کیا سی پیک رک چکا ، نئے چینی سفیر کس مشن پر آئے ، معاملہ گڑ بڑ.؟ مبشر لقمان کی اہم باتیں

کیا سی پیک رک چکا ، نئے چینی سفیر کس لیے آئے ، معاملہ گڑ بڑ….؟ مبشر لقمان کی اہم باتیں

باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی اور اینکر پرسن مبشر لقمان نےکہا میں اس وقت کراچی ہوں اور یہاں ہر کوئی یہ سوال کر رہا ہے کہ کیا سی پیک پر کام رک گیا ہے یا تاخیر کا شکار ہورہا ہے. اس کے جواب میں مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ غیر ملکی قرضے ، شرپسندوں کے حملے اور وبا نے سی پیک کو تاخیر کا شکار کیا ہے .اس کے علاوہ اور بھی کچھ عوامل ہیں جو در پردہ ہیںِ . انہوں نے کہا میں‌آپ کو بتادیتا ہوں کہ اس وقت سی پیک 62 ارب ڈالر کا سی پیک اور 8.6ارب ڈالر کا ایم ایل ون منصوبہ چل رہا ہے . اب اپوزیشن بھی یہ تنقید کرتی نظرآتی ہے کہ سی پیک کا منصوبہ رک گیا ہے .

2018 میں‌جب عمران خان کی حکومت اقتدار میں آئی تو کئی منصوبے روک لیے گئےکیونکہ حکومت کو شک تھا کہ اس میں کرپشن کی گئی ہے. اور کئی منصوبہ جات پر نظر ثانی کی گئی ، اور نئی شرائط پر چلایا گیا. انہوں نے کہا کہ ایس ای سی پی سیکیورٹی ایکسچینج کمیشن کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ آئی پی پیز کو 8.1 بلین کی ناجائز سبسڈی دی گئی . اس سے عمران خان کے اڈوائزر رزاق داؤد اور ندیم بابر بھی مستفید ہوئے. اور ان آئی پی پیز نے اڑھائی سالوں میں ساٹھ ارب لگا کر چار سو ارب کمالیے.

عمران خان نے چین جانے سے پہلے ایک سی پیک اتھارٹی بنائی تھی جو جون کے مہینے میں‌ تحلیل ہوگئی. اور پھر اکتوبر میں اس کو ایک سو بیس دن کے لیے رینیوکیا گیا . ایشیا ٹائمز نے پلاننگ منسٹری کے اک سورس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہےکہ عمران خان ی سی پیک میں سست رو سے چین پریشان ہو گیا ہے .اور اس نے آرمی کو سی پیک پورٹ فولیو دینے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ پرائیویٹ کرپشن سے بچ سکے . پھر چائنی حکام پریشان ہوگئے جب سی پیک اتھارٹی کے ایک اعلیٰ عہدیدار پر الزامات لگے. پھر چین کے صدر کا دورہ بھی ملتوی یا تاخیر کا شکار ہوگیااور اس کی وجہ یہ بتائی گئی کہ کرونا وبا کی وجہ سے تاخیر ہوئی . واشنگٹن مغرب کی طرف سے سی پیک پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے لیکن پاکستان اس دباؤ کو برداشت کرنے کے لیے آمادگی ، تیاری اور صلاحیت کا مظاہر ہ کررہا ہے.پاکستان کے اقتصادی پیش رفت سی پیک سے جڑے ہوئے ہیں‌اور سی پیک سے تاخیر کا کوئی آپشن نہیں‌ہوسکتا.

مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ اسی طرح ایم ایل ون منصوبے کی تکمیل میں‌بھی تاخیر ہور ہی ہے اور بڑی وجہ یہ ہے بلوچستان میں‌چینی حکام پر دہشت گردوں اور شرپسندوں کے حملے بڑھ رہے ہیں اور چینی حکام کو چوبیس گھنٹے سیکیورٹی فراہم کرنا بھی ایک مسئلہ جس وجہ سے لاگت بھی بڑھ رہی ہے اور پاکستان نے چین سے گزارش کی ہے کہ شرح سود میں کمی جائے اور اس سلسلے میں وزیر اعظم چینی صدر سے بات بھی کرنا چاہتے ہیں. پاکستان تمام مشکلات اور رکاوٹوں‌کے باوجود سی پیک مکمل کرنا چاہتا ہے جو پاکستان کے لیے معاشی شہ رگ اور چین کے لیے لائن کی حیثیت رکھتی ہے . اگلے سال تک اس ک اقتصادی پرایجیکٹ آپریشنل ہونا شروع ہو جائیں گے.

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.