fbpx

کسان زبوں حالی کا شکار کیوں؟ تحریر: احسن ننکانوی

کسان زبوں حالی کا شکار کیوں؟

انسان ایک معاشرتی حیوان ہے انسان اکیلا نہیں رہ سکتا اگر انسان جب پیدا ہوتا ہے تو اس کو جنگل میں چھوڑ آئیں تو وہ پہلی بات حالات کا مقابلہ نہیں کرسکے گا اگر وہ زندہ بچ بھی گیا تو وہ انسانوں کی طرح نہیں ہوگا نہ اس کو بولنا آتا ہوگا بہت سارے لوگ اکٹھے رہ کر ایک معاشرہ بناتے ہیں۔ اسی طرح ہر کامیاب کاروبار جو ملک کی ترقی کا باعث بنتا ہے۔ جو ملک کو معاشی طور پر مضبوط کرتا ہے۔

ایک ملک ایک چیز پر انحصار نہیں کر سکتا اس کو مختلف شعبوں میں ترقی کرنا ہوتی ہے میرے ملک پاکستان کا جو سب سے بڑا سیکٹر جس کو پاکستان کہا جاتا ہے وہ بہت ہی کمزور ہے اور کسان زبوں حالی کا شکار ہے حالانکہ پاکستان میں سب سے زیادہ جو ترقی ہوتی ہے اس میں زراعت کا بہت زیادہ ہاتھ ہے ۔

پاکستان کی معیشت کو چلانے کے لیے زراعت کا بہت بڑا ہاتھ ہے لیکن بدقسمتی سے پاکستان میں اس پر توجہ نہیں دی جاتی نہ تو کوئی گورنمنٹ پر زیادہ توجہ دیتی ہے۔

کچھ گورنمنٹ ہے جو اس سیکٹر میں اس پیشے میں توجہ دیتی ہیں تو آئیے ہم بات کرتے ہیں کہ پاکستان میں کسان زبوں حالی کا شکار کیوں ہیں اور ان کو کس کس مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس کی وجہ سے بھاگتے ہیں۔

موجودہ حکومت نے تھوڑی بہت ہی اس پر توجہ دی ہے جس کی وجہ سے حالات کافی بہتر ہوگئے ہیں لیکن میں بہت زیادہ جو اہم معاملات ہیں اس پر گورنمنٹ کی توجہ کروانا چاہوں گا۔

کچھ ایسے حالات ہیں جس کی وجہ سے کچھ سال زبوں حالی کا شکار ہیں بجلی والے ٹیوب ویل کی بات کر لیتے ہیں ابھی حالیہ دل میں بجلی والوں نے ضرورت سے زیادہ یونٹ ڈال دیے ہیں جس پر کسان پریشان ہیں اگر ان کے دفتر میں جائیں تو وہ آگے سے کوئی بات ہی نہیں سننے کو تیار نہیں کہ وہ تو افسر شاہی ہی عوام کی بات بلا کیوں سنیں گے۔

حکومت نے جو بل کا نظام بنایا ہے کہ بل کے ساتھ تصویر بھی کھینچی جاتی ہے تاکہ بل زیادہ نہ آئے اور ساتھ عوام کو کوئی پریشانی نہ ہو۔
لیکن واپڈا کے اہلکار بھی فراڈ میں بہت زیادہ آگے نکل چکے ہیں انہوں نے ایک ایسا طریقہ بنایا ہے کہ جو تصویر اصل ہوتی ہے اس کو بدل کے اپنی مرضی کی تصویر لگا دیتے ہیں اور اپنی من مانی کرتے ہیں کسانوں کو ان کے دفتر کے چکر لگانا پڑتے ہیں جس کی وجہ سے یہ صحیح طریقے سے اپنی فصل کی دیکھ بھال نہیں کر سکتے۔

جتنی بجلی کسانوں نے استعمال کی ہوتی ہے اس سے زیادہ بل ڈالا جاتا ہے۔ آج چاچا جان سے بات ہو رہی تھی تو انہوں نے بتایا کہ میں نے کل یا پرسوں کو واپڈا آفس جانا ہے جب وجہ پوچھی گئی تو یہی بتایا گیا کہ بل اس بار پھر زیادہ آگیا ہے ٹیوب ویل کا تو میں نے کہا کہ آپ ہیلپ لائن 118پر کال کریں مسئلہ حل ہوجائے گا انہوں نے آگے سے کہا (پتر اوہ وی اوناں دے نال رل گئے نے )
مطلب کہ وہ بھی ان کے ساتھ مل گئی ہیں پتہ نہیں کتنی بار ان کو بھی کال کرکے دیکھی ہے پہلے تو وہ مسئلہ حل کر دیتے تھے لیکن اب وہ بھی بات نہیں سنتے ہیں۔

اگر واپڈا آفس جائیں تو وہاں پر کرپٹ سے کرپٹ کرپٹ افسر بیٹھا ہوا ہے جو پیسے لئے بنا بات ہی نہیں سنتے۔

پیسے دے دوں تو مسئلہ حل ہو جائے گا ان کا بھی یہی جواب ہوتا ہے ایک اور مزے کی بات بتاؤں شاید بہت سارے لوگوں کو نہ پتا ہو بلکہ پتا ہی نہیں ہوگا واپڈا کے جو کرپٹ افسر ہیں وہ دھان کی فصل کے موسم کے وقت کیونکہ ان دنوں میں ٹیوب ویل دن رات چلتے ہیں اور بل کافی زیادہ آتا ہے انہوں نے اپنی جعلی میٹر بنائے ہوتے ہیں وہ کسانوں کو کہتے ہیں کہ یہ میٹر لگا لو اور سیزن کے اتنے پیسے دے دینا۔

اور آپ کو بل وغیرہ نہیں آئے گا جب سیزن گزر جائے گا تو آپ اپنا اصلی میٹر لگا لینا اگر ایسا کوئی نہ کرے تو اس کو پھر اپنی مرضی کے یونٹ ڈالتے ہیں اور اپنی مرضی کا بل بھیجا جاتا ہے۔

اللہ اللہ یہ کیسے لوگ ہیں جو میرے ملک کو کھا رہے ہیں یہاں پر مجھے عہد حاضر کے ایک شاعر علی زریون صاحب کا شعر یاد آ گیا ہے۔

‘اے میرے وطن تیرے چہرے کو نوچنے والے۔۔
یہ کون لوگ ہیں یہ گھرانے کہاں سے آگئے۔۔’

حکومت پاکستان کو ایسے مسائل کا حل نکالنا ہوگا اگر کسان پریشان ہوں گے اور وہ فصل نہیں کاشت پائیں گے تو پاکستان کی جی ڈی پی کیسے بڑھے گی۔اور پاکستان ترقی کیسے کرے گا کیونکہ زراعت کا شعبہ پاکستان کی ترقی میں ایک اہم کردار ادا کرتا ہے۔

کبھی تو واپڈا والوں کا خلاصہ ہی بیان کیا گیا ہے اگر ان پر پوری کہانی لکھنے بیٹھ جائیں اور ان کی کرپشن کے بارے میں بتانا شروع کر دیا جائے کہ یہ کن کن طریقوں سے کرپشن کرتے ہیں تو کاغذ کم پڑ جائیں گے اور سیاہی ختم ہو جائے گی۔

کسانوں کو دوسرا سب سے بڑا مسئلہ پیسے کا ہے ان کے پاس پیسے بہت کم ہوتے ہیں اور ان کو فصل کی بوائی کاشت ہل چلانے کے لئے روپوں کی ضرورت ہوتی ہے تو پھر وہ آڑھتیوں کے پاس جاتے ہیں تو وہ ان کو سود پر قرضے دیتے ہیں اور بہت بھاری سود واپس ادا کرنا ہوتا ہے۔

سود کے ساتھ ساتھ جب ان کی فصل پک کر تیار ہوجاتی ہے تو ان کو مجبوری کے طور پر فصل بھی ان ساہو کاروں کو دینی پڑتی ہے اور وہ اپنی مرضی کا ریٹ لگاتے ہیں۔ ہیرا پھیری بھی کرتے ہیں۔ اسے کاٹ کر اور سود بھی کاٹ کر جب آخر میں حساب کیا جاتا ہے تو کسان خالی ہاتھ رہ جاتا ہے اور وہ افسردہ دل منڈیوں سے واپس آتا ہے۔

جب انسان ہی افسردہ دل ہوگا تو پاکستان کی جی ڈی پی کیسے گروتھ کرے گی اس لیے حکومت پاکستان کو چاہیے کہ کسانوں کو ایک سال یا چھ ماہ کے لیے فری قرضے دیں۔

جب فصل پک کر تیار ہو جائے تو ان سے حکومت پاکستان ہی فصل خریدے اور خود اپنی مرضی سے ایک اچھا ریٹ تجویز کریں اس طرح کسان خوش ہوجائے گا جب کسان خوشحال ہوگا تو پاکستان خوشحال ہوگا۔

جب حکومت اس کے ساتھ اچھا تعاون کرے گی تو وہ تو میں دلجمعی سے کام کرے گا اور وہ بھی حکومت کے ساتھ اچھا تعاون کرے گا اور اس طرح سے ہماری فصلوں کی پیداوار بڑھے گی جب پیداوار بڑھے گی تو ہمارے ایکسپورٹ بھی بڑھے گی اس طرح عالمی منڈیوں میں پاکستان کے ساکھ بیٹھےگی۔

ایک اور بڑا مسئلہ کسانوں کو بیج کھادیں اسپرے بھی بہت مہنگی ملتی ہیں اتنا زیادہ منافع نہیں ہوتا جتنا زیادہ فصل پر خرچہ ہو جاتا ہے اس طرح سے پھر لوگ بدل ہو جاتے کسانوں کو پوری سبسیڈی دینی چاہیے کسانوں کو زرعی آلات مشینری دینی چاہیے کہ وہ روایتی طریقے سے ہٹ کر کھیتی کریں اور زراعت میں جدت لانی چاہیے۔

بہت سارے اہم مسائل کی طرح ایک اور بھی مسئلہ ہے ہمارے 80 پرسنٹ کسانوں کو کھیتی باڑی کے بارے میں علم نہیں ہے وہی پرانا روایتی طریقہ استعمال کرتے ہیں۔اس طرح فصل کی پیداوار بہت ہی زیادہ کم ہوتی ہے پاکستان میں زراعت کا محکمہ نام کی بھی ایک چیز ہے۔

صاحب بہادر کی تنخواہ چل رہی ہے لیکن آج تک جب سے میں نے اپنی ہوش سنبھالی ہے کبھی بھی کسی زراعت کے افسر کو یا کسی ویسے زراعت کے بندے کو اپنے گاؤں یا علاقے میں نہیں دیکھا وہ بس سرکاری مال کھا کر خواب خرگوش کیے مزے لے رہے ہیں۔
حالانکہ کے ان کا اصل کام گاؤں لوگوں کو جاکر شعور دینا لوگوں کو بتانا کی فصل کیسے کاشت کی جاتی ہے۔

دھان کی فصل کیسے کاشت کی جاتی ہے اور گنے کی فصل کو کس کس چیز کی ضرورت ہوتی ہے گندم کو کیسی زمین میں کاشت کرنا چاہیے اور کپاس کو کیا ادویات ڈالنی چاہیے۔

لیکن وہ صاحب بہادر اپنے دفتروں سے نکلنا بھی گوارا نہیں کرتے ہان ان کی شان کے خلاف بھی ہے اگر کسی کو ان سے فائدہ ہو گیا تو ان کا نقصان ہو جائے گا۔

مجھے یہاں پر تہذیب حافی کا ایک شعر یاد آ گیا
‘تم کو دور سے دیکھتے دیکھتے گزر رہی ہے۔۔
مر جانا پر کسی غریب کے کام نہ آنا ۔’

حالانکہ ہر تحصیل لیول پر لیباٹری ہونی چاہیے جہاں پر یہ دیکھا جائے کہ کس فصل کو کیسے کاشت کرنا ہے اور کون سی زمین کس فصل کے لیے موزوں ہے۔

ایک سب سے بڑا مسئلہ اور پاکستان کے جسم کے ساتھ ناسور کرپٹ پٹواری بھی ہیں اگر زمین کی نشاندہی کروانی ہو یا کچھ اور ہو تو لاکھوں روپے مانگتے ہیں۔ اس پاکستان کو بہت سے ناسور لگے ہوئے ہیں ان کو الگ کرنا ہوگا ورنہ تب تک پاکستان ترقی نہیں کر پائے گا اور پٹواریوں کی شان میں پھر کسی دن لکھوں گا۔
تحریر: احسن ننکانوی
Ahsannankanvi@gmail.com