خیبر پختونخواہ میں پولیو کے بڑھتے ہوئے کیسز، حکومت نے بڑا فیصلہ کر لیا

خیبر پختونخواہ میں پولیو کے بڑھتے ہوئے کیسز کے حوالہ سے وزیراعلیٰ خیبر پختونخواہ کی زیر صدارت اجلاس ہوا

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخواہ کی زیر صدارت ہنگامی اجلاس ہوا جس میں وزیراعظم کے معاون برائے پولیو بابربن عطا نے بھی شرکت کی. اجلاس میں پولیو پر قابو پانے کے لیئے ہنگامی اقدامات کا فیصلہ کیا گیا. اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ڈی ایچ او لکی مروت اور ڈی ایچ او بنوں سمیت متعدد کو معطل کیا جائے گا جن کی ناقص کارکردگی سامنے آئی ہے. اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ پولیومہمات کے دوران محکمہ صحت کےاختیارات کمشنرزکو دئیے جائیں گے. آئندہ پولیومہم کےدوران انکاری والدین کےخلاف ایف آئی آرنہ کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے. محکمہ پولیس کوپولیوورکرزکی حفاظت یقینی بنانےکا بھی کہا گیا ہے. وزیراعظم کے معاون برائے پولیو بابر بن عطا کا کہنا ہے کہ پولیو کےخلاف پروپیگنڈاسےنہیں پیارومحبت سےجنگ لڑیں گے.

واضح رہے کہ بنوں ڈویژن کو پولیوسے متاثرہ علاقوں میں خطرناک ترین ڈویژن قرار دیا گیا ہے۔وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے انسداد پولیو بابرعطا نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ شمالی وزیرستان، لکی مروت اور بنوں میں پولیو کا تیزی سے پھیلنا تشویشناک ہے، مقامی افراد سمیت ہمارا اسٹاف بھی انسداد پولیو مہم کی راہ میں رکاوٹ بنا ہواہے جسے فوری طورپر روکنا ہے۔

پشاور میں ان سکولوں کے خلاف کاروائی کی گئی ہے جنہوں نے پولیو کے خلاف مہم چلائی تھی. ماہ اپریل میں چھ روزہ مہم کے دوران پشاور میں پولیو کے قطرے پلانے سے بچوں کی حالت غیر ہو گئی تھی جس پر صوبائی دارالحکومت کے تمام بڑے سرکاری ہسپتالوں میں ان بچوں کو لا یا گیا تھا جنہوں نے پولیو کے قطرے پئے تھے. اس واقعہ کے خلاف شہریوں نے احتجاج کیا تھا جبکہ ایک ہسپتال کو بھی آگ لگائی تھی. واقعہ کے بعد کمشنرپشاورکی سربراہی میں کمیٹی نے نجی اسکولوں کے خلاف کارروائی کی سفارش کی تھی۔ سیل کیے جانے والےا سکولوں میں دارالکلام ماڈل اسکول، اقراء اسکول،حال مارک اسکول، پشاور کیمبرج اسکول، مسلم اسٹینڈرڈ، آکسفورڈ پبلک اسکول پاین بریز اسکول شامل ہے۔ ان سکولوں کے خلاف کاروائی ڈپٹی کمشنر محمد علی اضغر کی ہدایت پر کی گئی ہے

انسداد پولیو مہم کی جانب سے سوشل میڈیا پر 495 اکاونٹ بند کرنے کی درخواست کی گئی تھی جن میں سے 257 اکاونٹ بند کر دئیے گئے. فیس بک پر 263 اکائونٹس بلاک کرنے کی درخواست پر 209 اکائونٹس بلاک کئیگئے۔ ٹویٹر پر 134 اکائونٹس بلاک کرنے کی درخواست پر 15 اکائونٹس بلاک کئے گئے ہیں. یو ٹیوب پر 88 بلاک کرنے کی درخواست پر اب تک 33 اکائونٹس بلاک کئے جا چکے ہیں۔ بابر بن عطا نے مزید کہا کہ جن اکائونٹس کو بند نہیں کیا گیا ان کے خلاف کارروائی کے لیے دوبارہ رابطہ کیا جائے گا۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.