کوہستان ویڈیو سیکنڈل کیس، 5 ملزمان بری، تین کو عمر قید کی سزا

کوہستان ویڈیو اسکینڈل کیس،مقدمے میں گرفتار 5ملزموں کو بری کردیا گیا

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق 3ملزمان سائر،صبیراور عمر خان کو عمر قید کی سزا سنا دی گئی ،بری ہونے والوں میں سرفراز،محبوب الرحمان،عبدالرشید،شمس الرحمان اور حبیب اللہ شامل ہیں ،ملزمان کے خلاف 2012میں5لڑکیوں کے قتل کا مقدمہ درج تھا ،2012میں منظر عام پر آنے والی ویڈیو کا باقاعدہ مقدمہ2018میں درج کیا گیا ،مقدمے کا مرکزی ملزم شمس الدین کو پہلے ہی قتل کیا جا چکا ہے ،ایبٹ آباد کی مرکزی شاہراہ پر گامی اڈہ کے قریب واقع چلڈرن اسپتال روڈ پر فائرنگ سے کوہستان ویڈیو اسکینڈل کا مرکزی کردار افضل کوہستانی موقع پر ہی ہلاک ہو گیا جبکہ دو افراد زخمی ہوئے ہیں ۔

کوہستان ویڈیو اسکینڈل کیس میں8ملزمان کو گرفتار کیا گیا تھا،سپریم کورٹ کے حکم پر لڑکیوں کو قتل کرنے کا مقدمہ درج کیا گیا تھا

گرفتار ہونے والے چار ملزموں نے تین معصوم لڑکیوں کے قتل کا اعتراف کیا تھا ملزمان نے بازیغہ، سرین جان اور بیگم جان کو گولیاں مار کر قتل کیا اور لاشیں دریا چوڑ نالے میں بہا دیں .

2012 میں ضلع کوہستان کے گاؤں غدر پلاس میں ایک ویڈیو سامنے آئی تھی جس میں لڑکوں کا رقص دیکھتے ہوئے پانچ لڑکیوں کو تالیاں بجاتے ہوئے دکھایا گیا تھا، مبینہ طور پر مقامی جرگے کے فیصلے کی روشنی میں ان لڑکیوں کےقتل کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔

خیبر پختونخوا کی پولیس کے حکام یہ دعویٰ کرتے رہے تھے کہ شادی پر رقص کرنے والی لڑکیوں کو قتل نہیں کیا گیا بلکہ وہ زندہ ہیں تاہم اس واقعے کے تین سال کے بعد صوبائی پولیس نے تسلیم کر لیا تھا کہ ان لڑکیوں کو قتل کیا گیا ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.