fbpx

کیا عمران خان ابھی ایم این اے ہیں یاں نہیں؟ عدالت ،وکیل نے کہا،سابق ہو چکے

لاہور ہائیکورٹ نے الیکشن کمیشن کو عمران خان کیخلاف کارروائی سے روک دیا

لاہور ہائیکورٹ ،عمران خان کی الیکشن کمیشن کی کارروائی کیخلاف درخواست پر سماعت ہوئی

جسٹس جواد حسن نے عمران خان کی درخواست پر سماعت کی،عمران خان کے وکیل بیرسٹر علی ظفر نے عدالت میں دلائل دیئے، علی ظفر نے عدالت میں کہا کہ عمران خان کو نا اہلی کی بنیاد پر پارٹی عہدے سے ہٹانا چاہتے ہیں، وکیل عمران خان نے کہا کہ عمران خان میانوالی سے ایم این اے منتخب ہوئے ،جسٹس جواد حسن نے استفسار کیا کہ کیا عمران خان ابھی ایم این اے ہیں یاں نہیں ،وکیل عمران خان نے کہا کہ عمران خان اب سابق ایم این اے ہیں ،عمران خان اپنی نشست سے استعفی دے چکے ہیں ،جسٹس جواد حسن نے استفسار کیا کہ جب عمران خان کے خلاف توشہ خانہ ریفرنس بھیجا گیا تو کیا عمران خان تب ایم این اے تھے ،وکیل نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے سپیکر قومی اسمبلی کے ریفرنس کے بعد عمران خان کے خلاف مختلف کارروائیاں شروع کیں،جب ریفرنس بھیجا گیا اس وقت عمران خان ایم این اے تھے، جسٹس جواد حسن نے استفسار کیا کہ اس کے بعد پھر کیا ہوا،،بیرسٹر علی ظفرنے کہا کہ الیکشن کمیشن نے عمران خان کو نااہل کیا ، جسٹس جواد حسن نے استفسار کیا کہ الیکشن کمیشن نے کس قانون کے تحت عمران خان کو نااہل کیا ،عمران خان کے وکیل نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے آرٹیکل 62ٹو ون ایف کے تحت عمران خان کا نااہل کیا عدالت نے استفسار کیا کہ یہ تو آئین کا آرٹیکل ہے ،الیکشن کمیشن نے اپنے کس قانون کے تحت کے عمران خان کو نااہل کیا،بیرسٹر علی ظفر نے عدالت میں کہا کہ یہی تو ہم کہہ رہے ہیں کہ الیکشن کمیشن نے اپنے اختیارات کا غلط استعمال کیا ،

عمران خان کی الیکشن کمیشن کی کارروائی کیخلاف درخواست پر سماعت لاہور ہائیکورٹ نے الیکشن کمیشن کو عمران خان کیخلاف کارروائی سے روک دیا ہے عدالت نے الیکشن کو نوٹس جاری کر کے جواب مانگ لیا ہے جسٹس جواد حسن نے عمران خان کی درخواست پر سماعت کی

،عمرا ن خان لوگوں کو چور اور ڈاکو کہہ کے بلاتے تھے، فیصلے نے ثابت کر دیا، عمران خان کے ذاتی مفادات تھے

اکبر ایس بابر سچا اور عمران خان جھوٹا ثابت ہوگیا،چوھدری شجاعت

عمران خان چوری کے مرتکب پارٹی سربراہی سے مستعفی ہونا چاہیے،عطا تارڑ

عمران خان نے الیکشن کمیشن کیخلاف لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کرلیا۔عمران خان کی جانب سے عدالت میں دائر درخواست میں الیکشن کمیشن کو فریق بنایا گیا یے، چیئرمین تحریک انصاف کی جانب سے دائر درخواست میں موقف اپنایا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن اپنے اختیارات سے تجاوز کر کے پارٹی عہدے سے ہٹانے کی کاروائی کر رہا ہے، الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی چیرمین کو عہدے سے ہٹانے کے لئے غیر قانونی طور پر نوٹس جاری کیا، الیکشن کمیشن نے 7 دسمبر 2022 کو خلاف قانون کاروائی کا آغاز کیا، چیرمین تحریک انصاف نے الیکشن کمیشن کے روبرو اپنے مکمل اثاثے ظاہر کر رکھے ہیں، عدالت الیکشن کمیشن کیجانب سے بھیجیے گئے نوٹس کو معطل کرنے کا حکم دے،عدالت درخواست گزار کی استدعا پر حتمی کاروائی تک الیکشن کمیشن کو کاروائی سے روکنے کا حکم دے،عدالت الیکشن کمیشن کے خلاف قانون اقدام کی کالعدم قرار دے،

واضح رہے کہ پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کی توشہ خانہ ریفرنس میں نااہلی الیکشن کمیشن نےعمران خان کو پارٹی چیئرمین شپ سے ہٹانے کی کارروائی شروع کر دی ہے توشہ خانہ کیس کا فیصلہ آنے کے بعد وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے عمران خان کیخلاف مقدمہ درج کروانے کا اعلان کیا تھا،وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ عمران خان کے خلاف فوجداری مقدمہ درج ہوگا یہ ایسی چوری ہے جس میں مقدمہ درج ہونے سے پہلے ہی سب کچھ ثابت ہے