fbpx

اب ڈومور ختم،کوئی طاقت پاکستان کو آگے بڑھنے سے نہیں روک سکتی، وزیراعظم عمران خان

اب ڈومور ختم،کوئی طاقت پاکستان کو آگے بڑھنے سے نہیں روک سکتی، وزیراعظم عمران خان

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان تمام ممالک سے تعلقات بہتر کرنے کا خواہاں اور مصالحت کا کردار ادا کر رہا ہے، امداد کے لئے دوسروں کی جنگ میں کود کر ملک نے بہت نقصان اٹھایا، اب ہم دنیا کے ساتھ سیدھی بات کرتے ہیں اور ایسا وعدہ نہیں کرتے جو پورا نہ کر سکیں، ملک میں جمہوریت مستحکم ہو رہی ہے، ادارے ایک دوسرے کی عزت کرتے ہیں، اداروں میں مثالی ہم آہنگی پائی جاتی ہے، ملک میں عدم استحکام کی خواہش رکھنے والوں کو مایوسی ہوئی، پاکستان مشکل وقت سے نکل کر تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے اور کوئی طاقت اسے آگے بڑھنے سے نہیں روک سکتی۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو یہاں دو روزہ افریقی ممالک کے لئے پاکستان کے سفراءکی کانفرنس کی اختتامی نشست سے خطاب کر رہے تھے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہماری حکومت نے ملک میں میرٹ کو فروغ دیا ہے، ماضی میں میرٹ کی بجائے سیاسی بنیادوں پر لوگوں کی تقرریاں کی گئیں، ہم نے بیورو کریسی میں ترقیاں بھی میرٹ پر دیں اور تقرریاں میرٹ پر کیں۔ انہوں نے کہا کہ ہر ادارے میں میرٹ پر لوگوں کو لگائیں گے کیونکہ جس ملک میں میرٹ ہو وہی آگے جاتا ہے۔ انہوں نے اس سلسلے میں چین کی مثال دی جہاں میرٹ کے نظام کے ذریعے لوگ اوپر آتے ہیں۔

آرمی چیف کی مدت ملازمت، عدالتی فیصلہ کے بعد وزیراعظم کا انتہائی اہم بیان

ریاست مدینہ کی جانب ایک قدم اور،پناہ گاہ، احساس، دسترخوان کے بعد وزیراعظم لا رہے ہیں ایسا پروگرام کہ اپوزیشن بھی ہوئی حیران

وزیراعظم نے کہا کہ ساٹھ کی دہائی میں پاکستان کی بیورو کریسی میرٹ کی بنیاد پر کام کر رہی تھی، کھیلوں میں بھی وہی ٹیمیں آگے جاتی ہیں جو میرٹ پر منتخب کی جاتی ہیں ، جمہوریت کی خوبی ہی یہ ہے کہ اس میں میرٹ کی بیناد پر لوگوں کو لایا جاتا ہے جبکہ اس کے برعکس بادشاہت میں پسند و ناپسند کی بنیاد پر نظام چلتا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ مدینہ کی ریاست میں بھی جمہوری کلچر تھا۔ انہوں نے کہا کہ سمندر پار پاکستانیز ہمارا سب سے بڑا اثاثہ ہیں، شرح نمو جتنا مرضی بڑھ جائے اگر کرنسی نیچے جائے گی تو خسارہ بڑھ جائے گا اور کرنسی گرنے سے ہر چیز مہنگی ہو جاتی ہے، کرنٹ اکاﺅنٹ خسارہ بڑھنے سے ملک غریب ہو جاتے ہیں کیونکہ سرمایہ نہیں آتا، ہمارے لئے ہماری برآمدات اور ترسیلات زر کی بڑی اہمیت ہے، یہ ہماری معیشت کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے سمندر پار پاکستانیوں کا ہماری معیشت میں بڑا حصہ ہے، اس لئے ہماری سفارتکاری میں اس کی بڑی اہمیت ہے۔

کامیاب جوان پروگرام،20 روز میں کتنے لاکھ درخواستیں موصول ہوئیں؟ وزیراعظم کو بریفنگ

انہوں نے کہا کہ پریس اتاشیوں کا دوسرے ملکوں سے تعلقات میں کلیدی کردار ہوتا ہے۔ انہوں نے پریس اتاشیوں کو ہدایت کی کہ وزارت خارجہ سے رابطے میں رہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ ماضی میں افریقہ کو نظر انداز کیا گیا، قومیں بڑی سوچ کے ساتھ آگے بڑھتی ہیں، ساٹھ کی دہائی میں ہمارے اندر خود اعتمادی تھی اور ہماری بیورو کریسی کا مقابلہ دنیا میں کسی کے ساتھ بھی کیا جا سکتا تھا، پاکستان ہر میدان میں بہت ترقی کر رہا تھا، ہمارے سفارتکار، بیورو کریٹس اور افسران اعلیٰ صلاحیتوں کے حامل تھے اور دنیا میں ان کی صلاحیتوں کا اعتراف کیا جاتا تھا، آہستہ آہستہ وہ اعتماد ختم ہوتا گیا، اب ہمیں اسے واپس حاصل کرنا ہے اور اپنے مقام کو سمجھنا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ جب میں نیلسن منڈیلا سے ملا تو انہوں نے پاکستان کی بہت تعریف کی، وہ قائداعظم سے بہت متاثر تھے، ہم نے اپنی جگہ خود کھوئی ہے، اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو اہم جغرافیائی حیثیت دی ہے اور وسائل سے مالا مال کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی معیشت مستحکم ہو گئی ہے، پاکستانی روپے کی قدر اور سٹاک ایکس چینج میں، باوجود اس کے کہ عدم استحکام کی کوششیں کی گئیں، بہتری آئی ہے۔ وزیراعظم نے افریقہ پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ترکی کی مثال ہمارے سامنے ہے، ترکی بھی افریقہ میں گیا ہے، ہم نے بھی اپنی پوری کوششیں کرنی ہیں ، ہمارے سفارتکاروں میں بہت صلاحیت ہے، وہ خود کو مشن پر سمجھیں اور پاکستان کے لئے سرمایہ کاری اور تجارت کے مواقع لے کر آئیں۔

پاکستان میں داعش کا وجود نہیں، ہمسایہ میں داعش کی موجودگی پرتحفظات ہیں، پاکستان

مودی کے خلاف وزیراعظم عمران خان کا بڑا اعلان، کیا کہا؟ بھارت ہوا پریشان

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کی جو خارجہ پالیسی اب ہے، یہ بہت پہلے ہونی چاہیے، پاکستان کو کسی کے لئے استعمال نہیں ہونا چاہیے تھا اور ہمیں آزاد خارجہ پالیسی پر گامزن رہنا چاہیے تھا، لیکن ہم نے امداد کے لئے دوسروں کی جنگ میں کود کر بہت نقصان اٹھایا، اب ہم نے سب سے تعلقات بہتر کرنے ہیں، ایران سے ہم نے اپنے تعلقات بہتر کئے ہیں، سعودی عرب سے ہمارے تعلقات پہلے سے بہتر ہیں، ترکی اور ملائیشیا سے بھی تعلقات ہم نے مضبوط کئے ہیں۔ اب ہم فریق بننے کی بجائے ثالث کا کردار ادا کرنے کی کوشش کریں گے۔ افغان جنگ سے ہم نے بہت نقصان اٹھایا اور اس کے نتیجہ میں پاکستان کے حصے میں صرف بربادی آئی اور پاکستان پر دہرا کھیل کھیلنے کا الزام لگایا گیا۔ ماضی میں ڈو مور کے لئے دباﺅ کا سامنا کرنا پڑا، اب ہم سیدھی بات کرتے ہیں اور ایسا غلط وعدہ نہیں کرتے جو پورا نہیں کر سکتے، ماضی میں وہ وعدے کئے گئے جو ہم پورے نہیں کر سکتے تھے۔

وزیراعظم نے کہا کہ ملکی استحکام کو دھرنے اور مقدمے کے ذریعے عدم استحکام کا شکار کرنے کی کوشش کی گئی۔ دھرنے کے باعث کشمیر کا مسئلہ پس پشت چلا گیا، کشمیر کا معاملہ اس سے پہلے کبھی اس طرح نہیں اٹھایا گیا جس طرح اب اٹھایا جا رہا ہے، بھارت میں خوشیاں منائی گئیں اور عدم استحکام اور اداروں میں لڑائی کی خواہشات وابستہ کی گئیں، پاکستان کے مضبوط ادارے بھارت کو کھٹکتے ہیں، بھارت کی نسل پرست جماعت بی جے پی اور ملکی دولت لوٹ کر باہر رکھنے والے مافیا کو بڑی مایوسی ہوئی جو عدم استحکام کی توقع لگائے بیٹھے تھے تاکہ ان کا پیسہ اور لوٹی ہوئی دولت محفوظ رہے۔ پاکستان مشکل وقت سے نکل کر تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے اور کوئی طاقت پاکستان کو آگے بڑھنے سے نہیں روک سکتی۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.