fbpx

غیر ضروری افراد کو دبئی ایکسپو لے جا کر خیبر پختونخوا حکومت نے چھ کروڑ سے زائد خرچ کر دیئے

غیر ضروری افراد کو دبئی ایکسپو لے جا کر خیبر پختونخوا حکومت نے چھ کروڑ سے زائد خرچ کر دیئے
مال مفت دل بے رحم، خیبر پختونخواہ حکومت کا ایک اور کمال سامنے آ گیا، دبئی ایکسپو میں غیر ضروری افراد کو مفت کی سیر کروا دی تا ہم عوام کے 6 کروڑ سے زائد خرچ کر دیئے

رواں برس ماہ جنوری میں ہونے والی ایکسپو میں خیبر پختونخواہ حکومت غیر ضروری افراد کو لے کر گئی، کے پی حکومت کی جانب سے ایکسپو میں جانے والے 106 افراد کی فہرست سامنے آئی ہے، جنہوں نے سرکاری خرچے پر ایکسپو میں شرکت کی، ان 106 افراد پر خیبر پختونخواہ کی صوبائی حکومت نے 6 کرورّ 65 لاکھ روپے خرچ کر دیئے

ناکے پر کیوں نہیں رکے؟ پولیس اہلکار نے شہری پر گولیاں چلا دیں

بارہ سالہ بچی کی نازیبا ویڈیو بنانے والا ملزم گرفتار

بزدار کا لاہور، ایک برس میں خواتین کے اغوا کے 680 مقدمے، 432 قتل

نیو ایئر نائٹ، پولیس ان ایکشن،سال کے پہلے روز ہی 260 مقدمے درج

خیبرپختونخوا اسمبلی میں بھی خیبر پختونخواہ حکومت کی عیاشیوں اور غیر ضروری خرچوں کی رپورٹ پیش کر دی گئی،ایکسپوپرسرکاری خرچ کی رپورٹ محکمہ صنعت و حرفت کی جانب سے خیبرپختونخو ا اسمبلی میں پیش کی گئی، رپورٹ کے مطابق ایکسپو میں 106 افراد نے شرکت کی، 6 کروڑ 65 لاکھ سے زائد روپے خرچ آیا دبئی ایکسپو میں وزرا، مشیر، بیورکریٹس کے ساتھ مختلف بینڈز کے درجنوں افراد بھی گئے ، غیر ضروری خرچوں اور غیر ضروری افراد دبئی ایکسپو لے جانے پر شہریون کی جانب سے خیبر پختونخواہ حکومت پر تنقید کی گئی اور کہا گیا کہ یوں لگتا ہے کہ اس حکومت کو عوام کا ذرا بھی احساس نہیں، فضول میں فنڈز اڑائے جا رہے ہیں، عمران خان جو کسی کو چائے تک نہیں پلاتے وہ دیکھیں انکی حکومت خیبر پختونخوا میں کیا کر رہی ہے،

خیبر پختونخواہ جہاں غربت کی وجہ سے لوگ خود کشیاں کر رہے ہیں، سیلاب آیا لوگ مر رہے ہیں لیکن حکومت نے ابھی تک عوام کو ریلیف دینے کے لئے کوئی خاطر خواہ اقدامات نہیں کئے، خیبر پختونخوا میں رواں برس کے پہلے سات مہینوں کے اندد 33 افراد نے خودکشی کی۔ گزشتہ سات ماہ کے دوران صوبے میں 688 افراد نے اقدام خودکشی کیا جن میں سے 33 جان کی بازی ہار گئے۔

خیبر پختونخواہ حکومت نے ہمیشہ انوکھے کام کئے، عوام کے لئے منصوبے بنائے گئے، فائلیں تیار ہوئیں، مارکیٹنگ کی گئی لیکن عملی طور پر کام کچھ نہ ہوا، خیبرپختونخوا میں غربت کے خاتمے کے منصوبے میں پسماندہ علاقوں کو نظر انداز کیا گیا،پسماندہ علاقوں کی رپورٹس مکمل بنا کر بھجوا دی گئیں تا ہم وہاں کام بالکل بھی نہیں ہوا، دستاویزات میں یہ بات سامنے آئی کہ مرغبانی کے منصوبے کے پہلے سال 19 اضلاع میں ایک مرغی بھی تقسیم نہ ہوئی، مہمند، وزیرستان، اورکزئی، دیر، چترال اور ایبٹ آباد مرغیوں کی تقسیم میں نظر انداز ہوئے طورغر،کوہستان ، بٹگرام اور شانگلہ کوبھی مرغیوں کی تقسیم میں نظر انداز کیا گیا