fbpx

کچھ نے کہا چاند اسے کچھ نے تیرا چہرہ تحریر : وسیم اکرم

ہم سے تقریباً تین لاکھ چوراسی ہزار چار سو دو کلو میٹر دور موجود ایک آسمانی جسم جسے ہم چاند کہتے ہیں اتنا قریب ہے کہ تین سے چار دن میں ہم سپیس کرافٹ کے ذریعے پہنچ سکتے ہیں اور اتنا دور کہ ہم چاند اور زمین کے فاصلے کے درمیان تیس زمینیں رکھ سکتے ہیں۔۔۔

یہ وہ گول پتھر ہے جو لاکھوں سال سے انسانوں کا حسین ترین تصور ہے اور ہمارے پچپن میں یہاں بڑھیا چرخا کاٹا کرتی تھی اور آج بھی ہر انسان اپنی محبوبہ کی خوبصورتی کو چاند سے ہی تشبیہ دیتا ہے لیکن بیس جولائی انیس سو انہتر کو جب نیل آرمسٹرانگ اور بز ایلڈرن نے چاند پر قدم رکھا تو انہیں کوئی بڑھیا نظر آئی نہ ہی چاند اپنی محبوبہ جیسا خوبصورت نظر آیا۔۔۔

اس کے بعد بھی جتنے مشن چاند پر گئے انہیں کوئی بڑھیا نہیں ملی اور یوں سائنس نے ہم سے ہمارا خوبصورت بچپن ہمیشہ کیلئے چھین لیا۔ آج بھی دنیا کے کونے کونے میں چاند سے متعلق مختلف کہانیاں مشہور ہیں اور ہر انسان کو اپنی مرضی کا چہرہ بھی چاند میں نظر آتا ہے لیکن حقیقت میں یہ چاند پر پھیلا ہوا لاوا اور راکھ ہے۔۔۔

اکاون سال پہلے آرمسٹرانگ کی ٹیم اپنے ساتھ جمے ہوئے سرد لاوے کے کچھ ٹکرے زمین پر لائی تھی جس پر تحقیق سے پتہ چلا تھا کہ تین سے ساڑھے تین ارب سال پہلے چاند پر بےشمار آتش فشاں پٹھے تھے جنکا لاوا ہزاروں میل تک پھیل گیا تھا اور یہ جما ہوا لاوا زمین سے دھبوں کی شکل میں نظر آتا ہے۔۔۔

چاند پر موجود راکھ پر جب سورچ کی روشنی پڑتی ہے تو یہ چمک اٹھتی ہے اور ہر طرف چاندنی پھیل جاتی ہے۔ نیل آرمسٹرانگ نے جب نصف صدی پہلے چاند پر پہلا قدم رکھا تھا تو اس قدم کے نشاں آج بھی اس راکھ میں نقش ہیں جیسے ابھی کی بات ہو کیونکہ چاند پر ہوا، بادل یا بارش بلکل نہیں ہوتی کیونکہ وہاں چاند کے گرد ہماری زمیں کی طرح گیسوں کا غبارہ نہیں ہوتا۔۔۔

چاند کا اپنا کوئی اٹماسفیئر نہیں ہے اور یہی وجہ ہے کہ چاند پر انسانوں کے قدموں کے نشان لاکھوں، کروڑوں سال تک قائم رہیں گے لیکن ان قدموں کے نشان کے ساتھ ساتھ چاند پر ایک نام بھی نقش ہے۔ افسانوں میں بہت سے لوگ اپنی محبوبہ سے چاند تارے توڑ کے لانے کا وعدہ تو کرتے ہیں لیکن حقیقت میں ایک شخص نے اپنی بیٹی سے وعدہ کیا تھا کہ میں تمہارا نام چاند پر لکھ کر آؤں گا اور اس نے یہ وعدہ پورا بھی کیا۔۔۔

چاند پر جانے والے آخری مشن اپالو سیونٹین کا کمانڈر یوجین سرنن تین دن چاند پر رہا اور واپسی کے دوران اس نے چاند پر اپنی بیٹی ٹریسی کا نام لکھا یہ اس کیلئے ایک اعزاز تھا لیکن اس اعزاز کے ساتھ اسے اس بات کا دکھ بھی تھا کہ وہ اس وقت تصویر نہ بنا سکا۔۔۔

سچ بتائیے گا آپ میں سے کتنے لوگ ایسے ہیں جنہوں نے کبھی غور کیا کہ ہم کتنے سالوں سے چاند کی ایک ہی سمت کیوں دیکھ رہے ہیں؟ چودھویں کا چاند بھی ہر بار ایک ہی جیسا کیوں ہوتا ہے؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ چاند زمین پر گردش کرنے کے علاوہ اپنے محور کے گرد بھی گردش کرتا ہے لیکن زمین اور اپنے گرد ایک چکر پورا کرنے میں ایک جتنا ہی وقت لگاتا ہے یہی وجہ ہے کہ آج تک ہمیں چاند کی دوسری سمت نظر نہیں آئی اور اس عمل کو فیس لاک کہتے ہیں۔۔۔

لیکن چین کا روبوٹنگ سسٹم اب چاند کی دوسری سمت بھی لینڈ کرچکا ہے اور دوسری سمت اس سمت سے بہت ہی پیاری اور چمکدار ہے یعنی اگر کوئی شاعر چاند کی دوسری سمت کو دیکھ لے تو وہ ہمیشہ اپنی محبوبہ کو چاند کی دوسری سمت سے تشبیہ دے گا۔۔۔

@Waseemakrm_