ فیض آباد یا موٹروے بندکرنے سے کام نہیں ہوگا، کوئی فوڈ چین نہیں ٹوٹے گی ،

پی ٹی آئی نے سری نگر ہائی وے پر دھرنے کی اجازت دینے کی استدعا کر دی وکیل نے کہا کہ جہاں جے یو آئی نے دو مرتبہ دھرنا دیا وہاں ہی احتجاج کرنا چاہتے ہیں پی ٹی آئی نے پرامن دھرنے اور امور زندگی متاثر نہ ہونے کی یقین دہانی کروا دی سپریم کورٹ نے پی ٹی آئی کی استدعاپر وزیراعظم سے ہدایات لینے کا حکم دیدیا،عدالت نے کہا کہ اٹارنی جنرل ایک گھنٹے میں وزیراعظم سے ہدایات لیکر آگاہ کریں،جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ توقع ہے ایک گھنٹے میں فریقین کا اتفاق رائے ہو جائے گا، سپریم کورٹ سیاسی معاملات میں نہیں پڑے گی سیاسی معاملات کے لیے آئین نے اجازت دی ہے، سیاسی معاملات سے ہمارا لینا دینا نہیں، لیکن ہم نے آئنیی معاملات کو دیکھنا ہے،دونوں فریقین میں رابطے کا فقدان ہے، شائستگی کی کمی کی وجہ سے معاملات بگڑ رہے ہیں، وکلا کو ہراساں نہ کیا جائے اور نہ انکے دفاتر پر چھاپے مارے جائیں، عدالت اس معاملے میں ثالثی کا کردار ادا کررہی ہے،

جسٹس اعجاز الاحسن نے بابر اعوان سے کہا کہ تحریک انصاف دھرنے کا دورانیہ بتائے، جس پر بابراعوان نے جواب عدالت کو بتانے سے معذرت کر لی اور کہا کہ یہ سیاسی فیصلہ ہے اس کو سیاسی فورم پر ہی ہونے دیں،ہمارا مطالبہ نئے انتخابات کا ہے اس پر اٹارنی جنرل سے بات نہیں کروں گا،جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ احتجاج روکنے کیلئے چھاپے اور گرفتاریاں غیر قانونی عمل ہے، پی ٹی آئی کو موٹروے یا فیض آباد بند نہیں کرنے دینگے،شیلنگ اور لاٹھی چارج کے حوالے سے باضابطہ حکم جاری کرینگے،ایم پی او کے حوالے سے بھی حکمنامہ جاری کرینگے،

سپریم کورٹ کی جانب سے پنجاب پولیس کے اقدامات پر اظہار برہمی کیا گیا،جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ کیاپولیس کا کام گاڑیاں توڑنا اور آگ لگانا ہے؟ ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل پنجاب نے کہا کہ لاہور میں ایک گھر سے اسلحہ برآمد ہوا، جسٹس مظاہر نقوی نے کہا کہ اسلحہ تو آج کل ہر گھر میں ہوتا ہے،صبح سے کیا اسلحے والی کہانی سنائی جا رہی ہےاسلحہ کہانی کو اب بند کر دیں،جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ لاہور کو میدان جنگ بنایا ہوا ہے، پنجاب میں جو ہو رہا ہے وہ بدقسمتی ہے،

پرامن احتجاج اور مارچ ہمارا قانونی اور آئینی حق ہے، شاہ محمود قریشی

ملتان میں پولیس کریک ڈاون ،پی ٹی آئی کے 70 سے زائد کارکنان گرفتار

پی ٹی آئی کارکنان اور قیادت کے گھروں پرچھاپے،عمران خان کا ردعمل

ماڈٌل ٹاؤن میں پی ٹی آئی ایکٹیوسٹ کے گھر چھاپہ،دوران فائرنگ پولیس اہلکار شہید

’خونی مارچ ہوگا‘ کے اعلانانات کرنے والوں سے حساب لیں گے،وزیر داخلہ

لال حویلی، پولیس چھاپے کے دوران رکن اسمبلی گرفتاری سے بچنے کیلئے پچھلے گیٹ سے فرار

لانگ مارچ،متحرک کارکنان کی فہرستیں تھانوں کو مل گئیں

پولیس پہنچی تو میاں محمود الرشید گرفتاری کے ڈر سے سٹور میں چھپ گئے

پاکستان کی سیاسی صورتحال سے فائدہ اٹھانے کیلئے مودی کے دفتر میں خصوصی سیل قائم

درخواستیں دائر کرکےآپ بھی اپناغصہ ہی نکال رہے ہیں،عدالت کا پی ٹی آئی وکیل سے مکالمہ