کونسا قانون ہے جو پولیس کو نہتی عوام پر تشدد کا جواز فراہم کرتا ہے!!! از قلم: فہیم شاکر

فیصل آباد میں لاک ڈاون کی خلاف ورزی کرنے والے تُجّار پر پولیس کا تشدد، تھپڑ مارے، دھکے دیے
میرا سوال مگر یہ ہے کہ وہ کون سا اختیار ہے جو پولیس کو وردی پہننے سے مل جاتا ہے؟؟؟
وہ کون سا قانون ہے جو پولیس کو عوام پر تھپڑ برسانے کا اختیار دیتا ہے؟؟؟
وہ کون ہے جو پولیس کے جوانوں کو عام آدمی کو دھکے دینے پر اُکساتا ہے؟؟؟

ایک عام شہری قانون کی خلاف ورزی کرتا ہے تو اس پر سزا دینا بنتی ہے یا تشدد کرنا؟؟؟

آج جمعۃ المبارک 31 جولائی کا دن ہے شیخوپورہ کی معروف تجارتی جگہ گلی ککےزئیاں کے صدر انجمن تاجران رانا محمد عمران کے مطابق لاک ڈاون کی خلاف ورزی پر پولیس نے تحریک انصاف کے معذور کارکن یاسر اکرم پر چیخوں کے باوجود شدید تشدد کیا جس پر تاجر سراپا احتجاج بنے رہے اس موقع پر ڈی ایس پی سٹی خالد محمود بھی موجود تھے
لیکن جنگل کے قانون کے حامل اس معاشرے میں کوئی نہیں ہے جو پولیس سے اس کی محکمانہ خلاف ورزی پر سوال کرے
ستم بالائے ستم تو یہ ہے کہ تشدد کے شکار یا سراپا احتجاج بنے تُجّار کے پاس جا کر اشک شوئی کرنے والا بھی کوئی نہیں

میں پھر دہرانا چاہوں گا کہ کسی بھی قانون کی خلاف ورزی پر شہری کو سزا یا جرمانہ کرنا چاہیے نہ کہ اس کی تضحیک وتذلیل.
میں چند دن قبل صبح 7 بجے شاہدرہ چوک میں کھڑا تھا
بچوں کے ماموں انہیں شاہدرہ چھوڑنے اور میں انہیں وصول کرنے وہاں پہنچا تھا
اسی اثناء میں ٹریفک پولیس والے ڈیوٹی پر پہنچنا شروع ہو گئے
کاغذات واپسی سنٹر شاہدرہ میں موجود پولیس کے ایک نوعمر جوان نے مجھے تضحیک آمیز رویے کے ساتھ یوں بلایا
*اوئے مولوی! ادھر آ، جا وہاں سے پانی بھر کے لا*
میں ایک نظر اسے دیکھوں، ایک نظر اس کی وردی کو، اس کی جرآت پر مجھے حیرت سے زیادہ افسوس ہو رہا تھا کہ وردی پہننے کے بعد عوام انہیں کالانعام دکھائی دیتی ہے.
*یہ رہی عوام کی اوقات*
آپ میری بات سے ہزار بار اختلاف کیجیے لیکن یہ مانے بغیر چارہ نہیں کہ پولیس کے جوان اپنی وردی کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں جس سے عوام کے اندر سارے محکمے کے خلاف نفرت پیدا ہوتی ہے
اعلی حُکام کو اس طرف توجہ دے کر اس مسئلے کو حل کرانا ہوگا ورنہ قانون کی خلاف ورزی کرنے والے کو سزا سے پہلے تھپڑ اور دھکے دے کر اسے جرم کی راہ پر ڈالنے کی ساری ذمہ داری پولیس کے جوانوں پر ہی عائد ہوتی رہے گی

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.