fbpx

کن گراونڈز پر گرفتاری درکار ہے بتایا جائے؟ شہباز شریف کے وکیل کی عدالت سے استدعا

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق لاہور ہائیکورٹ میں شہباز شریف کی درخواست ضمانت پر سماعت ہوئی

شہباز شریف کے وکیل اعظم نذیر تارڑ نے عدالت میں کہا کہ ہمیں ابھی تک کچھ دستاویزات فراہم نہیں کی گئی،کن گراونڈز پر نیب کو میری گرفتاری درکار ہے ،مجھے بتایا تو جائے کہ کیوں. گرفتاری درکار ہے

اپوزیشن لیڈر شہباز شریف عدالت میں پیش ہوئے ہیں،نیب کی پراسیکیوشن ٹیم بھی کمرہ عدالت میں موجود ہے،

شہباز شریف کے وکیل نے عدالت مین کہا کہ شہبازشریف سمیت دیگرکیخلاف ریفرنس احتساب عدالت میں فائل ہوچکا ہے، اب تو ریفرینس کی کاپیاں بھی تقسیم ہو چکی ہیں، میں گراونڈ آف آریسٹ دے دی جائیں کچھ پتہ چل سکے،ریفرینس میں سب کچھ دے دیا ہے،گراونڈ آف اریسٹ شامل نہیں،

شہبا زشریف کے وکیل کا مزید کہنا تھا کہ گراونڈ آف اریسٹ سے نہ تو پاک بھارت تعلقات خراب ہوں گے اورنہ صحیح، میرا موکل بیرون ملک سے خود پاکستان آیا،مجھے پہلے بھی گرفتار کیا گیا، تفتیش کی گئی، گرفتاری کی گراونڈز منظرعام پرآئیں گی تو انکی بدنیتی سامنے آجائےگی،پہلے بھی 40روز تک نیب کی تحویل میں رہ چکے ہیں،اس دوران بھی نیب کو کچھ نہیں ملا

شہباز شریف کی عدالت پیشی کے موقع پر سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے ہیں،لاہور ہائیکورٹ میں اپوزیشن لیڈر قائد حزب اختلاف قومی اسمبلی میاں شہباز شریف کے ساتھ اظہاریکجہتی کے لئے ن لیگی کارکنان کی بڑی تعداد بھی پہنچ چکی ہے

شہباز شریف کو لائف ٹائم ایوارڈ برائے کرپشن دیا جائے: شہباز گل

حمزہ شہباز کے پروڈکشن آرڈر کے خلاف درخواست دائر

شہبازشریف فیملی کیخلاف منی لانڈرنگ ریفرنس،نیب کی خصوصی پراسیکیوشن ٹیم تشکیل

شہباز صاحب،جو آپ نے خدمت کی اس کا صلہ اللہ سے مانگیں،آپکا موقف سنیں گے،عدالت

شہباز شریف بیٹی کے ہمراہ عدالت میں پیش، حمزہ شہباز جیل میں ہوئے بیمار

جج صاحب،میں آج عدالت میں یہ چیز لے کر آیا ہوں،عدالت نے شہباز شریف کو دیا کھرا جواب

نیب نے شہبازشریف کی درخواست ضمانت مستردکرنے کی استدعا کر دی، نیب نے عدالت میں کہا کہ شہباز شریف کیخلاف اسٹیٹ بینک سے شکایت موصول ہونے پرانکوائری کی، شہباز شریف نے 2008 سے 2018 تک 9 کاروباری یونٹس قائم کیے،

شہباز شریف عدالت پہنچ گئے،نیب کی شہباز شریف کی ضمانت کی درخواست مسترد کرنے کی استدعا

Facebook Notice for EU! You need to login to view and post FB Comments!