fbpx

ویرات کوہلی کواپنی انا چھوڑ کر نوجوان کرکٹر کی زیرقیادت کرکٹ کھیلنے کا مشورہ

نئی دہلی: سابق کپتان کپیل دیو نے ویراٹ کوہلی کو مشورہ دیاکہ وہ اپنی انا چھوڑ کر نئے لیڈر کی زیرقیادت کھیلیں۔

باغی ٹی وی: کپیل دیو نے کہا کہ کوہلی ابھی مشکل وقت سے گزر رہے ہیں،انھیں بے تحاشا دباؤ کا سامنا ہوگا، انھوں نے اپنی مثال دیتے ہوئے کہا کہ سنیل گاوسکر نے میری زیرقیادت کرکٹ کھیلی اور پھر میں بھی کرشنم اچاری سری کانت اور اظہر الدین کی کپتانی میں ملک کی خدمت کرتے رہا،میری کوئی انا نہیں تھی۔

سابق کپتان نے مشورہ دیا کہ کوہلی کوبھی اپنی انا چھوڑ کر نوجوان کرکٹر کی زیرقیادت کھیلنا چاہیے۔

‏ویرات کوہلی ٹیسٹ ٹیم کی کپتانی سے مستعفیٰ،بھارتی میڈیا

واضح رہے کہ حال ہی میں بھارتی معرف کرکٹر ویرات کوہلی نے اعلان کیا تھا کہ وہ حال ہی میں ختم ہونے والی جنوبی افریقہ سیریز کے بعد ہندوستانی ٹیم کی ٹیسٹ کپتانی سے دستبردار ہو رہے ہیں وہ آئی پی ایل 2021 کے بعد رائل چیلنجرز بنگلور (RCB) کی کپتانی بھی چھوڑ چکے ہیں۔

کوہلی نے اعلان کیا تھا کہ وہ حال ہی میں ختم ہونے والی جنوبی افریقہ سیریز کے بعد ہندوستانی ٹیم کی ٹیسٹ کپتانی سے دستبردار ہو رہے ہیں۔ 33 سالہ کرکٹر نے ہفتہ کو سوشل میڈیا پیغام میں کہا تھا کہ ہندوستان کے ٹیسٹ کپتان کے طور پر ان کا 7 سالہ سفر اختتام پذیر ہو گیا ہے-

رپورٹ کے مطابق یہ غیر متوقع فیصلہ بھارت کے جنوبی افریقہ میں جنوبی افریقہ کے ہاتھوں 3 ٹیسٹ میچوں کی سیریز 1-2 سے ہارنے کے ایک دن بعد آیا ہے۔ ویرات کوہلی نے 2014 سے 2022 کے درمیان 68 ٹیسٹ میں ہندوستان کی قیادت کی اور ان میں سے 40 میچزمیں فتح حاصل کی۔ ویرات کی کپتانی کا دور 58.82 کی جیت کے فیصد کے ساتھ ہندوستان کے سب سے کامیاب ٹیسٹ کپتان کے طور پر ختم ہوا-

بھارتی کرکٹرکوفکسنگ کیلئے 40 لاکھ روپے کی پیشکش کا انکشاف

ویرات نے ٹوئٹر پر پیغام میں لکھا تھا کہ "ٹیم کو درست سمت میں لے جانے کے لیے 7 سال انتھک محنت کی میں نے کام پوری ایمانداری کے ساتھ کیا ہےہر چیز کو کسی نہ کسی مرحلے پر رک جانا ہے۔ ویرات کوہلی نے اپنی پوسٹ میں کہا تھا کہ میرا ہندوستان کے ٹیسٹ کپتان کے طور پریہ سفراختتام پذیر ہو گیا ہے اس میں بہت سے اتار چڑھاؤ اور کچھ نشیب و فراز بھی آئے ہیں، لیکن کبھی بھی کوشش ترک نہیں کی-

ویرات کوہلی نے اپنی پوسٹ میں کہا تھا کہ”میں نے ہمیشہ اپنے ہر کام میں اپنا 120 فیصد دینے پر یقین رکھا ہے، اور اگر میں ایسا نہیں کر سکتا تو میں جانتا ہوں کہ ایسا کرنا درست نہیں ہے۔ میرے دل میں بالکل واضح ہے اور میں اپنی ٹیم کے ساتھ بے ایمان نہیں ہو سکتا۔

نوواک جوکووچ کی ویزا بحال کرنے کی اپیل مسترد،عدالت کا ٹینس اسٹار کو ڈی پورٹ کرنے کا حکم