fbpx

کن صورتوں میں گورنمنٹ فوج کو شہروں میں طلب کرسکتی ہے؟ فوج کے اختیارات کیا ہونگے ؟

کن صورتوں میں گورنمنٹ فوج کو شہروں میں طلب کرسکتی ہے؟ فوج کے اختیارات کیا ہونگے اس دوران؟

کسی بھی ملک کی فوج اس ملک کا سب سے پروفیشنل ادارہ ہوتا ہے۔فوج کا بنیادی کام تو ملک کی سرحدوں کی حفاظت کرنا ہوتا ہے لیکن بعض صورتوں میں فوج کو ملک کو درپیش اندرونی مسائل کو حل کرنے کے لیے یا ناگہانی آفت کے دوران بھی لوگوں اور انتظامیہ کی مدد کے لئے بھی بلایا جاسکتا ہے۔اس دوران فوج کا کام ہوتا ہے کہ وہ ملک کے سول اداروں کے ساتھ ملکر کام کرے۔جیسا کے آپکو معلوم ہے پوری دنیا اک وبائی مرض کرونا کی لپیٹ میں ہے۔

اس کرونا کی وجہ سے پاکستان کے حالات بھی سنگین ہوتے جا رہے جس کو مدنظر رکھتے ہوئے وفاقی و صوبائی گورنمنٹ نے فوج کو بلا لیا ہے
آئین پاکستان کے آرٹیکل 245،244،243 افواج پاکستان سے متعلق ہے۔آرٹیکل 245 کے مطابق فوج وفاقی گورنمنٹ کی ڈائریکشن ملنے کے بعد ببیرونی جارحیت کے خلاف پاکستان کی حفاظت کرے گی اور وفاقی گورنمنٹ کے حکم پر ہی ملک کے سول اداروں کی اندرونی طور پر مدد فراہم کرےیہی بنیادی قانون ہے جس کے تحت وفاقی گورنمنٹ نے فوج کو بلایا ہے تاکہ وہ کرونا ایس او پیز کے نافذ کرنے کے لیے سول اداروں مثلاً پولیس ضلعی گورنمنٹ کی مدد کر سکیں۔
اس سے پہلے اک مذہبی جماعت کے احتجاج کے دوران بھی فوج کو بلایا گیا تھا امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے کے لیے.یہاں اک بات یاد رکھیں جب وفاقی گورنمنٹ آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت فوج کو بلاتی ہے سول اداروں کی مدد کے لیے تو گورنمنٹ کے اس اقدام کو کسی عدالت میں چیلنج نہیں کیا جاسکتا۔ضابطہ فوجداری کے سیکشن 131A,131 کے مطابق فوج امن و امان قائم رکھنے یا لوگوں کی حفاظت کے پیش نظر طاقت کا استعمال کرسکتے ہیں. ان لوگوں کو گرفتار کرسکتے ہیں جو نقص عام کا باعث بنیں۔سیکشن 131 اے کے مطابق صوبائی گورنمنٹ خود سے بھی فوج کو بلا سکتی ہے وفاقی گورنمنٹ کی اجازت کے ساتھ،کن صورتوں میں وفاقی و صوبائی گورنمنٹ فوج کو بلاتی ہیں؟جب امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنا ہو۔جب لوگوں کے جان و مال کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہوجب ناگہانی صورتحال آجائےجیسا کے زلزلہ سیلاب اور اب کرونا آیا ہوا فوج کوبلانےاورواپس بھیجنے کا ٹائم فریم وفاقی یا صوبائی گورنمنٹ طے کرتی ہے.جب گورنمنٹ کو لگے حالات نارمل ہیں تو وہ فوج کو واپس بھیج سکتے ہیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.