fbpx

کیوں نامیڈیا کو جیلوں میں قیدیوں تک رسائی کی اجازت دی جائےتاکہ انفارمیشن سامنے آئے،اسلام آباد ہائی کورٹ

اسلام آباد : ایک قیدی کے اسلام آباد ہائی کورٹ کو اڈیالہ جیل میں بااثر قیدیوں سے متعلق لکھے خط پر سماعت ہوئی اسلام آباد ہائی کورٹ نے ریمارکس دیئے ہیں کہ وزرا اور ججز بھی دو تین دن جیل میں رہیں تو انہیں مشکلات کا اندازہ ہو۔

باغی ٹی وی :سماعت کے دوران عدالت کو ڈائریکٹر جنرل انسانی حقوق نے بتایا کہ بغیر کسی فزیکل پرابلم کے بااثر قیدی اڈیالہ جیل کے ہسپتال میں رہ رہے ہیں، وزیر صاحبہ نے فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی بنائی ہے ، اڈیالہ جیل میں شکایت کا نظام فعال نہیں ہے، ہائی کورٹ کے فیصلے سے سپریڈنٹ جیل بھکر اور اڈیالہ آگاہ ہی نہیں تھے-

جسٹس عمرعطا بندیال کی بطور چیف جسٹس تعیناتی کی سمری تیار

ڈائریکٹر جنرل انسانی حقوق نے بتایا کہ ہم جب بھی وزٹ کرتے ہیں اس سے قبل ہی ہر چیز اوکے ہوتی ہے لیکن حقیقت ایسا نہیں ہوتی، ہم نے رپورٹ میں لکھا ہے کہ جیل اتھارٹیز نے درحقیقت کوئی کام نہیں کیا، دو ہزار کی جگہ پانچ ہزار سے زیادہ قیدی اڈیالہ جیل میں رکھے گئے ہیں۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے کہ کسی سوسائٹی کی گورننس کو دیکھنا ہو تو ان کی جیلوں کا جائزہ لے لیں، جو باہر طاقت ور ہے جیل کے اندر بھی طاقت ور ہے ، جیل کے اندر کرپشن کا جو الزام ہے یہ کیسے ٹھیک ہو گا ، جیلوں کے اندر کوئی رول آف لاء نہیں،بااثر اور عام قیدی میں بھی تفریق ہے آپ نے جیلوں میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کو ختم کرنا ہے، دیکھ لیں جیسے کراچی میں ہوا ہے جہاں قیدی ہسپتال کرائے پر لے کر رہ رہے تھے۔

باغی ٹی وی”کی10ویں سالگرہ:پاکستان سمیت دنیا بھرکےدلوں کی دھڑکن:مبارکباد،نیک خواہشات…

ڈپٹی اٹارنی جنرل نے تجویز دی کہ یہ انسانی حقوق کا معاملہ ہے ہائی کورٹ کے کسی معزز جج کو بھی جیل کا وزٹ کرنا چاہیے ،چیف جسٹس نے ڈپٹی اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ آپ کبھی جیل گئے ہیں؟ ڈپٹی اٹارنی جنرل سید محمد طیب شاہ نے جواب دیا کہ جیل ٹرائل کے لیے جاتا رہا ہوں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ جیل ٹرائل کے لیے نہیں، کبھی قیدی بن کر جیل گئے ہیں؟ وکلا تحریک میں بہت سارے وکیل بھی جیلوں میں گئے، ایسا کیوں نا کریں کابینہ ممبر اور ججز بھی اگر دو دو تین تین دن جیل رہیں تو سمجھ سکیں گے کہ یہ کتنا مشکل ہوتا ہے،عدالت کس کو کہے کہ وہ تین چار دن جیل میں جا کر گزارے؟ آپ بتائیں نا کس کو تجویز کریں کہ وہ تین چار دن جیل کے اندر رہے پھر بتائے کیا چل رہا ہے-

باغی ٹی وی کی کامیابی کے دس برسوں کا سہرا مبشر لقمان کے سر۔خراج تحسین

چیف جسٹس نے کہا کہ اگر میڈیا کو جیلوں میں قیدیوں تک رسائی اور انٹرویوز کی اجازت دی جائے تو اس میں کیا خرابی ہے؟ میڈیا کو کیوں نا وہاں جانے دیا جائے تاکہ انفارمیشن سامنے آئے ڈائریکٹر جنرل نے کہا کہ میڈیا کو بھی شامل کر لیتے ہیں جو کمیٹی بنی ہوئی ہے-

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ایک قیدی کے خط کو پٹیشن میں تبدیل کر کے یہ سماعت کی ہے ہائی کورٹ نے ڈائریکٹر جنرل انسانی حقوق کو اس حوالے سے رپورٹ مرتب کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کیس کی سماعت 8 فروری تک ملتوی کردی۔

دیامیربھاشاڈیم کی تعمیرمیں حائل آخری بڑی رکاوٹ بھی دورہوگئی:پاکستان کامیابی سے آگے بڑھ رہاہے:عمران…

Facebook Notice for EU! You need to login to view and post FB Comments!