fbpx

کیا بروقت اقدامات سے سانحہ مری کو روکا جا سکتا تھا؟ وزیراعظم کا وفاقی وزرا سے سوال

اسلام آباد: سانحہ مری کے حوالے سے منعقدہ اجلاس میں وفاقی وزرا ضلعی انتظامیہ کے حق میں بول پڑے ہیں –

باغی ٹی وی : وزیراعظم کی زیر صدارت منعقدہ اجلاس میں سانحہ مری پر تفصیلی بریفنگ دی گئی جس کے دوران بتایا گیا کہ ایک لاکھ 64 ہزار گاڑیاں مری میں داخل ہوئیں۔

پاکستان کو انتہائی مطلوب دہشت گرد اور ٹی ٹی پی ترجمان محمد خراسانی افغانستان میں مارا گیا

وزیراعظم نے منعقدہ اجلاس میں استفسار کیا کہ کیا بروقت اقدامات سے سانحہ مری کو روکا جا سکتا تھا؟ جس کے جواب میں وفاقی وزرا نے مری انتظامیہ کی حمایت کی ر وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے اس موقع پر کہا کہ صورتحال کے دوران انتظامیہ اور پولیس نے بہترین کام کیا تاہم ان کا کہنا تھا کہ حالات پولیس کے کنٹرول سے باہر تھے، اس لیے رینجرز کو طلب کرنا پڑا جبکہ شام پانچ 5 ہی مری جانے والے راستے بند کردیے گئے تھے۔

الیکشن کمیشن نے اسحاق ڈار کی سینیٹ کی رکنیت بحال کر دی

وزیراعظم عمران خان نے اس موقع پر کہا کہ موجودہ دور میں سیاحت ایک نئی حقیقت ہے ان کا کہنا تھا کہ سیاحت بڑھ گئی ہے لیکن انفراسٹرکچر کئی دہائیاں پیچھے ہے نئےہوٹلز کی تعمیرکے ساتھ پرانے اسٹرکچر کو بہتر کرنا لازمی ہے بڑھتے ہوئے سیاحوں کو معیاری رہائش کی فراہمی ایک چیلنج ہے۔

علاوہ ازیں اعلیٰ سطحی اجلاس میں وزیراعظم عمران خان نے ریسکیو آپریشن میں سول اداروں اورفوج کی کاوش کی بھی تعریف کی۔

کورونا وبا کے دوران خدمات سرانجام دینےوالے ورکرزمیں تعریفی اسناد اور شیلڈزتقسیم

دوسری جانب پاکستان مسلم لیگ (ن) کے مرکزی صدر میاں شہباز شریف نے قومی اسمبلی کا اجلاس شروع ہونے سے قبل میڈیا سے گفتگو میں کہا تھا کہ سانحہ مری حادثہ نہیں مجرمانہ غفلت ہے شہباز شریف نے پارلیمنٹ ہاؤس میں بات چیت کرتے ہوئے کہا تھا کہ سانحہ مری پر پوری قوم افسردہ اور غم میں مبتلا ہے۔

انہوں نے حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے استفسار کیا تھا کہ اس سے بڑھ کر انتظامیہ کی غفلت اور کیا ہو سکتی ہے؟اس سانحے کا پورا احتساب ہونا چاہیے۔

وفاقی حکومت کا بس چلے توسانحہ مری کی ذمہ داری سندھ پر ڈال دے