fbpx

خیبرپختونخوا اسمبلی میں خواجہ سراؤں کی مالی معاونت کا بل پیش

پشاور: صوبائی حکومت کی جانب سے خیبرپختونخوا خواجہ سرا ویلفئیر انڈونمنٹ فنڈ بِل 2022 اسمبلی میں پیش کیا گیا ہے۔

باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق مجوزہ بل میں کہا گیا کہ مالی مشکلات سے دو چار خیبرپختونخوا کے خواجہ سراؤں کے لیے انڈونمنٹ فنڈ کے قیام کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

بل میں اس بات کا بھی اعادہ کیا گیا کہ فنڈز کے ذریعے حکومت خواجہ سراؤں کی فلاح و بہبود،مالی معاونت اور روزگار فراہم کرنے کی کوشش کرے گی جبکہ خواجہ سراؤں کو کاروبار کے لیے بلا سود قرضے بھی دیئے جائیں گے۔

بل کے تحت 6 ممبران پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی جائے گی جس کا مقصد خواجہ سراؤں کی فلاح و بہبود سے متعلق فیصلوں کی تعمیل کو یقینی بنانا ہوگا جس میں بالخصوص خواجہ سراؤں کی معاشی ضروریات بھی شامل ہیں۔

مجوزہ بل میں کیا گیا کہ حکومت کا مقصد خواجہ سراؤں کو مالی لحاظ سے مستحکم بنانا اور اپنے پاؤں پر کھڑا کرنا ہے۔

واضح رہے کہ خیبر پختونخوا ملک کا وہ پہلا صوبہ ہے جہاں خواجہ سراؤں کو شناختی کارڈ، پاسپورٹ، ڈرائیونگ لائسنس جیسے اہم اور بنیادی دستاویز جاری کیے گئے تھے-

پاکستان کی حکومت نے مئی سنہ 2018 میں خواجہ سراؤں کے تحفظ کے لیے قانون منظور کیا تھا جس کے تحت انھیں شناختی کارڈ، ڈرائیونگ لائسنس، پاسپورٹ بنوانے کا حق دینے کے ساتھ ساتھ گھر یا عوامی مقامات پر ہراساں کرنے کی ممانعت، تعلیم، خصوصی طبی سہولیات، زبردستی بھیک منگوانے پر پابندی اور جیلوں میں الگ بیرک میں رکھنے کا کہا گیا تھا۔

اس قانون کے تحت خواجہ سراؤں کو اپنی مرضی سے قومی ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) کے ریکارڈ میں اپنی جنس کی تبدیلی کا اختیار بھی دیا گیا تھا تاہم مذکورہ قانون میں جنس کےتبدیلی کی شق پرنہ صرف ملک میں مذہبی جماعتوں نے اعتراضات اُٹھائے بلکہ اسلامی نظریاتی کونسل نے بھی اس کو اسلام کے منافی قرار دیاموجودہ وقت میں یہ کیس وفاقی شریعت عدالت میں زیر سماعت ہے جس کے وجہ سے اس پر عملدرآمد نہیں کیا جا رہا۔

خیبرپختونخوا میں خواجہ سراؤں کے حقوق کے تحفظ کی پالیسی مرتب کرنے کے لیے سنہ 2015 میں سابق وزیر اعلیٰ پرویز خٹک نے سپیکر صوبائی اسمبلی مشتاق غنی کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دی تھی۔

خواجہ سراؤں کو بااختیار بنانے کی 47 صفحات پر مشتمل پالیسی 2021 کے مجوزہ مسودے میں صحت، تعلیم، معاشی، سماجی و معاشرتی تحفظ اور سیاسی عمل میں بلاامتیاز حصہ لینے کی بات کی گئی۔

حکومتی پالیسی کا مسودہ چھ حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے جن میں اسلامی و تاریخی پس منظر، کل آبادی معلوم کرنا، شناخت، متعلقہ ادارے کے ساتھ رجسٹریشن، رہائش، تشدد سے بچاؤ اور مفت صحت اور تعلیم کی بلا امتیاز سہولت فراہم کرنے کے ساتھ قانونی مسائل کے حل میں مفت مدد فراہم کرنا شامل ہے۔

اس مجوزہ پالیسی میں خواجہ سراؤں کو ہنر سکھانے، چھوٹے پیمانے پر کاروبار کے لیے بلاسود قرضے، سرکاری نوکریوں میں دو فیصد کوٹہ، بیمار اور بزرگ خواجہ سراؤں کو اشیائے خوردو نوش کی فراہمی کے ساتھ ماہانہ نقد وظائف شامل ہیں۔

اس کے ساتھ ساتھ خواجہ سراؤں کو ووٹ کے استعمال اور انتخابات میں حصہ لینے کا حق بھی دیا گیا۔ اس پالیسی کے تحت انھیں سیاسی اور سماجی اُمور کے لیے دفتر قائم کرنے کی اجازت شامل ہے۔