کتنی جانیں لو گے کب سمجھو گے،ذہنی مسائل کو سنجیدہ کیوں نہیں لیتے؟ صبا قمر

0
77

پاکستان شوبز انڈسٹری کی معروف اداکارہ صبا قمر کا ڈپریشن کے بارے میں کہنا ہے کہ آخر ہم کب انسان کو انسان سمجھیں گے کیوں ہم کسی کی صورت پر بات کرتے ہیں اور جب صورت میں کوئی عیب نہ ملے تو سیرت کو ٹارگٹ کرتے ہیں، کیوں ہم دوسروں کو کم تر، کم ظرف سمجھتے ہیں؟ اور کتنی جانیں لیں گے؟

باغی ٹی وی : پاکستان کی معروف اداکارہ صبا قمر نے اپنے یوٹیوب چینل پر’ کب سمجھو گے؟‘ کے نام سے 6:38 سیکنڈ کی ایک ویڈیو شئیر کی -ویڈیو میں انہوں نے کہا کہ اور کتنی جانیں لیں گے؟ انعم تنولی، روشان فرخ، قرۃ العین علی خان، سشانت سنگھ راجپوت اور ان جیسے نہ جانے کتنے لوگ جن کے دل شاید بہت حساس تھے۔

صبر قمر نے کہا کہ آخر ہم کب انسان کو انسان سمجھیں گے کیوں ہم کسی کی صورت پر بات کرتے ہیں اور جب صورت میں کوئی عیب نہ ملے تو سیرت کو ٹارگٹ کرتے ہیں کیوں ہم دوسروں کو کم تر، کم ظرف سمجھتے ہیں؟کبھی کسی کی حیثیت، کبھی کسی کی آواز، کبھی کسی کے وجود کا مذاق اڑاتے ہیں۔

صبا قمر نے کہا کہ کبھی سوچا ہے ایک فقرہ ایک جملہ ایک ٹرول کسی کی زندگی تباہ کرسکتا ہے۔

اداکارہ نے کہا کہ ہم کیوں لوگوں کی ذاتی زندگیوں میں گھستے ہیں، اوروں کو اپنی جاگیر سمجھتے ہیں اور جو دل میں آتا ہے بنا سوچے سمجھے جملے کستے ہیں۔

صبا قمر نے کہا کہ اس کا رنگ دیکھو کتنا کالا ،یہ طلاق یافتہ ہے،شکل دیکھی ہے کبھی اپنی، وغیرہ جیسے فقروں سے کتنی آسانی سے ہم لوگوں کو اوقات یاد دلاتے ہیں ہمیں کوئی حق نہیں کسی کو کچھ کہنے کا کیوں خدا بن گئے ہو کیوں ایک خوبصورت زندگی کو مشکل بنادیتے ہو، باقی سب صاف نظر آتا ہے تو کسی کی تکلیف کیوں نظر نہیں آتی۔

صبا قمر نے کہا کہ شاید ہم تصویروں میں دوسروں کا رہن سہن اور کپڑے ہی دیکھ پاتے ہیں کسی کا دل کسی کے دل کا حال جاننا ہو تو اس کی آنکھوں میں دیکھو سب نظر آئے گا-باقی بیماریاں تو ہم سب کو سمجھ آتی ہیں لیکن یہ ڈپریشن! ہم ذہنی مسائل کو سنجیدہ کیوں نہیں لیتے؟ سائیکو، ملنگ، پاگل جیسے نام دیتے ہیں ان کی مدد کرنے کی کوشش کیوں نہیں کرتے۔

انہوں نے کہا کہ بچپن سے پڑھتے آئے ہیں کسی کا کسی کے ساتھ موازنہ نہ کرو، نفرت سے مت دیکھو، کسی کو حقیر مت جانو، کسی کے ساتھ غلط بیانی مت کرو لیکن عمل نہیں کرتے کیوں کہ شاید پرورش میں کمی رہ گئی۔

ساتھ ہی اداکارہ نے سوال کیا کہ کیوں ہم بچوں کو نفرت پر مبنی سبق سکھاتے ہیں اور پھر روتے ہیں کہ بچے عزت نہیں کرتے، جب نفرتوں کے بیج بوئیں گے تو پھول کہاں کھلیں گے؟

ویڈیو کے آخر میں انہوں نے کہا کہ خدارا بند کرو یہ تماشہ، زندگی کو آسان بناؤ، اور کتنی جانیں لوگے اور کب سمجھو گے۔

بچے ہوں یا بڑے انہیں فیصلے خود کرنے دیں انہیں پیار دیں دوسروں کو محبت کرنا سکھائیں انہیں بتائیں کہ دوسروں پر فقرے کسنا بلی کرنا، جھوٹ بولنا اعلی ظرف انسان کی نشانی نہیں ہے۔

کیا سوشانت سنگھ سچا پیار نہ مل پانے کی وجہ سے شدید ذہنی تناؤ کا شکار تھے؟

Leave a reply